متوقع تیسری عالمگیر جنگ سے پہلے ایک نئی ریاست کے قیام کا مطالبہ
ابابیل خیرالبشر موومنٹ کے چیئرمین اسد الحق قریشی نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ اسرائیل اور ٹرمپ کا جنگی جنون دنیا کو تیسری عالمگیر جنگ کی جانب دھکیلنے کی ہر ممکن کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ انہیں اپنے اسلحے کے لیے خریدار درکار ہیں۔ انسانیت کے دشمن ان جنونیوں کی وجہ سے تیسری عالمگیر جنگ کے اثرات متعدد ریاستوں کے عوام پر زیادہ اور حکومتوں پر کم ہی پڑیں گے اور اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں یتیموں، بیواؤں اور لاوارث لوگوں کی ایک کثیر تعداد دنیا کی انسانی ہمدردی اور امداد کے رحم و کرم پر ہو گی۔
ان حالات کے پیش نظر اسد الحق قریشی نے تجویز دی ہے کہ اس متوقع جنگ کے آغاز سے پہلے ایسے لوگوں کے لیے ایک پُرامن ریاست کے قیام کے لیے جگہ منتخب کی جائے اور اسے آباد کرنے لیے بنیادی انتظامات کیے جائیں۔
انہوں نے خصوصی طور پر مسلم حکمرانوں سے اپیل کی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ وہ اس تجویز پر ضرور غور کریں گے کیونکہ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ:
افسوس اِس بات کا ہے کہ یہودی بالکل ویسے ہی ہیں جیسے قرآن پاک میں اُن کا ذکر ہے۔
مگر ہم مسلمان اُس طرح نہیں رہے جس طرح قرآن پاک میں ہمارا ذکر ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق:
1906 سے پہلے کوئی اہل حدیث نہیں تھا۔ 1896 سے پہلے کوئی بریلوی نہیں تھا۔ 1867 سے پہلے کوئی دیوبندی نہیں تھا۔250 ہجری سے پہلے کوئی حنبلی نہیں تھا۔ 200 ہجری سے پہلے کوئی مالکی و شافعی نہیں تھا۔ 200 ہجری سے پہلے کوئی حنفی و جعفری نہیں تھا۔
دور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ادوار میں کوئی شیعہ سنی نہیں تھا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ میں صرف مسلم ایمان والے مسلمان تھے یا قرآن مجید کی سورۃ المنافقون کی روشنی میں منافقین تھے۔
ان منافقین نے ہی دین اسلام کی جڑیں کھوکھلی کرنے کا آغاز کیا اور یہود و نصاری کے ساتھ مل کر مسلمانوں کی صفوں میں داخل ہو کر انہیں خاموشی سے بہکانا شروع کیا اور گزرتے وقت کے ساتھ دین اسلام میں فرقوں کی صورت میں تقسیم در تقسیم کا ایسا عمل شروع کیا کہ آج مسلمان گروہ در گروہ اور طرح طرح کے فرقوں میں بٹ گئے اور اپنے ہی کلمہ گو بھائیوں پہ کفر کے فتووں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا جو آج بھی جاری ہے ایک کفار ہمیں مسلمان کہتے ہیں ورنہ کلمہ گو مسلمانوں کی پہچان صرف مسالک اور فرقوں کی صورت میں جانی جاتی ہے یعنی ہم سنی، شیعہ، دیوبندی، بریلوی، وہابی، اہل حدیث، قادری، چشتی، سلفی، قلندری، مولائی اور نہ جانے کس کس نام سے جانے جاتے ہیں کوئی ایک طبقہ، مسلک یا گروہ خود کو صرف “مسلمان” کہلانا گوارا ہی نہیں کرتا جبکہ قرآن مجید میں بھی واضح حکم اپنی پہچان صرف “مسلمان” کہلانے کا ہی حکم ہے جو کہ پچھلی امتوں کے لیے بھی مخصوص تھا۔
دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال میں جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ یہ جنگ آنے والے دنوں میں تیسری عالمگیر جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہے تو ایسے میں مسلم امہ کے لیے بہت بڑا لمحہ فکریہ پیدا ہو رہا ہے کہ کفر کی مقتدر قوتیں جب بھی مسلمانوں پر حملہ اور ہوتی ہیں تو وہ فرقوں مسالک کو مدنظر کبھی نہیں رکھتیں وہ صرف مسلم ریاست کے طور پر مسلم امہ کو اپنا نشانہ بناتی ہیں۔ تاریخ میں ایسی بیشمار مثالیں موجود ہیں۔
فلسطین، چیچنیا، شام، لبیا، عراق، افغانستان، سریہ، یمن ہوں یا برما کے روہنگیا مسلمان سب کو صرف مسلمان ہونے کی پاداش میں تباہی کی دلدل میں جھونکا گیا۔
دنیا بھر کے لاکھوں مسلمان آج بھی انتہائی کسمپرسی کی حالت میں ریفیوجی کیمپوں میں بھوک افلاس اور غربت کی مشکل ترین زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
ابابیل خیرالبشر موومنٹ کے چیئرمین اسد الحق قریشی نے اپنے خیالات و تجزیہ پیش کرتے ہوئے اس بات کی جانب امت مسلمہ کے حکمرانوں اور مخیر و صاحب استطاعت طبقوں کے لیے یہ تجویز پیش کی ہے کہ دنیا کے کسی مناسب خطے میں ایک الگ سے زمین لی جائے جہاں دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی بیواؤں، یتیموں، بزرگوں اور لاوارث افراد و بچوں کے لیے ایک الگ آزاد ریاست کی بنیاد رکھی جائے جہاں ان سب کو یکجا کر کے ان کی نہ صرف امداد کی جائے بلکہ انہیں روزگار کے مواقعوں کے ساتھ آسان زندگی دیگر انسانوں کی طرح جینے کے حقوق فراہم کیے جا سکیں۔
اس نئی ریاست میں نہ صرف مسلمانوں بلکہ دیگر مزاہب کے افراد کو بھی بسایا جائے یعنی یہ ریاست مذہب کی بنیاد پہ نہیں انسانیت کی بنیاد پہ قائم کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس ریاست کے قیام کے لیے اقوام متحدہ کے توسط سے مختلف ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں کرنے کی بھی کوشش کریں گے۔
اسد الحق قریشی نے اس بات کا بھی مطالبہ کیا ہے کہ دنیا کے ریفیوجی کیمپوں میں موجود لوگوں کو ریفیوجی کارڈ کے بجائے باقائدہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کیے جائیں تا کہ وہ بھی دیگر انسانوں کی طرح آزادانہ اپنی زندگی اور بہتر مستقبل کے لیے نارمل زندگی گزار سکیں اور بنیادی حقوق کی محرومی سے نجات پا سکیں۔
