قبضہ مافیا سرگرم ادارے خاموش تماشائی بنے رہے

قبضہ مافیا سرگرم ادارے خاموش تماشائی بنے رہے غریب انسان محنت کر کر کما کر اپنے گھر کو بناتا ہے اور قبضہ مافیا ان کےگھر میں قبضہ کر کے ہڑپ لیتے ہےغریب اپنے گھر کو بناتا ہے اور قبضہ مافیا ان کے مکانوں کو ہڑپ لیتے ہے اورنگی ٹاون کا علاقہ اورنگی ٹاؤن کا علاقہ گلشن ضیاء گلی نمبر دو کراچی مکان پر قبضہ شہباز صاحب نے اپنی فیملی کو گھر میں شفٹ کیا ہوا تھا جب انہوں نے دیکھا کہ گھر میں کچھ کام کرانا چاہیے تو انہوں نے اپنی فیملی کو کچھ دن کے لیے کرائے پر فیملی کو شفٹ کیا تاکہ وہ اپنے مکان کا کام کرا سکے اتنے میں قبضہ مافیہ طاہر شاہ اور دوسرا کلیم انصاری نے اس مکان پر قبضہ کر لیا جب شہباز صاحب نے یہ دیکھا کہ مکان پر قبضہ ہو گیا ہے تو یہ ان کے پاس گئے طائر شاہ اور کلیم انصاری نے ان کو جان سے مارنے کی دھمکی دی شہباز صاحب نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ان سے قبضے کو خالی کروایا اور اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ان سے قبضے کو خالی کروایا لیکن طاہر شاہ اور کلیم انصاری شہباز کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ مکان کو خالی کر دو نہیں تو آپ کو ہم جان سے مار ڈالیں گے اور ایک شخص کا ایکسیڈنٹ ہوا تو یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ شہباز صاحب نے مارا ہے لہذا میں شہباز تمام قانونی اداروں سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ ان کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے اور ان قبضہ مافیہ سے ہمیشہ کے لیۓ جان چھوڑائی جاۓ اور ان کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے اور ان قبضہ مافیا سے ہمیشہ کے لیے جان چھڑائی جائے تاکہ کسی غریب کے سر سے چھت نہ چینی جا سکے ایسے قبضہ مافیہ کو سیاسی سرپرستی بھی حاصل ہوتی ہے لہذا ہم قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ادارے اعلی حکام سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ ہماری جانوں کو محفوظ کرتے ہوئے ان سے چھٹکارا دلایا جائے رپورٹ محمد آصف قریشی اسسٹنٹ ڈائریکٹرہیلتھ اینڈ ایجوکیشن ای این آئی ایجنسی

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *