حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدرمحمد سلیم میمن نے چھوٹکی گھٹی اور الرحیم شاپنگ سینٹر میں واقع سندھ پولیس ویلفیئر فاؤنڈیشن کی جائیدادوں پر قائم دکانوں کو سیل کیے جانے پر تشویش

حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدرمحمد سلیم میمن نے چھوٹکی گھٹی اور الرحیم شاپنگ سینٹر میں واقع سندھ پولیس ویلفیئر فاؤنڈیشن کی جائیدادوں پر قائم دکانوں کو سیل کیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیمبر عدالتی احکامات، قانون کی بالادستی اور ریاستی اداروں کے احترام پر مکمل یقین رکھتا ہے، تاہم اس کارروائی کے نتیجے میں سینکڑوں تاجروں اور ان کے خاندانوں کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حیدرآباد چیمبر اس معاملے پر پہلے ہی وزیراعلیٰ سندھ کو تفصیلی خط ارسال کر چکا ہے جس میں سندھ پولیس ویلفیئر فاؤنڈیشن کی جائیدادوں سے متعلق کرایہ داری کے مسائل کے مستقل حل، شفاف پالیسی سازی اور متاثرہ کرایہ داروں کے جائز مفادات کے تحفظ کی درخواست کی گئی تھی۔ چیمبر نے اپنی سفارشات میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام اور مسئلے کے قابلِ عمل و متفقہ حل کی ضرورت پر بھی زور دیا تھا۔ سلیم میمن نے کہا کہ متاثرہ دکاندار کئی دہائیوں سے ان جائیدادوں میں کاروبار کر رہے ہیں اور ان میں سے اکثر باقاعدگی سے کرایہ ادا کرتے رہے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ قانونی تقاضوں کے ساتھ ساتھ انسانی اور معاشی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری چھوٹکی گھٹی اور الرّحیم شاپنگ سینٹر کے تاجر نمائندوں سے مسلسل رابطے میں ہے اور متاثرہ تاجروں کے جائز تحفظات کو متعلقہ حکام، حکومتِ سندھ اور دیگر اعلیٰ فورمز پر مؤثر انداز میں اٹھا رہا ہے۔ چیمبر اس مسئلے کے مستقل، منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے ہر ممکن آئینی، قانونی اور ادارہ جاتی معاونت فراہم کرتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ حیدرآباد چیمبر نے گزشتہ برس اور حال ہی میں بھی وزیرِاعلیٰ سندھ کو تفصیلی خطوط ارسال کرتے ہوئے اس مسئلے کے ممکنہ نتائج سے آگاہ کیا تھا اور سندھ پولیس ویلفیئر فاؤنڈیشن کی املاک کے لیے جامع پالیسی تشکیل دینے کی درخواست کی تھی، مگر بروقت پالیسی نہ بننے کے باعث آج سینکڑوں تاجر اور ان کے خاندان شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے حکومتِ سندھ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری مداخلت کرتے ہوئے اس معاملے کے پائیدار حل کے لیے عملی اقدامات کرے تاکہ کاروباری برادری میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہو اور متاثرہ خاندانوں کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *