صحافی قلم اور معاشرہ

تحریر طاہراشرف
صحافی قلم اور معاشرہ
صحافت وہ پیشہ ہے جس کے ذریعے حق و باطل کی پہچان ہوتی ہے مظلوم کی آواز بنتی ہے اور ظالم کے سامنے حق کا بول بولنے کی جرات پیدا ہوتی ہے۔ صحافی کا قلم محض سیاہی اور کاغذ کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی تلوار ہے جو معاشرے کے زخموں کو چیر کر دکھاتی ہے اور ان کا مداوا بھی تجویز کرتی ہے۔ مگر افسوس کہ آج کے دور میں اس مقدس پیشے کے ساتھ ایسے لوگ وابستہ ہو گئے ہیں جنہوں نے اس کے اعلیٰ مقاصد کو پسِ پشت ڈال کر اسے ذاتی مفادات، گروہ بندیوں اور بلیک میلنگ کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ایک حقیقی صحافی وہ ہوتا ہے جو عوام کے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھے۔ وہ معاشرے کے ہر طبقے کی آواز بنتا ہے، چاہے وہ کسی مزدور کی اجرت کا مسئلہ ہو کسی طالب علم کا تعلیمی بحران ہو، کسی مریض کا علاج نہ ملنا ہو یا کسی غریب کا پیٹ بھرنے کا سوال۔صحافی کا فرض ہے کہ وہ ان مسائل کو اجاگر کرے، حکمرانوں اور ذمہ داروں کو ان کی غفلت پر جھنجھوڑے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے اپنی تحریر کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرے۔ اس کا قلم ایسا ہونا چاہیے کہ جس سے محبت، اخوت، بھائی چارے اور فلاحِ عام کے جذبے کی خوشبو آئے، نہ کہ نفرت، انتشار اور گمراہی کے زہر کی بدبو۔اسلامی تعلیمات اور پاکستانی معاشرتی اقدار کے مطابق صحافی کو اپنے قلم کو امانت سمجھنا چاہیے۔ وہ جھوٹ افترا اور بہتان سے بچے، حق کو حق اور باطل کو باطل کہے، چاہے اسے اس کی کوئی ذاتی قیمت کیوں نہ چکانا پڑے۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں صحافیوں کی ایک بڑی تعداد اپنے فرائض سے غافل ہے۔ گروہ بندیوں نے صحافت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سیاسی لسانی، مذہبی اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم ہو جانے والے صحافی اپنی جماعت کی حمایت یا مخالفت میں اس قدر جذباتی ہو جاتے ہیں کہ وہ معروضیت اور حق گوئی جیسے بنیادی اصول بھول جاتے ہیں۔ ان کی تحریروں کا مقصد اب معاشرے کی اصلاح نہیں رہا، بلکہ اپنے گروپ کی بالادستی قائم کرنا اور مخالفین کو بے نیازی کرنا ہے۔اس سے بھی زیادہ خطرناک رجحان وہ ہے جہاں صحافت کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کچھ صحافی بلیک میلنگ کو اپنا پیشہ بنا لیتے ہیں۔ وہ کسی شخص، ادارے یا سیاست دان کی کمزوریوں کو اپنا نشانہ بناتے ہیں اور دھمکیاں دے کر پیسے یا مراعات حاصل کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو صحافت کے نام پر بزنس چلا رہے ہیں، جہاں خبریں خرید و فروخت ہوتی ہیں اور رائے کا اظہار ایک ایسا آلہ بن جاتا ہے جو جیبیں بھرنے کا کام دیتا ہے، نہ کہ ضمیر کو جگانے کا۔
یہ رویہ صحافت کے نام کو شدید بدنام کرتا ہے۔ جب عوام دیکھتی ہے کہ ایک صحافی اپنی تحریر کے ذریعے کسی کو بلیک میل کر رہا ہے کسی کی غلط معلومات پھیلا رہا ہے یا اپنی ذاتی دشمنی یا دوستی کا اظہار کر رہا ہے تو اس کا اعتماد صحافت سے اٹھ جاتا ہے۔ لوگ خبروں اور تجزیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتے ہیں اور پورے پیشے کو ایک دھندے کے طور پر لینے لگتے ہیں۔جب صحافت اپنا اصل مقصد کھو دیتی ہے تو معاشرے پر اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سب سے پہلا نقصان عوام کی آگاہی کا ہے۔ ایک غیر ذمہ دار صحافی عوام کو صحیح معلومات فراہم نہیں کرتا، جس کی وجہ سے لوگ غلط فیصلے کرتے ہیں، غلط سیاست دانوں کو سپورٹ کرتے ہیں اور اپنے بنیادی حقوق سے محروم رہ جاتے ہیں۔ دوسرا بڑا نقصان معاشرتی ہم آہنگی کا ہے۔ گروہ بندی اور متنازعہ رپورٹنگ نسلی، لسانی اور مذہبی فاصلے بڑھاتی ہے، جس سے معاشرے میں نفرت اور انتشار پھیلتا ہے۔ تیسرا نقصان حکمران اور ادارے غلط معلومات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی غلطیوں کو چھپا لیتے ہیں اور صحافیوں کی بلیک میلنگ کی وجہ سے خاموش رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جو جمہوریت اور احتساب کی بنیادوں کو کمزور کرتا ہے۔گر ہم صحافت کو ایک مقدس پیشے کے طور پر بحال کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ہر سطح پر کوشش کی ضرورت ہے۔ صحافی خود اپنے ضمیر کا جائزہ لیں اور سوچیں کہ وہ اس پیشے میں کیوں آئے۔ کیا ان کا مقصد خدمتِ خلق ہے یا صرف پیسہ اور شہرت؟ وہ اپنے گروہی تعصبات سے بالاتر ہو کر معاشرے کی فلاح کے لیے قلم اٹھائیں۔ اداروں اور میڈیا ہاؤسز کو اخلاقیات کے واضح ضابطے بنانے چاہئیں اور ان کی پاسداری کو لازمی قرار دینا چاہیے۔ بے قاعدہ اور غیر اخلاقی صحافیوں کا کوٹہ اور لائسنس منسوخ کیا جائے۔ عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ وہ صحافیوں کی تنقید کریں، انہیں جوابدہ بنائیں اور ایسی صحافت کو سپورٹ کریں جو معاشرے کی فلاح کے لیے کام کرتی ہو نہ کہ تقسیم اور مفاد کے لیے صحافی اور قلم کا رشتہ انتہائی مقدس ہے۔ یہ وہ رشتہ ہے جو معاشرے کو روشنی دیتا ہے، راستہ دکھاتا ہے اور بے آواز لوگوں کو آواز دیتا ہے۔ ہمیں اس رشتے کو ذاتی مفادات اور گروہ بندیوں کی دلدل میں نہیں ڈوبنے دینا چاہیے۔ ایک حقیقی صحافی وہی ہے جس کا قلم نہ تو کسی کی جیب کے لیے چلتا ہے اور نہ کسی کے ذاتی انتقام کے لیے، بلکہ جو معاشرے کی فلاح، انصاف اور امن کے لیے ہمیشہ حرکت میں رہتا ہے۔ آئیے ہم سب مل کر ایسی صحافت کو فروغ دیں جو معاشرے کا بگاڑ نہیں، بلکہ اس کا حسین اور مضبوط ستون بنے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *