
متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ کو طویل عرصے سے ایک اسٹریٹجک اثاثہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ خلیج عمان پر واقع ہے جبکہ امارات کا سب سے بڑا اور مصروف ترین بندرگاہ جبل علی، خلیج فارس کے اندر واقع ہے اور اس کا آنا جانا مکمل طور پر آبنائے ہرمز پر منحصر ہے۔یہی جغرافیائی پوزیشن فجیرہ کو ایک “لائف لائن” کا درجہ دیتی تھی، خاص طور پر جب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکیاں دی جاتی تھیں۔ اس صورت میں، امارات اپنی تیل کی برآمدات فجیرہ کے ذریعے جاری رکھ سکتا تھا۔ اس لیے فجیرہ کو ایک محفوظ پناہ گاہ، ایک “اسٹریٹجک پریشر ریلیف والو” کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔لیکن جب 2026 میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر پہنچی اور آبنائے ہرمز کی بندش تقریباً مستقل ہو گئی، تو تصور کیجیے کہ اگر کوئی آبنائے ہرمز کو بند کر دیتا ہے، تو تمام بحری جہاز جو خلیج فارس میں واقع بندرگاہوں تک نہیں پہنچ سکتے، وہ قدرتی طور پر فجیرہ کا رخ کریں گے۔ اور ایسا ہی ہوا۔ جبل علی بندرگاہ کی شرحِ کاروبار میں آ گئی، اور فجیرہ پر اچانک اتنا زیادہ بوجھ آ گیا کہ وہاں شدید بھیڑبھاڑ اور مسائل پیدا ہو گئے۔مزید برآں، جب فجیرہ واحد محفوظ راستہ بن گیا، تو یہ خود ایک ممکنہ ہدف میں تبدیل ہو گیا۔ مارچ 2026 میں، فجیرہ بندرگاہ کے قریب ایک ڈرون حملے میں آگ لگ گئی، جس کی وجہ سے تیل کی لوڈنگ معطل کرنی پڑی۔ اس واقعے نے ثابت کر دیا۔ بڑی شپنگ کمپنیاں، جنہوں نے پہلے خطرے کی وجہ سے جبل علی کا رخ کرنا چھوڑ دیا تھا، اب فجیرہ کے لیے بھی اپنی پالیسیوں کا جائزہ لینے پر مجبور ہو گئیں۔امارات اور اس کی بڑی شپنگ کمپنی، DP World نے اس صورتحال کو بخوبی سمجھ لیا اور ایک نیا منصوبہ شروع کیا۔ تاکہ اپنےمشرق میں صلاحیت کو بڑھایا جا سکے۔
یہ ایک دفاعی اقدام ہے۔ اس کا مقصد جبل علی کو تبدیل کرنا نہیں، بلکہ اس پر انحصار کم کرنا اور فجیرہ کو اتنا بڑا بنانا ہے کہ وہ بحری آمدورفت کا بوجھ سہہ سکے، اور برآمدات کو زمینی راستے سے دبئی اور باقی خلیجی ممالک تک پہنچایا جا سکے۔فجیرہ بندرگاہ کی کہانی ہمیں ایک اہم سبق دیتی ہے۔ ایک اسٹریٹجک پوزیشن آپ کو فائدہ دے سکتی ہے، لیکن جب حالات بدل جائیں، تو وہی پوزیشن آپ کو سب سے زیادہ خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ فجیرہ کی برتری، خطے کی غیر مستحکم صورتحال کی وجہ سے، اس کی سب سے بڑی کمزوری بن گئی۔ تاہم، امارات اس چیلنج کو موقع میں بدلنے کی کوشش کر رہا ہے، اور یہ دیکھنا دلچسپ ہو گا کہ یہ نئی حکمت عملی کتنی کامیاب ہوتی ہے۔