

53ویں کامن ٹریننگ پروگرام کے 37 افسران کا سندھ زرعی یونیورسٹی کا مطالعاتی دورہ
ٹنڈوجام (پریس ریلیز) 53ویں کامن ٹریننگ پروگرام (سی ٹی پی) کے BS-17 کے 37 زیرِ تربیت افسران نے سندھ کے مطالعاتی دورے کے سلسلے میں سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کا دورہ کیا، جہاں انہیں زرعی تعلیم و تحقیق، جدید زراعت، موسمیاتی تبدیلی، آبی وسائل کے انتظام، پائیدار زرعی ترقی اور غذائی تحفظ کے حوالے سے یونیورسٹی کے کردار سے آگاہ کیا گیا۔وفد کی قیادت ٹریننگ سینٹر کے ڈپٹی ڈائریکٹر اختر محمود، محمد اعجاز اور آفتاب اکرم چوہان نے کی۔ مطالعاتی دورہ سیکریٹریٹ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ (STI) اسلام آباد کے زیرِ اہتمام منعقد کیا گیا، جس کا مقصد زیرِ تربیت افسران کو ملک کے اہم سرکاری و تعلیمی اداروں کے عملی مشاہدے کا موقع فراہم کرنا اور گورننس، ادارہ جاتی روابط، علاقائی صورتحال اور سماجی و معاشی ترقی سے متعلق ان کی فہم میں اضافہ کرنا ہے۔اس سلسلے میں سندھ زرعی یونیورسٹی کے سینیٹ ہال میں تعارفی سیشن منعقد ہوا، جس کی صدارت وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کہا کہ سندھ زرعی یونیورسٹی اپنے قیام کے 50 سال مکمل کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے اور ملک کے زرعی تدریسی و تحقیقی اداروں کے علاوہ سرکاری و نجی شعبوں کیلئے تربیت یافتہ افرادی قوت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ یونیورسٹی زرعی اجناس، ویٹرنری، انفارمیشن ٹیکنالوجی، بینکنگ اور سماجی شعبے سمیت مختلف شعبوں میں بنیادی و اطلاقی تحقیق کے ذریعے بھی خدمات انجام دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مختلف وجوہات کے باعث پاکستان کی زرعی پیداوار اب بھی اپنی حقیقی صلاحیت کے مطابق نہیں، ملک کو جدید زرعی ٹیکنالوجی اپنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان ابھی درست اور ڈیٹا پر مبنی زراعتکے ابتدائی مرحلے میں ہے، جبکہ سمارٹ ایگریکلچر اور روبوٹک ایگریکلچر کے میدان میں بھی مزید پیش رفت کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر الطاف سیال نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود زرعی شعبے سے تقریباً 24 فیصد جی ڈی پی حاصل کر رہا ہے، اس لیے زرعی پیداوار میں اضافے، پانی کے بہتر استعمال، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے کیلئے مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔انہوں نے زیرِ تربیت افسران سے کہا کہ مستقبل قریب میں وہ مختلف سرکاری اداروں کی اہم ذمہ داریاں سنبھالیں گے، اس لیے انہیں اداروں کے نظام، عوامی مسائل اور ملکی معیشت کے بنیادی شعبوں کو سمجھ کر اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔وائس چانسلر نے کہا کہ سندھ زرعی یونیورسٹی کم آمدنی والے خاندانوں کے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کیلئے بھی کوشاں ہے اور کم سے کم فیس کے ذریعے معیاری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ڈین فیکلٹی آف کراپ پروٹیکشن و ایڈوائزر ڈائریکٹوریٹ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز ڈاکٹر عبدالمبین لودھی نے وفد کو یونیورسٹی کے تعلیمی پروگرامز، تحقیقی سرگرمیوں، انفراسٹرکچر اور مختلف شعبوں کی کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔رجسٹرار غلام محی الدین قریشی نے وفد کا استقبال کیا، جبکہ ایڈوائزر کوالٹی انہانسمنٹ سیل سلیم مسیح بھٹی نے میزبان کے فرائض انجام دیے۔اس موقع پر اختر محمود، محمد اعجاز اور مس فاطمہ نے سندھ زرعی یونیورسٹی کے تدریسی ماحول، تحقیقی سرگرمیوں، انفراسٹرکچر اور مختلف شعبوں میں کی جانے والی کاوشوں کو سراہتے ہوئے یونیورسٹی کو قومی سطح کی اہم جامعہ قرار دیا۔مطالعاتی دورے کے دوران وفد نے ہارٹیکلچر گارڈن، اسپورٹس کمپلیکس، ملیر ماڈل فارم، فیکلٹی آف کراپ پروٹیکشن کی مختلف لیبارٹریز اور دیگر تدریسی و انتظامی شعبہ جات کا دورہ بھی کیا۔زیرِ تربیت افسران کو پاکستان کے زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز، زرعی تعلیم و تحقیق، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زرعی طریقوں، آبی وسائل کے مؤثر انتظام، پائیدار زرعی ترقی، جدید زرعی ٹیکنالوجی اور ملک میں غذائی تحفظ کے حصول میں جامعات کے کردار کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔