پاکستانی سیاسی و معاشی عدمِ استحکام کا تسلسل اور گڈگورننس

میجر (ر) ساجد مسؔعود صادق نظامی

تاریخِ پاکستان کے طالبعلم کے نزدیک پاکستان میں تسلسل سے جاری سیاسی اور معاشی عدمِ استحکام کی کئی توجیہات ہوسکتی ہیں۔ لیکن اس سبجیکٹ کا کبھی سائنسی بُنیادوں پر جائزہ نہیں لیا گیا کہ پوری دُنیامیں پاکستان ہی واحدمُلک کیوں ہے جس میں نواسی سال سے یہ سلسلہ جاری ہے؟ اس کی  ابھی تک سب سے بڑی بڑی وجوہات جو سامنے آئے ہیں ان میں  قیام کے آغاز سے ہی کمزور معاشی بُنیاد اور سیاسی ڈھانچہ، انٹرنیشنل آرڈر کے پاکستان پر اثرات اور پاکستان کی بین الاقوامی سیاست  اور جنگوں میں مسلسل انوالومنٹ شامل ہیں۔ ان تینوں حقائق کی اہمیت اور حقانیت اپنی جگہ مُسلم  اور شک و شُبہ سے بالاتر ہے۔  ان حقائق سے جُڑی  سب سے اہم  حقیقت یہ ہے کہ  پاکستانی قیادت نواسی سال میں پاکستان کو نہ تو ایک مضبوط معاشی قوت بنا سکی ہے اور نہ ہی اسے کوئی ایسا گورننس سسٹم دے سکی ہے جس  کی وجہ سے پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک "جدید ماڈرن ڈیموکریٹک ریاست" کہا جاسکے۔ یہاں ضمناً اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ پاکستانی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو اس خرابی کا جو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے وہ بے بُنیاد ہے۔
یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا  آغاز سے ہی کمزور معاشی بُنیاد اور سیاسی ڈھانچہ کو دُرست کرنے کے لیئے نواسی سال کا عرصہ کم ہے؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا پاکستان کو وسائل کی  کمی  کاکوئی مسئلہ درپیش ہے؟ ایمانداری سے دیکھا جائے تو پاکستانی سیاسی قیادت اور سیاسی و مذہبی  پارٹیوں  نے پاکستان کو ایک مُلک سمجھنے کی بجائے اپنی جاگیر سمجھ رکھا ہے اور سیاسی پارٹیوں میں اعلٰی عہدے بھی جائیداد کی طرح ایک نسل سے دوسری نسل میں مُنتقل ہورہے ہیں۔ آل انڈیا  مُسلم لیگ، جمعیت علمائے ہنداور جماعت اسلامی تو پاکستان سے پہلے معرض وجودمیں آئیں لیکن  پیپلز پارٹی وہ واحد جماعت ہے جو قیام پاکستان کے بعد معرضِ وجودمیں آئی اور اب اس کی سیاست تیسری نسل میں مُنتقل ہوچُکی ہے۔ اسی طرح جمعیت علمائے ہند کی قیامِ  پاکستان کے بعدجو شکل نظر آتی ہے اُس کی قیادت بھی اب تیسری نسل میں مُنتقل ہوچکی ہے۔ پیپلز پارٹی کا شجرہ نسب  ذوالفقار علی بھٹو سے بے نظیر بھٹو اور اب بلاول بھٹو زرداری اور جمعیت علمائے پاکستان کا شجرہ نسب مُفتی محمود سے فضل الرحمٰن اور مولانا اسدمحمود  تک پہنچ چُکا ہے۔
 آل انڈیا مُسلم کی کئی شکلیں پاکستانیوں نے دیکھی ہیں جن میں پیر پگاڑا لیگ (سندھ کے پیر صاحب پگاڑا سے منسوب)، جونیجو لیگ (وزیراعظم جونیجو سے منسوب)،آل پاکستان مُسلم لیگ(جنرل مُشرف سے منسوب)،  قاف لیگ (چوہدری ظہورالہی کے ورثاء)  اور نون لیگ وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔ ان تمام لیگی برانچوں میں نون لیگ واحد جماعت ہے جو مقبول بھی ہے،  پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے پاکستان (ف)  کی طرح عرصہ دراز سے حکومتی ایوانوں میں قیامِ پاکستان سے پڑاؤ ڈالے بیٹھے ہیں۔ پاکستانی سیاست میں نووارد،  پی ٹی آئی  کی  پہلی نسل چل رہی ہے جبکہ جماعت اسلامی  واحد وہ جماعت ہے جس میں اعلٰی عہدے مؤورثیت کی بنا پر مُنتقل نہیں ہوئے۔ اسی طرح پاکستان میں کئی سیاسی خاندان ایسے ہیں جن میں اقتدار نسل در نسل مُنتقل ہوتا آرہا ہے۔ جہاں تک ملٹری رُولرز کی بات کی جائے تو جنرل ایوب کا خاندان  بلوچستان سے کے پی کے میں آباد ہوا جبکہ  جنرل یحیٰی کا خاندان ایران سے  کے پی کےآیا،جنرل ضیاء الحق اور جنرل مُشرف  کے خاندان بھارت سے بالترتیب پنجاب اور سندھ میں آکر مُستقل آباد ہوئے۔ 
کے پی کے پر خانان خاندان، پنجاب میں چوہدری، چیمے، چٹھے، گیلانی،ہاشمی، قریشی خاندان جبکہ بلوچستان میں مزاری، لاشاری، بُگٹی اور لغاری خاندان عرصہ دراز سے حکومتیں کرتے چلے آئے ہیں۔ سندھ میں خاندان تو بہت ہیں لیکن اس میں ٹاپ پر بھٹو خاندان ہی ہے جبکہ کراچی میں تارکین وطن کی جماعت پہلے مُہاجر قومی موومنٹ اور اب مُتحدہ قومی موومنٹ ایک عرصہ سے اقتدار سے چپکے ہوئے ہیں۔ کشمیراور گلگت بلتستان میں یہ کلچرنہیں جبکہ مذکورہ  پاکستان اور اس کے مُختلف علاقے مذکورہ خاندانوں کی سیاسی جاگیرمیں تبدیل ہوچُکے ہیں لہذا ان کو سیاست  اور حکومت سے باہر نکالنا ناممکن ہے۔ اس تمام تفصیل سے یہ  بھی ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کی آج جو موجودہ شکل ہے اسے کوئی بُرا سمجھے یا اچھا، انہی مذکورہ  خاندانوں  کی پرفارمنس کا نتیجہ ہے۔ ان خاندانوں کے مال ومتاع پاکستان اور پاکستانی عوام کی پتلی ربط نہیں رکھتے۔ مال و اقتداراور قومی فیصلوں کے ان مالکان  کی پرفارمنس سے پاکستانی عوام اگر مطمئن ہیں تو پھرٹھیک ورنہ پاکستانی  گورننس سسٹم میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔  
پاکستانی تاریخ  کے طالب علم کو پاکستانی سیاست مین اقرباء پروری،کرپشن، میرٹ کی دھجیاں، مہنگائی کا ایک طوفان اور  بُنیادی سہولتوں  اور ضروریاتِ زندگی کا قحط نظر آتا ہے اس کی وجوہات  وسائل اور ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ پاکستان کے وسائل ( بہترین جغرافیائی لوکیشن،  زمین کے نیچے دبے خزانے، چار موسم سمندر، پہاڑ دریا)  اور ٹیلنٹ (پچیس کروڑ کی آبادی، نوجوان نسل کا اچھا تناسب، نوجوانوں کا جوش و جذبہ) پاکستان پر برسائی گئی الہامی نعمتیں ہیں۔ کہنے کو باوردی حکمرانوں کو ڈکٹیٹرز کہاجاتاہے لیکن پاکستانی سیاسی پارٹیوں پر ایک نظر کرنے سے سمجھ آتا ہے کہ ان پارٹیوں کے اپنے کلچر میں جمہوریت نام کی کوئی چیز سرے سے موجود ہی نہیں۔  سیاسی حکومتوں اور ڈکٹیٹرز کی پرفامرمنس کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ پاکستان  میں ڈکٹیٹرشپ کے دوران پاکستان میں کبھی سیاسی یا معاشی عدم استحکام نہیں ہوا۔  انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب سے پہلے  پاکستانی سیاست پر قابض ان حکمران خاندانوں کے لیئے کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن اب پاکستانی عوام کی فرسٹریشن دن بدن بڑھتی چلی جارہی ہے۔ دُنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے گورننس کے ڈھانچے کا اگر مطالعہ کیا جائے تو چھوٹے صوبے اورچھوٹی انتظامی یونٹس عوامی فلاح کے لیئے زیادہ کارگر نظرآتے ہیں۔   مرکزی حکومت میں شامل دو بڑی سیاسی جماعتوں (نون لیگ اور پیپلز پارٹی) کو یہ ادارک کرنے کی ضرورت ہے کہ مزید صوبوں کاقیام ہی گڈ گورننس لاسکتا ہے جس کے لیئے مزید صوبوں کا قیام ان پارٹیوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ مزید صوبوں کا قیام ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی کوئی نئی چالنہیں بلکہ یہ وقت کی ضرورت ہے۔ ملٹری میں شخصی راج یا مؤورثیت نہیں یہاں میرٹ پر لوگ اوپر جاتے ہیں اور ماتحت لوگ اپنے بالا کمانڈرز کے اشاروں پرجان بھی اسی لیئے دیتے ہیں کہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ اُن کی قیادت اُن سے مخلص اور صرف مُلکی مُفاد کو سب مُفادات پر مقدم رکھتی ہے۔ اگر نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت جمہوریت پر یقین رکھتی ہیں تو انہیں عرصہ دراز سے اقتدار میں لانے والے   جمہور سے بھی مشورہ کرلینا چاہیئے۔  اس سے قبل کے عوامی ری ایکشن انتہاء کو پہنچ جائے  دونوں پارٹیوں کو عوامی رائے کے احترام اور اُن کے حقوق کے سامنے سر جُھکا دینا چاہیئے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *