
عقلِ سلیم
عورت کب اپنے مقام کو پہچانے گی؟
رائٹر: سید سلیم شہزاد جیلانی
آج کا موضوع شاید بہت سے لوگوں کو تلخ لگے، شاید کچھ لوگ اسے عورت کے خلاف سمجھیں، مگر عقلِ سلیم کا مقصد کسی جنس کی تضحیک نہیں بلکہ معاشرے کے اس بگاڑ پر سوال اٹھانا ہے جسے ہم دیکھ تو رہے ہیں، مگر اس پر بات کرنے سے گھبراتے ہیں۔
عورت معاشرے کی بنیاد ہے۔ وہ ماں بن کر نسلیں سنوارتی ہے، بہن بن کر رشتوں کو جوڑتی ہے، بیٹی بن کر گھر کی رونق بنتی ہے اور بیوی بن کر ایک خاندان کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اسی لیے جب عورت اپنے کردار، حیا اور ذمہ داری کو سمجھتی ہے تو ایک گھر سنورتا ہے، اور جب مرد اپنی ذمہ داری بھولتا ہے تو بھی ایک گھر تباہ ہوتا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا آج ہم دونوں اپنے اپنے مقام سے ہٹ نہیں رہے؟
موبائل فون نے دنیا کو ہماری جیب میں بند کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا نے ہر شخص کو اپنی زندگی کا نمائش خانہ دے دیا ہے۔ غیر ضروری چیٹنگ، خفیہ تعلقات، نامناسب تصاویر، جھوٹی محبتیں اور چند لمحوں کی توجہ نے بہت سے لوگوں کو اپنے اصل رشتوں سے دور کر دیا ہے۔
پھر جب گھر میں سوال اٹھتا ہے تو کبھی شوہر کو ظالم قرار دے دیا جاتا ہے، کبھی بیوی کو بے وفا کہا جاتا ہے، اور کبھی بچوں کو بھی اس جنگ کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔
عقلِ سلیم یہاں رک کر پوچھتی ہے: الزام لگانے سے پہلے حقیقت کہاں ہے؟
اگر ایک عورت اپنے شوہر پر یہ الزام لگاتی ہے کہ وہ اسے مارتا ہے، نشہ کرتا ہے یا کسی غیر عورت سے ناجائز تعلق رکھتا ہے تو اس الزام کو صرف اس لیے جھوٹا نہیں کہا جا سکتا کہ الزام لگانے والی عورت ہے۔ اگر ظلم ہے تو اس کے خلاف آواز اٹھانا اس کا حق ہے اور اسے تحفظ ملنا چاہیے۔
لیکن اگر الزام صرف اپنے کسی غلط عمل کو چھپانے کے لیے لگایا گیا ہے تو پھر یہ صرف شوہر کے ساتھ زیادتی نہیں بلکہ پورے خاندان کے ساتھ ظلم ہے۔اسی طرح اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کے ہر قدم پر شک کرے، اسے مارے، ذلیل کرے، اس کے جائز حقوق سلب کرے اور پھر ہر غلطی کا ذمہ دار عورت کو قرار دے تو یہ بھی اصلاح نہیں، ظلم ہے۔
اسلام نہ عورت کو بے لگام آزادی دیتا ہے اور نہ مرد کو ظلم کا لائسنس۔اسلام دونوں کو کردار، حیا، ذمہ داری اور حقوق کا پابند بناتا ہے۔سب سے خطرناک صورت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب میاں بیوی کے اختلافات میں اولاد کو ہتھیار بنا لیا جاتا ہے۔ بچے ماں اور باپ دونوں سے محبت کرتے ہیں۔ انہیں ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنا ان کے ذہن اور مستقبل دونوں کو زخمی کرتا ہے۔
اور جب کسی باپ پر اپنی بیٹی یا سوتیلی بیٹی کے حوالے سے کوئی سنگین الزام لگے تو معاشرے کو دو انتہاؤں سے بچنا ہوگا۔نہ بچے کی شکایت کو صرف خاندانی عزت کے نام پر دبایا جائے، نہ کسی شخص کو صرف ایک الزام کی بنیاد پر مجرم قرار دے دیا جائے۔
تحقیق ہوگی، تحفظ ہوگا، قانون حرکت میں آئے گا اور حقیقت سامنے آئے گی۔یہی انصاف ہے۔سوشل میڈیا کی عدالت انصاف نہیں کرتی؛ وہاں ایک پوسٹ چند منٹ میں کسی کو مجرم، کسی کو مظلوم اور کسی کو بدکردار بنا دیتی ہے۔ہمیں یہ رویہ بدلنا ہوگا۔ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ بعض مرد بھی شادی کے بعد اپنی بیوی کو انسان نہیں بلکہ ملکیت سمجھنے لگتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بیوی کے ہر فیصلے پر ان کا حق ہے، لیکن اپنے فرائض بھول جاتے ہیں۔
یہ رویہ بھی خاندان توڑتا ہے۔
بیوی شوہر کی غلام نہیں اور شوہر بیوی کا دشمن نہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے ذمہ داری ہیں۔عورت کے لیے حیا ضروری ہے تو مرد کے لیے بھی نگاہ کی پاکیزگی ضروری ہے۔عورت کے لیے وفاداری ضروری ہے تو مرد کے لیے بھی وفاداری ضروری ہے۔عورت پر الزام لگانا آسان ہے، مگر مرد کو اپنے کردار کا حساب بھی دینا ہوگا۔
اور عورت اگر اپنے شوہر پر جھوٹا الزام لگاتی ہے تو اسے بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک جھوٹا الزام کسی انسان کی عزت، روزگار، رشتے اور پوری زندگی تباہ کر سکتا ہے۔
عقلِ سلیم کا سوال دونوں سے ہے۔کیا تم اپنے حقوق مانگنے سے پہلے اپنے فرائض ادا کرتے ہو؟کیا تم دوسرے کے کردار پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے کردار کو آئینے میں دیکھتے ہو؟
کیا تم اپنے بچوں کو سچائی سکھا رہے ہو یا انہیں اپنے جھگڑوں کا ہتھیار بنا رہے ہو؟
کیا تم موبائل کو استعمال کر رہے ہو یا موبائل تمہیں استعمال کر رہا ہے؟
اور سب سے بڑا سوال:
کیا ہماری آزادی ہمیں کردار دے رہی ہے یا کردار ہم سے آزادی چھین رہا ہے؟
عورت اگر اپنے وقار، حیا اور عزت کو پہچان لے تو اسے کسی غیر کی توجہ کی ضرورت نہیں رہتی۔مرد اگر اپنی ذمہ داری پہچان لے تو اسے اپنی بیوی کی عزت چھیننے کی ضرورت نہیں رہتی۔ماں اگر اپنی اولاد کی تربیت کرے تو اسے کل عدالتوں میں اپنے بچوں کے کردار کی شکایتیں نہیں سننی پڑیں گی۔اپ اگر بیٹی کو اعتماد، دین، اخلاق اور شعور دے تو وہ دنیا کے فریب سے بہتر انداز میں مقابلہ کر سکے گی۔یہ کالم عورت کے خلاف نہیں؛ یہ بے حیائی، ظلم، جھوٹ، ناجائز تعلقات، تشدد اور جھوٹے الزامات کے خلاف ہے۔عورت کو چادر اور چار دیواری کا شعور چاہیے، مگر مرد کو بھی اپنی نگاہ اور کردار کی چادر سنبھالنی ہوگی۔عورت کو اپنے جسم کی حرمت کا خیال رکھنا ہوگا، مگر مرد کو بھی دوسروں کی حرمت کا احترام کرنا ہوگا۔ اور دونوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ گھر صرف دیواروں سے نہیں بنتا، اعتماد، وفاداری، حیا، محبت اور حقوق کی ادائیگی سے بنتا ہے۔آج اگر ہم نے اپنے گھروں میں یہ سوال نہ اٹھایا تو کل شاید ہمارے پاس بڑے بڑے گھر ہوں گے، مگر ان گھروں میں رہنے والے ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوں گے۔طلاق بڑھنے کا صرف ایک سبب تلاش کرنا آسان ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔کبھی ظلم گھر توڑتا ہے، کبھی بے وفائی، کبھی نشہ، کبھی معاشی مسائل، کبھی سوشل میڈیا، کبھی عدم برداشت اور کبھی جھوٹے الزامات۔ اس لیے فیصلہ ایک جنس کے خلاف نہیں، ہر غلط کردار کے خلاف ہونا چاہیے۔ اے عورت! اپنی عزت کو پہچان، اپنی حیا کو کمزوری نہ سمجھ، اپنی اولاد کی تربیت کو معمولی نہ جان اور وقتی جذبات کے لیے اپنے مستقبل کو داؤ پر نہ لگا۔
اے مرد! اپنی طاقت کو ظلم نہ بنا، اپنی بیوی کو عزت دے، اپنی6 اولاد کو اعتماد دے اور اپنے کردار کا بھی حساب دے۔اور اے معاشرے!
کسی عورت کو صرف عورت ہونے کی وجہ سے مجرم نہ سمجھ، اور کسی مرد کو صرف مرد ہونے کی وجہ سے بے قصور بھی نہ سمجھ۔ حقیقت تلاش کرو، تحقیق کرو، انصاف کرو۔کیونکہ معاشرے اس وقت تباہ نہیں ہوتے جب چند لوگ غلطی کرتے ہیں؛ معاشرے اس وقت تباہ ہوتے ہیں جب غلطی کو غلط کہنے والے خاموش ہو جاتے ہیں۔
عقلِ سلیم کہتی ہے:
اپنا گھر بچانا ہے تو پہلے اپنا کردار بچاؤ۔اپنی اولاد بچانی ہے تو پہلے اپنی تربیت بچاؤ اور معاشرہ بچانا ہے تو عورت اور مرد دونوں کو اپنے اپنے مقام، حدود اور ذمہ داریوں کو پہچاننا ہوگا۔