حیدرآباد میں لیگل ایڈ سوسائٹی، UNFPA، OSPC اور ریفرل پارٹنرز کے اشتراک سے چار روزہ تربیتی پروگرام اختتام پذیر

*حیدرآباد میں لیگل ایڈ سوسائٹی، UNFPA، OSPC اور ریفرل پارٹنرز کے اشتراک سے چار روزہ تربیتی پروگرام اختتام پذیر*

*ایس ایس پی حیدرآباد شاہزیب چاچڑ* کی ہدایات پر لیگل ایڈ سوسائٹی (LAS)، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (UNFPA)، ون اسٹاپ پروٹیکشن سینٹر (OSPC) اور دیگر ریفرل پارٹنرز کے اشتراک سے پولیس ہیڈکوارٹرز حیدرآباد میں منعقدہ چار روزہ کثیرالجہتی تربیتی پروگرام اختتام پذیر ہوگیا۔

15 سے 18 ستمبر تک جاری رہنے والے تربیتی پروگرام کا مقصد صنفی تشدد، جنسی جرائم اور حساس نوعیت کے مقدمات میں متاثرین کے تحفظ، مؤثر ریفرل، قانونی معاونت، کیس مینجمنٹ اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانا تھا۔

تربیتی پروگرام میں سندھ پولیس، OSPC، وومین اینڈ چائلڈ پروٹیکشن سیل، GBV سیل، اسپیشل سیکشوئل آفنسز انویسٹی گیشن یونٹ، پراسیکیوشن، محکمہ ترقیِ نسواں، محکمہ سماجی بہبود، سندھ چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی، ڈائریکٹوریٹ آف ہیومن رائٹس، ریسکیو 1122 اور میڈیکو لیگل سروسز سمیت مختلف اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔

چار روزہ تربیتی پروگرام کے دوران متاثرین کے ساتھ حساس رویے، قانونی حقوق، Anti-Rape Act 2021 اور متعلقہ قوانین، شواہد کے تحفظ، OSPC کے SOPs، ریفرل و فالو اَپ میکنزم، Survivor-Centred Service Delivery اور حساس معلومات کے تحفظ سے متعلق اہم سیشنز منعقد کیے گئے۔

تربیتی پروگرام کی تنظیم و رابطہ کاری ایڈووکیٹ دانش احمد سومرو، صوبائی جسٹس ہب لیڈ، لیگل ایڈ سوسائٹی نے کی، جبکہ مختلف سیشنز میں محترمہ ارحم سرور، محترمہ فرح خان یوسفزئی اور مسٹر سرتاج عباسی (UNFPA) نے بطور ٹرینرز/فیسلیٹیٹرز شرکت کی۔

اس موقع پر ایس ڈی پی او کینٹ پارس بکھرانی، مسٹر ونود کمار سونی، ڈی ایس پی لیگل حیدرآباد رینج سمیت دیگر افسران و نمائندگان بھی شریک ہوئے۔

ایس ایس پی حیدرآباد شاہزیب چاچڑ کی ہدایات پر اختتامی تقریب کے موقع پر ایس ڈی پی او کینٹ پارس بکھرانی نے چار روزہ تربیتی پروگرام کے منتظمین، ٹرینرز اور شرکاء میں اسناد تقسیم کیں۔

پروگرام کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ متاثرین کو انصاف، تحفظ اور قانونی معاونت کی فراہمی کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ، بروقت ریفرل اور مربوط نظام کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *