نئے ریٹرن فارمز اور آئی آر آئی ایس مسائل کے باعث 30 ستمبر کی ڈیڈ لائن میں ایک ماہ توسیع کی جائے:
محمد سلیم میمن، صدر حیدرآباد چیمبر
حیدرآباد( ) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد سلیم میمن نے وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو اور چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیکس ایئر 2026 کے انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے کی آخری تاریخ میں کم از کم ایک ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اسے 31 اکتوبر 2026 تک بڑھایا جائے، تاکہ ٹیکس دہندگان، تاجر برادری اور ٹیکس کنسلٹنٹس کو نئے ریٹرن فارمز، اضافی معلومات اور ڈسکلوژر کے تقاضوں اور آئی آر آئی ایس پورٹل کو درپیش تکنیکی مسائل کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات پر قابو پانے اور بروقت ٹیکس کمپلائنس یقینی بنانے کے لیے مناسب وقت مل سکے۔ سلیم میمن نے کہا کہ رواں سال ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کا عمل گزشتہ سالوں کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ہوگیا ہے۔ ٹیکس ایئر 2026 کے حتمی الیکٹرانک ریٹرن فارمز 2 ستمبر 2026 کو نوٹیفائی کیے گئے، جس کے بعد ٹیکس دہندگان اور ان کے ٹیکس کنسلٹنٹس کے پاس حتمی فارمز کو سمجھنے، مطلوبہ معلومات اور دستاویزات جمع کرنے، مالی ریکارڈز کی جانچ پڑتال، ویلتھ اسٹیٹمنٹ کو ریٹرن کے ساتھ ری کنسیل کرنے اور درست ریٹرن جمع کرانے کے لیے بہت محدود وقت رہ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس رولز کے رول 34A کے تحت ریٹرن فارمز کی تیاری، جانچ اور حتمی شکل دینے کے لیے باقاعدہ طریقہ کار اور ٹائم لائن مقرر ہے، جس کے تحت حتمی ریٹرن فارم 31 جنوری تک آئی آر آئی ایس پورٹل پر دستیاب ہونا چاہیے۔ ایسے میں جب حتمی ریٹرن فارمز مقررہ وقت کے بجائے سال کے اختتامی مرحلے کے قریب دستیاب ہوں تو ٹیکس دہندگان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ نئی ضروریات کے مطابق مکمل، درست اور قابلِ تصدیق ریٹرنز معمول کی آخری تاریخ تک جمع کرا دیں گے، عملی مشکلات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔صدر چیمبر نے کہا کہ ٹیکس ایئر 2026 کے ریٹرن میں معلومات اور ڈسکلوژر کے تقاضوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث خصوصاً تاجروں، کاروباری افراد، ایس ایم ایز اور دیگر ٹیکس دہندگان کو اپنے مالی معاملات، اثاثوں، آمدنی، اخراجات اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ کی معلومات کو مکمل طور پر مرتب، جانچ اور تصدیق کرنے کے لیے اضافی وقت درکار ہے۔ ایف بی آر کے نظام کے مطابق ویلتھ اسٹیٹمنٹ کی مناسب ری کنسیلی ایشن کے بغیر ریٹرن کی کامیاب تکمیل ممکن نہیں، اس لیے صرف آخری تاریخ مقرر کردینا کافی نہیں بلکہ فائلنگ کے لیے مؤثر اور قابلِ عمل نظام اور مناسب وقت کی فراہمی بھی ضروری ہے۔ سلیم میمن نے کہا کہ ٹیکس دہندگان اور ٹیکس کنسلٹنٹس کی جانب سے آئی آر آئی ایس پورٹل پر تکنیکی اور عملی مشکلات کی شکایات بھی سامنے آرہی ہیں۔ لاگ اِن کے مسائل، مختلف مراحل پر ایرر میسیجز، ریٹرن کی ویلیڈیشن اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ کی ری کنسیلی ایشن سے متعلق مشکلات کے باعث متعدد ٹیکس دہندگان اپنی کوششوں کے باوجود بروقت ریٹرن مکمل اور جمع نہیں کرا پا رہے۔ ایسی صورتحال میں 30 ستمبر کی موجودہ آخری تاریخ پر سختی سے عمل درآمد ٹیکس دہندگان کو غیر ضروری دباؤ اور ممکنہ جرمانوں کا سامنا کرا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، دستاویزات کو بہتر بنانے اور ڈیجیٹل ٹیکس نظام متعارف کرانے کے مقاصد اسی وقت کامیاب ہوسکتے ہیں جب ٹیکس دہندگان کو ایک مؤثر نظام، واضح تقاضے اور مناسب وقت فراہم کیا جائے۔ جلد بازی میں جمع کرائے گئے نامکمل یا غلط ریٹرنز کے بجائے حکومت کے مفاد میں یہ ہے کہ ٹیکس دہندگان کو مناسب مہلت دی جائے تاکہ وہ مکمل، درست اور قابلِ تصدیق معلومات کے ساتھ اپنے ریٹرنز جمع کرا سکیں، جس سے ایف بی آر کو بھی زیادہ معیاری اور قابلِ اعتماد ٹیکس ڈیٹا حاصل ہوگا۔صدر چیمبر سلیم میمن نے کہا کہ ٹیکس ایئر 2026 کے ریٹرن کی آخری تاریخ میں توسیع کا مطالبہ ٹیکس کی ادائیگی یا قانونی ذمہ داری سے گریز کے لیے نہیں بلکہ درست، شفاف اور رضاکارانہ ٹیکس کمپلائنس کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ مناسب مہلت دینے سے ٹیکس دہندگان زیادہ درست معلومات کے ساتھ اپنے ریٹرنز جمع کرا سکیں گے، جس سے نہ صرف ٹیکس دہندگان کی مشکلات کم ہوں گی بلکہ ٹیکس نظام میں اعتماد اور تعمیل کے رجحان کو بھی فروغ ملے گا۔انہوں نے وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو اور چیئرمین ایف بی آر سے پرزور مطالبہ کیا کہ ٹیکس ایئر 2026 کے انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے کی آخری تاریخ میں فوری طور پر کم از کم ایک ماہ کی توسیع کرکے 31 اکتوبر 2026 مقرر کی جائے اور توسیع شدہ مدت کے اندر ریٹرن جمع کرانے والے ٹیکس دہندگان کو لیٹ فائلنگ کی بنیاد پر کسی قسم کے غیر ضروری جرمانے، سرچارج یا دیگر منفی نتائج کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
Posted inکراچی