
تحریر طاہراشرف
آزادی کی قیمت اور حکمران
جب ہم اپنی تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو ایک حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے، اور وہ یہ کہ آزادی کبھی مفت نہیں ملتی۔ یہ وہ نعمت ہے جس کی قیمت خون سے ادا کی جاتی ہے، جس کے لیے مائیں اپنے لال قربان کرتی ہیں، بہنیں اپنے بھائیوں کی شہادت پر فخر کرتی ہیں، اور باپ اپنے بیٹوں کی لاشوں کو کندھا دیتے ہیں۔
یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے شاید وہی سمجھ سکتا ہے جس نے خود غلامی کے اندھیروں میں سانس لی ہو۔ جس نے اپنی زمین پر اجنبیوں کی حکمرانی دیکھی ہو، جس کی زبان پر پابندی ہو، جس کے مذہب پر قدغن ہو، اور جس کی ثقافت کو پامال کیا گیا ہو۔ آزادی کی قدر وہی کر سکتا ہے جو اس کی تلخ یادوں سے گزرا ہو۔
ہمارے بزرگوں نے وہ صبر کیا جو ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ انہوں نے وہ قربانیاں دیں جن کا ذکر تاریخ کے صفحات میں سنہری حروف سے کیا جاتا ہے۔ لاکھوں انسانوں نے اپنی جانیں دے کر اس سرزمین کو آزاد کرایا تاکہ آنے والی نسلیں ایک آزاد فضا میں سانس لے سکیں۔ یہاں ایک تلخ سچائی ہے جس کا سامنا ہمیں کرنا پڑتا ہے۔ آج کے حکمران، جو اس آزاد فضا میں پیدا ہوئے، جو اس آزادی کے ثمرات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، شاید وہ ان قربانیوں کی گہرائی تک نہیں پہنچ پاتے۔ ان کے لیے آزادی شاید ایک مسلمہ حقیقت ہے، ایک ایسی چیز جو خود بخود حاصل ہو گئی۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ آزادی کبھی خود بخود نہیں آئی۔ یہ ان لاتعداد جانوں کی قربانی کا نتیجہ ہے جو اس مٹی میں دفن ہیں۔ یہ ان ہاتھوں کی محنت ہے جو زنجیروں کو توڑنے کے لیے زخمی ہوئے۔ یہ ان آنکھوں کے آنسو ہیں جو سالوں تک بہتے رہے۔سوال یہ ہے کہ کیا ہم، اور خاص طور پر ہمارے حکمران، اس آزادی کی قدر کر رہے ہیں؟ کیا ہم ان قربانیوں کا احترام کر رہے ہیں؟ کیا ہم اس آزادی کو اس طرح استعمال کر رہے ہیں جس طرح اس کے شہداء نے چاہا تھا؟افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ آج ہم اپنی آزادی کو مختلف طریقوں سے ضائع کر رہے ہیں۔ کرپشن ناانصافی غربت اور جہالت جیسے مسائل ہمارے معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر رہے ہیں۔ اور یہ سب اس آزادی کے منافی ہے جس کے لیے ہمارے بزرگوں نے لازوال قربانیاں دیں۔ اگر آپ حکمران ہیں، تو یہ یاد رکھیں کہ آپ کا عہدہ اس آزادی کی بدولت ہے جو شہداء کے خون سے حاصل ہوئی۔ آپ کی ذمہ داری ہے کہ اس آزادی کو محفوظ رکھیں اس کے ثمرات عوام تک پہنچائیں، اور ان اصولوں کی پاسداری کریں جن کے لیے یہ وطن حاصل کیا گیا۔ آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ حکمرانی ایک امانت ہے ایک ایسی ذمہ داری جو عوام کے اعتماد پر مبنی ہے۔ اگر آپ اس اعتماد کو مجروح کریں گے، اگر آپ اس آزادی کو اپنی ذاتی مفادات کے لیے استعمال کریں گے، تو تاریخ آپ کو معاف نہیں کرے گی۔اور ہم عوام ہمیں بھی اپنی ذمہ داریاں یاد رکھنی چاہئیں۔ آزادی صرف ایک حق نہیں ایک ذمہ داری بھی ہے۔ ہمیں اپنے ووٹ کی قدر کرنی چاہیے اپنے حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے، اور اپنے فرائض سے غفلت نہیں برتنی چاہیے۔ہمیں اپنے بچوں کو بتانا چاہیے کہ یہ آزادی کتنی مہنگی پڑی ہے۔ ہمیں انہیں سکھانا چاہیے کہ اس آزادی کا احترام کیسے کیا جاتا ہے۔ اور ہمیں خود بھی اس آزادی کے تقاضوں کو پورا کرنا چاہیے۔آزادی ایک ایسی نعمت ہے جو ہر نسل کو سنبھالنی ہوتی ہے۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں جو ایک بار مل جائے تو ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جائے۔ اسے ہر روز ہر لمحہ ہر عمل سے محفوظ رکھنا پڑتا ہے۔آئیے ہم سب حکمران اور عوام، مل کر اس آزادی کی قدر کریں۔ آئیے ہم ان قربانیوں کو یاد رکھیں جن کی بدولت آج ہم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ اور آئیے ہم عہد کریں کہ اس آزادی کو اس طرح سنبھالیں گے کہ آنے والی نسلیں ہم پر فخر کر سکیں۔کیونکہ آزادی کی قیمت خون ہے اور اس کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے