
سیف سٹی کیمرے یا چالان کی مشین؟
دنیا کے بیشتر ممالک میں سیف سٹی کیمرے جرائم کی روک تھام اور عوام کی سہولت کے لیے نصب کیے جاتے ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ شہری محفوظ رہیں ایمرجنسی کی صورت میں فوری مدد دستیاب ہو اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا ریکارڈ محفوظ رہے۔ لیکن پاکستان میں صورتحال اس کے بالکل برعکس دکھائی دیتی ہے۔ یہاں سیف سٹی کیمرے عوام کے لیے تحفظ کا ذریعہ بننے کے بجائے چالان پر چالان کا سبب بنے ہوئے ہیں۔جو عوام دو وقت کی روٹی کے لیے دن رات دربدر دھکے کھا رہی ہے اگر کسی طرح کوئی دیہاڑی لگ بھی جائے تو دو ہزار روپے کا چالان تھما دیا جاتا ہے۔ یہ رقم ایک غریب مزدور کے لیے کئی دن کی محنت کے برابر ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مایوس اور بے بس لوگ یا تو اپنے آپ کو پیٹرول چھڑک کر آگ لگا لیتے ہیں یا اپنی موٹر سائیکل کو ہی آگ کے حوالے کر دیتے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے ایسے واقعات کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور حکومت بظاہر سب کچھ دیکھ رہی ہے مگر عوام کے لیے کوئی حقیقی ریلیف سامنے نہیں آ رہا
کیا یہ لوگ انسان نہیں ہیں؟ کیا ان کے خاندانوں کو خاندان نہیں سمجھا جاتا؟ اسمبلیوں میں اے سی کی ٹھنڈی ہوا میں تین چار گھنٹے بیٹھ کر اسی عوام کے لیے قانون بنائے جاتے ہیں مگر پھر انہی لوگوں کو گرمی کی شدت میں تڑپنے کے لیے بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ہزاروں روپے کے بجلی کے بل عوام پر تھوپ دیے جاتے ہیں، اور غریب آدمی کے لیے یہ بوجھ دن بدن ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا ہے۔سیف سٹی کیمرے اگر واقعی عوام کی حفاظت کے لیے ہیں تو ان کا استعمال بھی اسی روح کے مطابق ہونا چاہیے۔ جرائم کی روک تھام ایمرجنسی میں مدد اور شہریوں کی سلامتی اولین ترجیح ہونی چاہیے نہ کہ غریب آدمی کے لیے چالان کا خوف۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کے دکھ درد کو سمجھے ان کے لیے آسانیاں پیدا کرے اور ایسے قوانین بنائے جو انسانیت اور انصاف پر مبنی ہوں۔ ورنہ یہی مایوسی یہی بے بسی اور یہی آگ کے واقعات ایک دن پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔