ذیلی انسداد پولیو مہم کا دوسرا روز، ڈی ایچ او حیدرآباد کے مختلف علاقوں کے دورے، ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ

ذیلی انسداد پولیو مہم کا دوسرا روز، ڈی ایچ او حیدرآباد کے مختلف علاقوں کے دورے، ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ

حیدرآباد: قومی ذیلی انسداد پولیو مہم (SNID) نومبر 2026ء کے دوسرے روز ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر حیدرآباد ڈاکٹر پیر غلام حسین نے شہر کی مختلف یونین کونسلز اور علاقوں کا دورہ کرکے پولیو ٹیموں کی کارکردگی، بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے عمل اور مہم کے انتظامات کا جائزہ لیا۔

اس سلسلے میں یونین کونسلز 09، 10، 11، 12، 13، 14 اور 15 کی پولیو ٹیموں کی صبح کی بریفنگ منعقد ہوئی، جس کی صدارت ڈاکٹر پیر غلام حسین نے کی۔ اس موقع پر ڈی ایف پی ایس آئی اے، ڈی ایف پی ای پی آئی اور ٹی ایم سی ایف پی بھی موجود تھے۔

بریفنگ کے دوران ڈی ایچ او نے پولیو ٹیموں کی خدمات کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ مائیکرو پلان کے مطابق ہر گھر تک رسائی یقینی بنائی جائے اور پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں۔ انہوں نے بالخصوص مہمان بچوں کی ویکسینیشن پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی۔

انہوں نے ویکسین کی کولڈ چین برقرار رکھنے، قطرے پلانے کے مقررہ طریقہ کار پر عمل درآمد، بچوں کی انگلیوں پر مناسب نشان لگانے اور گھروں میں مؤثر آگاہی و رابطہ کاری (IPC) یقینی بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے اسکولوں میں بچوں کی ویکسینیشن کو ترجیح دینے کے ساتھ دوپہر 2 بجے کے بعد تمام رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ مدارس تک رسائی کی بھی ہدایت کی۔

ڈاکٹر پیر غلام حسین نے زیرو ڈوز بچوں کی درست رپورٹنگ، بند گھروں اور ویکسینیشن سے محروم بچوں کے دوبارہ اندراج اور ان گھروں کے دوبارہ دوروں کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے تمام مقررہ اہداف اسی روز مکمل کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے بالخصوص ایم ایم پی گھروں میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی درست نشاندہی، اندراج اور ویکسینیشن یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

بعد ازاں ڈی ایچ او حیدرآباد نے یونین کونسل 16 سٹی کے گاؤں خدا بخش گوپانگ کا دورہ کیا، جہاں معمول کی حفاظتی ٹیکہ جات (Routine Immunization) سے انکار کرنے والے بچوں کی ویکسینیشن کے عمل کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈی ایف پی ای پی آئی، ڈی ایف پی ایس آئی اے، ٹی ایم سی ایف پی اور ڈی ایف سی وائیٹل پاکستان بھی ان کے ہمراہ تھے۔

والدین کے تحفظات دور کرنے اور کمیونٹی میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے ڈی ایچ او نے ماہرِ امراضِ اطفال سمیت خصوصی میڈیکل ٹیم تعینات کی، جس نے ماؤں کو بچوں کی معمول کی حفاظتی ویکسینیشن کی اہمیت اور مختلف قابلِ انسداد بیماریوں سے بچاؤ کے بارے میں آگاہی فراہم کی۔ گاؤں میں حفاظتی ٹیکہ جات سے انکار کرنے والے 17 بچوں کی نشاندہی کی گئی تھی، جن میں سے 4 بچوں کو ویکسین لگا دی گئی، جبکہ باقی بچوں کی ویکسینیشن کا عمل جاری ہے۔

ڈاکٹر پیر غلام حسین نے ٹی ایم سی قاسم آباد کی یونین کونسل 145 کے گاؤں نور خان چانگ کا بھی دورہ کیا، جہاں موبائل ٹیم نمبر 3 اور ایریا انچارج شہناز کی جانب سے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے عمل کا معائنہ کیا۔ دورے کے دوران ٹیم مائیکرو پلان کے مطابق گھروں تک رسائی حاصل کرتی ہوئی پائی گئی اور اپنے مقررہ اہداف و کوریج سے بھی آگاہ تھی۔ ٹیلی شیٹ کی تکمیل، ویکسین کی کولڈ چین اور قطرے پلانے کا طریقہ کار تسلی بخش پایا گیا، جبکہ بچوں کی انگلیوں پر نشان لگانے اور مہمان بچوں کی ویکسینیشن کا عمل بھی جاری تھا۔ ٹیلی شیٹ کی تکمیل میں سامنے آنے والی معمولی خامیوں کی نشاندہی کرکے موقع پر ہی ٹیم کو عملی تربیت فراہم کی گئی۔

اسی طرح یونین کونسل 156، ٹی ایم سی قاسم آباد کے علاقے کولہی پاڑو میں، ایم ایم پی کے تحت پی پی ایچ آئی آفس کے عقب میں قائم مقام موبائل ٹیم نمبر 1 کا بھی معائنہ کیا گیا، جہاں ایریا انچارج شمشاد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا رہے تھے۔ اس موقع پر میرپور ناکہ سے آنے والے ایک مہمان بچے کو بھی قطرے پلائے گئے اور اس کی تمام ضروری تفصیلات ٹیم کے ریکارڈ میں درج کی گئیں۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر حیدرآباد ڈاکٹر پیر غلام حسین نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ یقینی بنانے کے لیے ہر بچے تک رسائی، مؤثر نگرانی، پولیو ٹیموں کی تربیت اور والدین کا تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے ٹیموں کو ہدایت کی کہ قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے پوری لگن، محنت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ اپنی خدمات جاری رکھیں تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پینے سے محروم نہ رہ جائے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *