
حیدراباد ( رپورٹ عمران مشتاق ) سندھ ابادگار بورڈ کے صدر محمود نواز شاہ نے حکومت کی جانب سے گنے کے مناسب ریٹ مقرر نہ کرنے اور 20 نومبر تک شوگر ملز نہ چلانے کی صورت میں أئندہ گنے کی کاشت نہ کرنے کا عندیہ دیدیا۔ وہ حیدراباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کر رہے تھے اس موقع پر بورڈ کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر ذوالفقار یوسفانی سینیئر نائب صدر سید ندیم شاہ اسلم مری عمران بوذدار اور طہ میمن بھی ان کے ہمراہ موجود تھے محمود نواز شاہ نے کہا کہ حکومت زراعت کے شعبے کو ترقی دینے میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں 15 لاکھ سے زائد کاشتکاروں میں 97 فیصد چھوٹے کاشتکار موجود ہیں جنہیں زرعی قرضہ تک نہیں ملتا جبکہ حکومت نے میحض 3 لاکھ 30 ہزار کاشت کاروں کا سروے کیا ہے ان تک بھی سبسڈی نہیں پہنچ پا رہی محکمہ ریونیو کے پاس لامحدود اختیارات کی وجہ سے حکومت کی اسکیمیں مبینہ طور پر کرپشن کا شکار ہو رہی ہیں جس جانب خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے محمود نواز شاہ نے کہا کہ شوگر ملز کی اب تک کریشنگ نہ کرنے کی وجہ سے کاشتکاروں کو گندم کی فصل لگانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے سندھ کی ،7 لاکھ ایکڑ میں سے 6 لاکھ ایکڑ پر چھوٹے کاشتکاروں کا اپنے خرچ سے گنا لگا ہوا ہے حکومت کاشتکاروں کو دیوار سے لگانے کا عمل فوری بند کرے محمود نواز شاہ نے کہا کہ 65 ارب ڈالر کی زرعی معیشت میں 12 ارب ڈالر تک قرضہ ملتا ہے جس میں 70 فیصد پنجاب بقیہ تین صوبوں کے حصے میں اتا ہے محمود نواز شاہ نے کہا کہ اس وقت گنے کی فصل سندھ میں مکمل طور پر تیار ہو چکی ہے لیکن نومبر کا پہلا ہفتہ گزرنے کے بعد بھی شوگر مل چلانے کی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی اور نہ ہی گنے کے ریٹ مقرر کیے گئے ہیں ماضی میں شوگر ملیں اکتوبر کے مہینے میں کرشنگ شروع کرتی رہی ہیں کریشنگ دیر سے شروع ہونے کی صورت میں کاشت کاروں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے محمود نواز نے کہا کہ ہماری ایک بہت بڑی تعداد چھوٹے کاشتکاروں پر مشتمل ہے جو گنے کے بعد گندم کی فصل کاشت کرتے ہیں اگر بروقت زمین خالی نہ کی گئی تو گندم کی فصل متاثر ہو سکتی ہے اس جانب حکومت کوئی خاص اقدامات کرتی دکھائی نہیں دے رہی انہوں نے گنے کی امدادی قیمت فی من 647 روپے مقرر کرنے کا مطالبہ کیا محمود نواز شاہ نے کہا کہ ہم احتجاج کے حق میں نہیں اگر حکومت نے اپنی روش تبدیل نہ کی تو زرعی تنظیموں کے ساتھ مل کر ائندہ کا لائحہ عمل طے کرنے پر مجبور ہوں گے جس میں احتجاج کا راستہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے محمود نواز شاہ نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے گندم کی خریداری کے طریقہ کار گندم خریداری کا ہدف خریداری کے وقت کے بارے میں بھی وضاحت کی جائے محمود نواز شاہ نے کہا کہ کاشتکاروں نے گندم 80 روپے کلو میں فروخت کی ہے جبکہ اج اٹا 180 روپے سے 200 روپے۔فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے اس صورتحال کا ذمہ دار اخر کون ہے ؟ محمود نواز شاہ نے سندھ کے کاشتکاروں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف سبسڈی دینے کا بھی مطالبہ کیا قبل ازیں سندھ أباد گار بورڈ کے منعقدہ اجلاس میں۔کاشتکاروں کو درپیش مسائل گنا کرشنگ کرنے سرکاری نرخ مقرر کرنے اور شوگر ملز 15 نومبر سے 20 نومبر تک چلانے کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال ہوا اور متعدد فیصلے کئیے گئیے