حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس (HUJ) کی کال پر صحافی باریجہ بھائیوں پر ہونے والے مظالم

حیدرآباد (بیورو رپورٹ)
حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس (HUJ) کی کال پر صحافی باریجہ بھائیوں پر ہونے والے مظالم، پیپلز پارٹی کے ایم این اے ملک اسد سکندر کی بدسلوکی اور جامشورو پولیس گردی کے خلاف حیدرآباد میں دوسرے روز بھی صحافیوں اور سول سوسائٹی کا احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) نے ایچ یو جے کے احتجاج اور مطالبات کی حمایت کا اعلان کر دیا، نیز سندھ حکومت سے بلا تاخیر تمام واقعات کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے اعلان کردہ تین روزہ احتجاجی تحریک کے سلسلے میں کوٹری کے صحافی باریجہ بھائیوں پر ظلم، پی پی ایم این اے ملک اسد سکندر کے دباؤ اور جامشورو پولیس کی غنڈہ گردی کے خلاف دوسرے دن بھی ایچ یو جے کے مرکزی رہنماؤں خالد کھوکھر، اقبال ملاح، وسیم خان، جام فرید لاکھو اور جانی خاصخیلی کی قیادت میں حیدرآباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
اس موقع پر ایچ یو جے کے مرکزی رہنماؤں خالد کھوکھر، اقبال ملاح، وسیم خان، جام فرید لاکھو، جانی خاصخیلی، سینئر صحافی یعقوب سومرو، اصغر خانوٹھی، تندو جام پریس کلب کے صدر اورنگزیب بھٹو، مسو بھرگڑی پریس کلب کے صدر عاشق ترک اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافی باریجہ بھائیوں کے ساتھ جامشورو پولیس نے ظلم کی انتہا کر دی ہے۔ پی پی ایم این اے ملک اسد سکندر کے دباؤ میں آ کر ایس ایس پی جامشورو ان کے کارندے کا کردار ادا کر رہے ہیں، جس کے خلاف پورے سندھ کے صحافی سراپا احتجاج ہیں۔ لیکن افسوس کہ سندھ حکومت نے ابھی تک اس واقعے کا نوٹس نہیں لیا، جس سے سندھ کی صحافی برادری میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایس ایس پی جامشورو جعلی جے آئی ٹی (JIT) بنا کر خود کو واقعے سے بری الذمہ کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ ہم ایسی جعلی جے آئی ٹی کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں، کیونکہ ایس ایس پی جامشورو ملک اسد سکندر کے کہنے پر صحافی باریجہ بھائیوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں کر رہے ہیں۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پی پی ایم این اے ملک اسد سکندر کوہستان کے قبیلوں کے سردار ہیں، انہیں برادری کی روایت اور اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملے کو حل کرنا چاہیے تھا، لیکن افسوس کہ ملک اسد سکندر نے صحافی باریجہ بھائیوں کے خلاف ذاتی انتقامی کارروائیاں کرتے ہوئے گھروں اور چادر و چار دیواری کے تقدس کا بھی خیال نہیں رکھا۔ اسی لیے ہم سمجھتے ہیں کہ اس پورے واقعے کے ذمہ دار ملک اسد سکندر اور ایس ایس پی جامشورو (جو کہ ایک فریق بن چکے ہیں) ہیں۔
انہوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا نوٹس لے کر فوری طور پر ایس ایس پی جامشورو کو ہٹایا جائے اور نیا ایماندار ایس ایس پی مقرر کیا جائے۔ اس کے ساتھ کوٹری میں بے گناہ مارے گئے نوجوان دلشیر برفت کے قتل کے واقعے، صحافی باریجہ بھائیوں پر لگائے گئے الزامات اور پولیس گردی کی تحقیقات کے لیے سندھ ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں عدالتی کمیشن قائم کیا جائے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کے نمائندوں کرشن شرما، امداد چانڈیو، پشپا کماری، نسیم جلبانی اور دیگر نے وفد کی صورت میں ایچ یو جے کے احتجاج میں شرکت کی اور خطاب کرتے ہوئے ایچ یو جے کے احتجاج و مطالبات کی حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ جامشورو میں بے گناہ قتل ہونے والے نوجوان دلشیر برفت اور زخمی ہونے والے افراد کے واقعے سمیت صحافی باریجہ بھائیوں کے ساتھ ہونے والی زیادیوں اور پولیس گردی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایچ یو جے کی جانب سے تمام واقعات کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دینے کے مطالبے کی ہم مکمل حمایت کرتے ہیں اور سول سوسائٹی بھی سندھ حکومت سے یہی مطالبہ کرتی ہے کہ واقعے کے اصل حقائق اور ذمہ دار ملزمان کا تعین کرنے کے لیے فوری طور پر ہائی کورٹ کے حاضر سروس سینئر جج کی سربراہی میں عدالتی کمیشن قائم کیا جائے۔
مظاہرے میں ٹنڈو جام، ہوسڑی، کٹھڑ اور ضلع جامشورو کے نوری آباد کے صحافیوں سمیت سول سوسائٹی کے نمائندوں پروفیسر عبدالمجید چانڈیو، سلیم جروار اور دیگر نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *