حیدرآباد نیشنل موومنٹ فار ایمپاورڈ لوکل گورنمنٹ کے مرکزی رہنماء سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے بہتر لوکل نظام کے لئیے ایک ترمیم عوام کے لئیے سلوگن کے تحت حیدرآباد پریس کلب میں آگاہی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان جمہوریت کی پٹری سے اتر چکا ہے ملک پر اشرافیہ کا قبضہ ختم کرانے کے لئیے اختیارات کا نچلی سطح پر لانا بے حد ضروری ہے پاکستان کا آئین صوبے بنانے کی اجازت دیتا ہے تاہم عوام کی مرضی کے بغیر صوبوں کی تقسیم خون خرابہ کا باعث بنے گی کراچی کو صوبہ بنانے کی بات محض سیاست کرنا ہے جنرل ایوب خان جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے مقامی نظام بہتر تھا ان کی اچھی باتیں لیکر آگے بڑھا جائے موجودہ اسمبلی بے توقیر ہے جنرل ضیاء الحق کی مجلس شوریٰ بھی اتنی بے توقیر نہیں تھی ایک نئے میثاق جمہوریت پر کام کرنے کی ضرورت ہے 1947 اور اس کے بعد آنے والے اردو اور گجراتی زبان بولنے والوں کا سندھ پر اتنا ہی حق ہے جتنا 200 سوسال پہلے آنے والے قبائل کا ہے سب کو برابری کی بنیاد پر حقوق حاصل ہیں ہم آئین 140A کے تحت لوکل گورنمنٹ نظام لانا چاہتے اور اس کی حمایت کرتے ہیں آئین پاکستان میں وفاق صوبائی اور لوکل گورنمنٹ نظام کا ذکر ہے تاہم 1973 کے آئین کو مسخ کردیا گیا ہے آئین نے لہولہان ہونے کے باوجود ہمیں اب تک جوڑ کر رکھا ہوا ہے اختیارات کا نچلی سطح پر جانا ضروری ہے وفاق اور صوبہ کونسا ٹیکس لے سکتا ہے یہ آئین میں درج ہے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں گزشتہ 7 سالوں سے کوئ مقامی نظام نہیں ہے صوبائی حکومت نے لمیٹڈ کمپنیاں بناکر اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھ لئیے ہیں لاہور پنجاب کی ابادی کا 8 فیصد ہے جس پر 51 فیصد بجٹ خرچ ہو رہا تھا جبکہ سندھ میں بھی عدالتی حکم پر بلدیاتی نظام قائم ہوا تمام سیاستدانوں کو ملا کر مقامی نظام کا ڈھانچہ تیار کیا جائے اسد عمر نے کہاکہ ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ پاکستان کی شناخت کیا ہوگی فیصلے بند کمروں کے بجائے عوام کے سامنے ہونے چاہئیں مرکزیت بڑھنے سے پاکستان کا نقصان ہے جتنے اختیارات تقسیم ہونگے اتنا ہی پاکستان مضبوط ہوگا سیاسی جماعتوں کے منشور میں تو مقامی نظام شامل ہوتا ہے اقتدار میں آتے ہی اسے پست پوش ڈال دیا جاتا ہے اس موقع پر سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر سید زین شاہ نے ایجنڈہ پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ فیڈریشن کے پاس صرف چار محکمے ہونے چاہئیں سارے پاکستان کو ایک بننا ہوگا ہر پانچ سال بعد گیم چینجر کی بات کی جاتی ہے اب خوابوں پر نہیں چلیں گے تمام ادارے اپنی حدود میں رہیں سیاسی آزادی ہونی چائیے ہم کراچی کے مسائل سے باخوبی آگاہ ہیں صوبوں کو توڑنے کے فارمولے کا ساتھ نہیں دیں گے آئینی ترمیم سے عدلیہ خود کمزور ہوئ ہے بنیادی حقوق ختم کردئیے گئیے لوکل گورنمنٹ کی حدود کا تعین ہونا چائیے بلوچستان کے پی کے اور گلگت بلتستان کی صورتحال پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ہمیں ماضی کے تجربات سے سبق سیکھنا چاہیے سابق صوبائی وزیر عارف جتوئی نے کہاکہ پاکستان اپنی 100 ویں سالگرہ کے قریب ہے لوکل گورنمنٹ کے حوالے سے جو بات ہمیں آزادی کے پہلے سال میں سوچنی چائیے تھی آج بھی وہیں کھڑے ہیں کوئ سیاستدان لوکل گورنمنٹ کی مخالفت نہیں کرتا اپوزیشن واویلا کرتی ہے کرسی ملتے ہی معاملات ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں گراس روٹ لیول پر لوکل گورنمنٹ پر کام کرنے کی ضرورت ہے لوگوں کو سمجھانا ہوگا اس کے لئیے میڈیا کا تعاون درکار ہے رکن سندھ اسمبلی حسنین مرزا نے کہاکہ لوکل گورنمنٹ کے حوالے سے اسد عمر نے مثبت قدم اٹھایا ہے ہر شہری کو بنیادی سہولیات اس کے گھر کی دہلیز پر ملنی چائیے اگر نیت صاف ہوتو مسئلہ حل ہوسکتا ہے کراچی ہمارے سر کا تاج ہے ایک تاریخی شہر کے مئیر کو کس طرح منتخب کرایا گیا ہمارے سامنے ہے سندھ کے بلدیاتی ایکٹ میں اپنی مرضی کی ترامیم کروائ گئیں عدالتیں کیا کررہی ہیں نظام بنانے اور چلانے کی نیت ٹھیک ہوتو نظام کامیابی سے چل سکتا ہے ماضی کے تجربات کی روشنی میں آگے بڑھ سکتے ہیں ورنہ دلدل میں جا گریں گے جئے سندھ محاذ کے ریاض چانڈیو نے کہاکہ تھر روشن کرے گا پنجاب کو سندھ کے لوگ اندھیروں میں رہیں گے بعد ازاں سوال و جواب کا سلسلہ ہوا
