
راولپنڈی:( رپورٹ محمد حسین سومرو) وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی آئی ایس پی آر کے زیراہتمام ورکشاپ میں ملک بھر کے دو سو سے زائد جامعات کے وائس چانسلرز، رجسٹرارز، ڈینز اور سینئر پروفیسرز کے ساتھ نشست
خصوصی نشست میں وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بلوچستان میں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور بلوچ یکجہتی کونسل (بی وائی سی) کے گٹھ جوڑ، احساسِ محرومی بیانیے اور حکومتی ترقیاتی و اصلاحاتی اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے پروپیگنڈا اور حقائق میں زمین آسمان کا فرق ہے اور احساسِ محرومی کا بیانیہ محض ایک مخصوص انتہاپسند ایجنڈے کو فروغ دینے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بی ایل اے اور بلوچ یکجہتی کونسل بی وائی سی کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہو چکا ہے، بی وائی سی کالعدم تنظیموں کی کٹھ پتلی ہے، مہرنگ بلوچ اور کریمہ بلوچ نوجوانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو توڑنے کیلئے بلوچستان میں تشدد، سوشل میڈیا اور پروپیگنڈے کا سہارا لیا جا رہا ہے اور بلوچستان میں جاری شورش پاکستان کے خلاف ایک منظم انٹیلی جنس وار ہے۔
انہوں نےکہا کہ بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور اس نوعیت کی دیگر تنظیموں کو افغانستان اور بھارت کی جانب سے سہولت کاری فراہم کی جا رہی ہے۔
ان کے بقول یہ عناصر افغان اور بھارتی پاسپورٹس پر آزادانہ نقل و حرکت کرتے ہیں اور یہ تمام سہولت کاری بھارتی و افغان پشت پناہی پر مبنی انٹیلی جنس نیٹ ورکس کے ذریعے کی جا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کے بغیر اور پاکستان بلوچستان کے بغیر کچھ نہیں۔