
آزاد کشمیر میں اس وقت ایک گروہ ملک پاکستان اور کشمیر کو علیحدہ علیحدہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔جب کہ کشمیر اور پاکستان کی عوام دو دل ایک جسم کی مانند ہیں۔آذاد کشمیر کی آزادی میں جہاں کشمیریوں نے اپنا لہو دیا۔وہاں پنجابی اور پٹھان بھی کشمیریوں سے پیچھے نہیں رہے۔رہی بات بارہ مہاجر نشستوں کی،
تو وہ ایک آئینی مسئلہ ہے۔نا کہ انتظامی مسئلہ ہے۔آئین کو تبدیل کرنے کیلئے پارلیمنٹ واحد حل ہے۔رہی بات حکومت پر دباؤ ڈالنے کی۔اس کیلئے لازمی بات ہے کہ احتجاج بہترین راستہ ہے۔مگر احتجاج پُرامن اور انسانی اقدار کے مطابق ہونا چاہیے۔تشدد اور جلاؤ گھیراؤ کرنا کسی طور بھی ملکی بہتری یا کسی تبدیلی کا طریقہ نہیں ہے۔اس وقت پوری دنیا جن مشکلات سے گزر رہی ہے۔پاکستان پہلے سے ہی ان سے نبرد آزما ہے۔کلعدم تحریک کی جانب سے پاکستان دشمنی کو ظاہر کرتے نعرہ بازی اور جذبات۔اس بات کے عکاس ہیں کہ یہ کشمیر کی بہتری نہیں بلکہ تباہی چاہتے ہیں۔جبکہ مقبوضہ کشمیر کی عوام پاکستان سے الحاق کیلئے دن رات اپنا لہو دے رہے ہیں۔جبکہ پاکستان سے جڑے چند لوگ ہندوستان سے الحاق یا الگ ریاست بنانا چاہتے ہیں۔مان لیں اگر یہ الگ ریاست بنا لیتے ہیں۔تو کیا یہ خوشحال یا ترقی کر سکتے ییں۔ایسا بلکل بھی ممکن نہیں ہے۔ہندوستان اور اسرائیل ان کو ہاتھوں ہاتھ لیں گے۔اگر یہ کٹھ پتلی بنیں گے تو ترقی کریں گے۔اگر الگ رہنا چاہتے ہیں۔تو پھر ہندوستان ان کے ساتھ مقبوضہ کشمیر والوں جیسا سلوک کرے گا۔اسرائیل کو مزید ایک مہرہ ملے گا۔جہاں سے وہ پاکستان کے مزید قریب ہو سکے۔مطلب کشمیر کی بقا ہر صورت پاکستان کے ساتھ ہے۔پاکستان سے علیحدگی کشمیر کی تباہی کا باعث ہی بنے گا۔اس وقت کلعدم کشمیری تنظیم سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف تحریک چلا رہی ہے۔جس میں پرانی وڈیوز اور مقبوضہ کشمیر کی وڈیوز شامل ہیں۔جس میں افواج نہیں بلکہ صرف شیلنگ یا دھواں ہی دکھایا جا رہا ہے۔را موساد اور دیگر پاکستان دشمن اس پروپیگنڈہ کو ہوا دے رہے ہیں۔اس کے پیچھے ہندوستان ہے۔یہ بات کسی وضاحت یا دلیل کے بغیر بھی ماننے والی ہے۔کیونکہ پاکستان سمیت کینیڈا یا دیگر ممالک یہاں تک امریکہ تک ہندوستان کی دہشتگردی کے ثبوت موجود ہیں۔یہاں تک کینیڈا اور امریکہ کی حکومت اس کی تصدیق کر چکی ہیں۔سری لنکا میں جو ہندوستان نے کیا۔وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔اس طرح شیطان صفت ہمسائے کے ساتھ رہنا کوئی عام سی بات نہیں ہے۔
کشمیر کے بغیر پاکستان بھی نامکمل رہے گا۔کیونکہ قائد اعظم محمد علی جناح اور کشمیری رہنماؤں یاسین ملک اور سابقہ مولوی محمد فاروق شہید۔جنہیں ہندوستانی فوج نے 1990 میں شہید کیا تھا۔عبدالغنی لون شہید۔جنہیں 2002 ہندوستانی فوج کی جانب سے شہید کیا گیا۔چوہدری غلام عباس(1967 تا 1904) مسلم کانفرنس سے سربراہ رہے۔اور ہمیشہ پاکستان سے الحاق کے حامی رہے۔اور سب سے اہم حریت رہنما سید علی گیلانی صاحب مرحوم ہیں۔جن کا ایک ہی نعرہ تھا۔ہم پاکستانی ہیں۔اور پاکستان ہمارا ہے۔میں ان آج کے کے فسادیوں سے سوال پوچھتا ہوں۔کہ آیا جو ابھی بھی کشمیر کی آزادی کیلئے اپنی جانیں دے رہے ہیں۔ان سب کا مقصد کس لئے ہے۔اگر وہ پاکستان سے الحاق نہیں چاہتے۔اور اپنا آزاد ملک بنانا چاہتے تھے۔تو انہوں نے اپنی آخری سانس تک۔ہمیشہ پاکستان کو ہی کیوں چاہا۔وہ ہندوستان یا چین یا سری لنکا یا بنگلہ دیش سے بھی الحاق کا اعلان کر سکتے تھے۔آج کے کشمیری نوجوانوں کو اپنے بڑوں کی قربانیوں اور ان کے مقصد کو لیکر چلنا چاہیے۔ناکہ کسی بیرونی ایجنٹ کے بیرونی ایجنڈے پر چلیں۔انہیں سازشی عناصر پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔انہیں اپنوں کے بھیس میں چھپے دشمنوں کی چالوں کو بھی سمجھنا چاہیے۔یہ شعور کے نام پر ملک کے اندر تباہی لانا چاہتے ہیں۔اس پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔اور ان کے ہر ہتھکنڈے کو سمجھنا چاہیے۔