کمشنر حیدرآباد ڈویزن فیاض حسین عباسی نے حیدرآباد ہندو پنچائت کے زیرِ اہتمام منعقدہ چھ ہفتوں پر مشتمل سالانہ گرُوکل سمر کیمپ

کمشنر حیدرآباد ڈویزن فیاض حسین عباسی نے حیدرآباد ہندو پنچائت کے زیرِ اہتمام منعقدہ چھ ہفتوں پر مشتمل سالانہ گرُوکل سمر کیمپ کی اختتامی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، تقریب میں حیدرآباد ہندو پنچائت کے صدر ڈاکٹر چندی رام، مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی جامشورو کے پروفیسر اور گرُوکل پروگرام کے بانی ڈاکٹر کملیشور، ڈاکٹر پردیپ کمار، انجینئر اشوک صوفی، انجینئر دھرم بجاج، وکیل جھمٹ مل ہندو برادری کی معزز شخصیات، والدین اور بچوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، اس موقع پر بچوں نے موسمیاتی تبدیلی سمیت مختلف سماجی موضوعات پر ٹیبلو پیش کیے، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر حیدرآباد فیاض حسین عباسی نے کہا کہ والدین کی اولین ذمہ داری اپنے بچوں کی کردار سازی، اخلاقی تربیت اور اعلیٰ انسانی اقدار کو فروغ دینا ہے تاکہ وہ مستقبل میں ذمہ دار اور باصلاحیت شہری بن سکیں، انہوں نے کہا کہ بچوں کو مناسب ذمہ داریاں سونپنے سے ان میں فیصلہ سازی کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے اور ان کی شخصیت نکھرتی ہے، انہوں نے کہا کہ صرف تعلیم کافی نہیں بلکہ معیاری اور بامقصد تعلیم وقت کی اہم ضرورت ہے، اس لیے والدین اپنے بچوں کی علمی استعداد کے ساتھ ساتھ ان میں انسان دوستی، اخلاقیات اور معاشرتی ذمہ داری کا شعور بھی پیدا کریں، انہوں نے بچوں کی شاندار کارکردگی اور سماجی موضوعات پر پیش کیے گئے ٹیبلوز کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی سرگرمیاں نئی نسل کی مثبت کردار سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں بعد ازاں کمشنر حیدرآباد فیاض حسین عباسی نے سمر کیمپ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بچوں میں اسناد تقسیم کیں، اس موقع پر حیدرآباد ہندو پنچائت کے صدر ڈاکٹر چندی رام نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندو برادری کو فلاحی سرگرمیوں میں مزید بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے، انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنی بیٹیوں کو جہیز میں پچاس تولہ سونا دیتے ہیں تو اس میں سے ایک تولہ سونا برادری اور معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کرنا بھی ہماری سماجی ذمہ داری ہونی چاہیے، انہوں نے برادری کے افراد پر زور دیا کہ وہ معاشرے کو واپس دینے کی روایت کو فروغ دیں تاکہ ضرورت مند افراد کی مؤثر انداز میں مدد کی جا سکے، ڈاکٹر پردیپ کمار نے کہا کہ حیدرآباد ہندو پنچائت ہر سال گرُوکل سمر کیمپ کا انعقاد کرتی ہے تاکہ نئی نسل کی علمی، اخلاقی اور سماجی تربیت کی جا سکے، انہیں معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے، اچھی شہرت قائم کرنے اور ذمہ دار شہری بننے کی صحیح راہ دکھائی جا سکے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *