
حیدرآباد ماہ محرم الحرام کے دوران امن و امان، سیکیورٹی اور دیگرضروری انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے میئر آفس، سوک سینٹر حیدرآباد میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میئر حیدرآباد کاشف شورو نے کہاکہ ماہ محرم الحرام کے دوران صفائی ستھرائی،فراہمی و نکاسی آب، اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب کو یقینی بنانے اور دیگر مسائل کے حل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹاو¿ن اور تعلقہ سطح پر بھی اجلاس منعقد کر کے مسائل کے مستقل حل کو یقینی بنایا جائے گا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر حیدرآباد زین العابدین میمن نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران عوام اور عزاداروں کو درپیش مسائل کے فوری حل کے لیے متعلقہ اداروں پر مشتمل واٹس ایپ رابطہ گروپ فعال کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی شکایت یا ہنگامی صورتحال پر بروقت کارروائی کو یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ محرم الحرام کے دوران اپنی کارکردگی مزید مو¿ثر بناتے ہوئے تمام انتظامات قبل ازوقت مکمل کیے جائیں۔
اس موقع پر ایس ایس پی حیدرآباد شاہزیب چاچڑ نے کہا کہ محرم الحرام کے تمام ایام بالخصوص 7، 9 اور 10 محرم کے جلوسوں اور مجالس کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے اور پولیس کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت یا اشتعال انگیزی پر مبنی مواد سے گریز کرنے اور ایسے مواد کی فوری نشاندہی کرنے کی بھی اپیل کی۔
اجلاس کے دوران شرکاءنے اپنے اپنے علاقوں میں محرم الحرام کے دوران درپیش مسائل سے متعلق انتظامیہ کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر بجلی کی لوڈشیڈنگ، پانی کی فراہمی، صفائی ستھرائی، سیوریج، سڑکوں کی مرمت، اسٹریٹ لائٹس، طبی سہولیات، ایمبولینسوں کی دستیابی اور سیکیورٹی انتظامات سمیت مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں ضلعی انتظامیہ، پولیس اور بلدیاتی اداروں نے عزاداری انجمنوں اور مذہبی رہنماو¿ں کو یقین دہانی کرائی کہ محرم الحرام کے دوران تمام مسائل کے بروقت حل اور پرامن ماحول کے قیام کے لیے بھرپور اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عزاداران اپنے مذہبی فرائض عقیدت و احترام کے ساتھ ادا کر سکیں۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر-II صبا اسرار، ڈی ایچ او حیدرآباد ڈاکٹر پیر غلام حسین، چاروں تعلقوں کے اسسٹنٹ کمشنرز، متعلقہ محکموں کے افسران، مختلف مذہبی جماعتوں، عزاداری انجمنوں، مجالس و جلوسوں کے منتظمین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز بھی موجود تھے ۔