یہ زمین گواہ رہے گی

تحریر طاہرمغل
یہ زمین گواہ رہے گی

یہ زمین واقعی بہت زرخیز ہے۔ اس کی مٹی میں وہ طاقت ہے کہ اگر سچی محنت کی جائے تو یہاں ہر خوشحالی پنپ سکتی ہے۔ لیکن افسوس، یہاں رہنے والوں میں سے کچھ لوگوں نے اسے بےرحمی سے لوٹا ہے۔ نہ صرف لوٹا بلکہ اسے نوچ نوچ کر کھایا ہے جیسے یہ کوئی ورثہ نہیں کوئی امانت نہیں بلکہ صرف ایک ذاتی بوفے ہو۔اس کھیت میں جتنے بھی نام نہاد سردار وڈیرے سیاست دان اور بیوروکریٹ ہیں یہ سب اپنے پیٹ بھرنے میں لگے ہیں۔ ان کے لیے وطن کا مطلب صرف اتنا ہے کہ جہاں سے وہ جتنا کھینچ سکیں کھینچ لیں۔ اور جب کھینچتے ہیں تو ساتھ میں لوگوں کے دلوں میں ایک زہر بھی گھول جاتے ہیں۔ وہ زہر جس کا نشانہ ہمیشہ پاک فوج بنتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ وڈیرے اور سیاست دان جب اپنے مفادات کے لیے فوج کے خلاف ناراضگی پھیلاتے ہیں تو وہ دراصل اپنے کئے کا بچاؤ کر رہے ہوتے ہیں۔ جب عوام تنگ آتی ہے تو ان کی انگلیاں خود بخود فوج کی طرف اٹھ جاتی ہیں اور ان کرپٹ حکمرانوں کو یہی منظر بھاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر کب تک؟ کب تک یہ زمین روندی جائے گی؟ کب تک وطن کی انتڑیاں نکال کر بیچی جائیں گی؟ کب تک ایک ماں کا بیٹا بھوکا سوئے اور ایک وڈیرے کا کتا دودھ اور چنے کھائے؟ یہ کوئی انقلابی نعرہ نہیں یہ ایک انسان کا چیخنا ہے جس کا گھر جلتا ہے اور وہ پوچھتا ہے کیا کوئی سننے والا بھی نہیں ہے۔یہ زمین جس پر ہم آج سانس لیتے ہیں چلتے پھرتے ہیں اور اپنے بچوں کا مستقبل سنوارتے ہیں خود گواہ ہے کہ اس کی ہر بوٹی ہر ذرّہ لاکھوں پاک فوجی جوانوں کے لہو سے سیراب ہوا ہے۔ یہ وہی جوان ہیں جنہوں نے راتوں کو جاگ کر سرحدوں پر کمر باندھ کر اپنے سینوں کو ڈھال بنا کر اس سرزمین کی حفاظت کی۔اُن کی قربانیوں کی بدولت ہی آج یہ ملک آباد ہے یہاں کے دیہات اور شہر روشن ہیں اور یہاں کے لوگ امن کی نعمت سے بہرہ ور ہیں۔ لیکن افسوس یہی مٹی یہی وطن ایک اور دردناک سچائی کی بھی گواہ ہے کہ کس طرح کچھ سیاستدان کچھ وڈیرے اقتدار کے نشے میں اور ذاتی مفاد کی خاطر اس قوم کے وسائل پر ٹوٹ پڑے۔ انہوں نے نہ کسی قانون کی پرواہ کی نہ کسی آنسو کی۔اس سرزمین کی دولت اس کی معدنیات اس کے پانی اس کی زمین سب کچھ بے دردی سے لوٹا گیا۔ محلوں میں فخریہ زندگیاں بسر کی گئیں جبکہ دیہاتوں میں لوگ بھوکے پیٹ سوتے رہے سکولوں اور ہسپتالوں کے نام پر بننے والے منصوبے بے نام رہ گئے اور لوگ ملک سے مایوس ہوتے چلے گئے۔ یہ وہی زمین ہے جو شہیدوں کی امانت اپنے سینے میں چھپائے بھی ہے اور اسی وقت عوام پر ظلم کرنے والوں کی پامالی کو بھی یاد رکھتی ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان شہیدوں کے احسانات کو نہ بھولیں اور ان لوگوں کے کرتوتوں کو بھی کبھی معاف نہ کریں جنہوں نے اس وطن کو اجاڑا۔ وقت آ گیا ہے کہ اٹھیں اپنی قربانیوں کی قدر کریں اور ان کے خلاف آواز اٹھائیں جنہوں نے اس پاک مٹی کو غیرت کی بجائے تجارت کا سامان بنا دیا۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *