میرا قصور کیا تھا؟

میرا قصور کیا تھا؟

سرگودھا شہر کا وہ المناک واقعہ جہاں آٹھ سالہ معصوم بچی کے ساتھ بدفعلی کے بعد قتل کا ارتکاب کیا گیا، واقعی ایک ایسا سانحہ ہے جسے سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور دل دہل جاتا ہے۔ یہ صرف ایک خبر نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کے چہرے پر ایک کالا دھبہ ہے، جو ہمیں ہماری انا اور ہمارے خود ساختہ اخلاقی قدروں پر شرمندہ کرتا ہے۔ سوچیں ایک بچی جس کی عمر صرف آٹھ سال ہے، جسے ابھی دنیا کی ٹھوکروں کا احساس تک نہیں، جس کی آنکھوں میں ابھی معصومیت کے سوا کچھ نہیں، اس کے ساتھ ایسا وحشیانہ سلوک کیا جائے — یہ کسی بھی انسانیت کے دامن پر کلنک ہے۔ یہ واقعہ صرف ایک فرد یا ایک خاندان کا سانحہ نہیں، بلکہ پورے سماج کا قصور ہے، کیونکہ ہم سب اس ماحول کے ذمہ دار ہیں جہاں ایسے عفریت پنپ سکتے ہیں۔ جب تک ہمارا قانون اور ریاستی نظام اس طرح کے جرائم کے خلاف سخت اور غیر متزلزل موقف اختیار نہیں کرتا، تب تک یہ واقعات رک نہیں سکتے۔ قانون صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اسے عملی طور پر ایسا ثابت ہونا چاہیے کہ کوئی بھی شخص اس طرح کی جرات نہ کر سکے۔ عدالتی کارروائی تیز، شفاف اور بے لاگ ہونی چاہیے، تاکہ مجرم کو اس کی سزا ملے اور معاشرے میں یہ پیغام جائے کہ بے گناہوں کا خون رائیگاں نہیں جاتا۔
مگر کیا صرف قانون ہی کافی ہے؟ نہیں، ہمیں اپنے معاشرتی رویوں، تعلیمی نظام اور گھریلو تربیت پر بھی غور کرنا ہوگا۔ ہمیں بچوں کو تحفظ دینا، انہیں باخبر کرنا، اور ان کے گرد ایک محفوظ ماحول فراہم کرنا ہر بالغ فرد کی ذمہ داری ہے۔ جب تک ہم ایک دوسرے کے خلاف خاموش تماشائی بنے رہیں گے، ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔ یہ واقعہ ہمارے چہرے پر ایک طمانچہ ہے، مگر یہ طمانچہ بیدار کرنے والا ہونا چاہیے نہ کہ صرف دکھ دینے والا۔ ہمیں اس سانحے سے سبق لینا ہوگا اور پکار اٹھنا ہوگا کہ بس ہو چکا اب خاموشی نہیں اب صبر نہیں، اب انصاف چاہیے، اور وہ بھی فوری۔ بچی کی روح کو سکون تب ہی مل سکتا ہے جب ہم سب قانون حکومت، معاشرہ اور ہر فرد اپنی ذمہ داری نبھائیں اور ایسے واقعات کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ یہ وقت غم اور ملال کا نہیں، بلکہ بیداری اور عمل کا ہے۔ ورنہ ہم سب اس جرم میں شریک ہوں گے، کیونکہ خاموشی بھی ایک قسم کی رضامندی ہے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *