
میجر (ر) ساجد مسؔعود صادق نظامی
17 اگست 1988ء کو سہ پہر تقریباً 3:51 پر بہاولپور کے قریب بستی لال کمال (دریائے ستلج / چناب کے کنارے) ایک فوجی طیارہ سی ون تھرٹی حادثے کا شکار ہوتا ہے۔ یہ پہلا پاکستان حکمران نہیں جس کے ساتھ حادثہ پیش آیا۔ اس سے پہلے بانی پاکستان قائداعظم مُحمدعلی جناحؒ کی وفات سے قبل اُن کی ایمبولینس کو سازش کے ذریعے خراب کرنے کی بازگشت بھی پاکستانی فضا میں ابھی تک موجودہے۔ پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان کو لیاقت باغ راولپنڈی میں ایک عوامی جلسے میں گولی مار کر قتل کردیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے پاکستانی آرمی چیف بننے والے جنرل افتحار علی کی “جی ایچ کیو” پہنچنے سے پہلے طیارہ حادثے میں جان جاتی ہے۔ پاکستانی صدر جنرل ایوب امریکی قوم کے محبوب بنے پھر رسوا ہوکر گھر کو روانہ ہوئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار اور عروج وشہرت کی انتہاء ملی لیکن اس دوران اپنے ایک آرمی چیف کو اغواء کرنے اور نظر بندکرنے کے علاوہ دوسرے کے بارے میں اُن کے عطا کردہ گھٹیا آداب و القاب بھی تاریخ کا حصہ بنے اور آخری اپنے آرمی چیف اور امریکہ کو اپنی زندگی میں قاتل گردانتے ہوئے دُنیا چھوڑی۔
جنرل محمد ضیاءالحق جو محض 90 دن کے لیئے اقتدار میں آئے نو سال گُذار گئے۔ اگرچہ جنرل ضیاء الحق کے بعد بھی یہ سلسلہ رُکا نہیں لیکن یہاں تک تاریخِ پاکستان میں بھی عسکری اور سیاسی قیادت کے لیئے بہت اسباق موجود تھے لیکن انہوں نے اس تاریخ سے کُچھ نہیں سیکھا۔ اس طیارے میں اس وقت کے صدر اور آرمی چیف جنرل محمد ضیاء الحق , چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل اختر عبدالرحمن المعروف سائلنٹ سولجر، دیگر اعلیٰ فوجی افسران اور امریکی سفیر آرنلڈ لوئس رافل سمیت تقریباً 30 افراد جان سے جاتے ہیں۔اس حادثے کے بعد پاکستان میں جمہوری حکومت کا وجود تشکیل پاتا ہے اور وزیراعظم بننے والی خاتون مُحترمہ بے نظیر بھٹو اس حادثے کے بارے کہا کہ “This must be an act of God”۔ یہ چُھبتے ہوئے طنزیہ الفاظ اس لیئے تھے کہ محترمہ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کو اپنےوالد کی پھانسی کا ذمہ دار سمجھتی تھیں۔ یہ “خدائی کام” رُکا نہیں بلکہ 27 دسمبر 2007ء کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں مُحترمہ ایک انتخابی جلسے کے بعد وہ خودکش دھماکے کا خُودشکار بن گئیں۔
ضیاء الحق مرحوم کے بعد کُچھ لوگوں نے میاں محمد نواز شریف کو اُن سے قربت کی وجہ سے جنرل کا جانشین سمجھنا شروع کردیا لیکن عجب کھیل یہ ہوا کہ اس حادثے کے بعد مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی امپورٹ کرکے وزیراعظم بنا دی گئی اور یوں اس حادثے کی تمام تحقیقات خُردبرد ہوگئیں۔ وہ ایک منجھے ہوئے سیاستدان کی بیٹی تھیں، جب اُس نے پر پُرزے نکالے اُسے اقتدار سے ہٹا کر نوازشریف ایوانِ اقتدار میں جا پہنچا۔ محض اڑھائی سال بعد پھر یہی گیم دوہرائی گئی نوازشریف کوہٹا کر بے نظیر کو لایا گیا۔ دوسرے دور میں اپنے والد کی طرح شمالی کوریا سے میزائل ڈِیل اور ماضی کے مجاہدین اور سامراجی نظام کے باغی طالبان سے اچھے تعلقات کی وجہ سے پہلے انہیں امریکہ سے دھمکیاں موصول ہوئیں۔ بعد میں وہ خود انہی طالبان جن کو اُن کے وزیر داخلہ جنرل نصیراللّٰہ بابر اپنے بچے کہا کرتے تھے اُن کے ہاتھوں “ایکٹ آف گاڈ” کا شکار ہوگئیں۔ یوں آصف علی زرداری مظلوم شوہر بن کر ایوانِ صدر جاپہنچے۔ اپنے سُسر اور اپنی بیوی کے قتل کا سب سے زیادہ فائدہ آصف علی زرداری اور اُس کے ساتھیوں نے اُٹھایا۔
اس سارے کھیل میں جو مرکزی کھلاڑی تھے اُن کی لکھی ہوئی کتابیں پڑھنے اور سمجھنے کے لائق ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی کتاب “اگرمیں مارا جاؤں” میں وقت سے پہلے اپنے قاتلوں کا بتادیا۔ جنرل ایوب نے تو اپنی کتاب کے ٹائٹل Friends Not Masters سے ہی اس کھیل کا پردہ چاک کردیا۔ بریگیڈئیر یوسف (افغان ۔ روس جنگ کے مرکزی کردار) نے اپنی کتاب Afghanistan A Bear Trap میں ضیاءالحق طیارے حادثے کے متعلق سارے اشارے دے دیئے۔ مرزا اسلم بیگ نے اپنی کتاب کو “اقتدار کی مجبوریاں” کا ٹائٹل دیکر قوم کو سمجھانے کی کوشش کی کہ ہو کیا رہا ہے۔ جنرل مشرف نے بھی اپنی کتاب In the Line of Fire میں بین الاقوامی مداخلت اور پاکستان میں سامراجی نظام کی پاکستان میں عملداری پر بہت کُچھ لکھ ڈالا۔ ضیاء الحق نے خود کتاب نہیں لکھی لیکن برگیڈیئر یوسف نے اُن کی جگہ یہ کام کردیا۔ ان سب کتابوں میں بڑے دلچسپ حقائق موجود ہیں لیکن مرزا اسلم بیگ سب سے نمبر لے گئے کیونکہ انہوں نے اپنی کتاب میں یہاں تک لکھ دیا کہ پاکستانی ایٹمی پروگرام سے جُڑے ہر شخص کا بُرا انجام ہوا۔ نوازشریف کو ایٹمی دھماکے کرکے سامراجی نظام سےبغاوت کی پاداش میں اقتدار سے پہلے محروم اور بعد میں جلاوطن ہونا پڑا۔ جس وقت بے نظیر اور نوازشریف جلاوطن کی زندگی کی گُذار رہے تھے ایسے میں عمران خان کی قسمت کاستارہ چمکنے کی تیاری کررہا تھا۔ جنرل مُشرف کے بعد محترمہ بے نظیر کے قتل پر پہلے آصف علی زرداری اور بعد میں نواز شریف کواقتدار ملا پھر ایمپائر کی مداخلت ہوئی اور نواز شریف کو عدالت کے ذریعے کلین بولڈ کرکے عمران خان کئی سال کی محنت کے بعد وزیراعظم کی کُرسی تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ عمران خان کے لیئے فوج پہلے “مائی باپ” تھی اور آرمی چیف “قوم کا باپ” مگر ایک بار پھر تاریخ دوہرائی گئی جو اندر تھے وہ باہر آگئے اور جو باہر تھا وہ اندر چلا گیا۔ لیکن عمران خان اقتدار میں آنے سے پہلے ہی جانتا تھا کہ یہ کھیل کیا ہے جو اس نے اپنی بائیوگرافی میں بھی لکھا لیکن اُس کے باوجود پھر اس کھیل کا وہ شکار کیوں ہوا؟ اُسے پتا تھا قیادت کی لڑائی “ہوسِ اقتدار” کے گرد ہی تو گھومتی ہے۔ لیکن جاتے جاتے وہ بھی سامراجی نظام اور اُس کے رکھوالوں کے خلاف شور مچاتا رہا۔
کیا انیاسی (79) سالہ قوم آج بھی یہ نہیں جانتی کہ اُس کے مُلک کے ساتھ کیا کھیل کھیلاجارہا ہے؟ قوم تو چلو ان پڑھ اور جاہل ہے قومی قیادت نے بھی تاریخ میں اتنے تسلسل سے ہونے والے واقعات سے کُچھ نہیں سیکھا؟ قیادت نے یقیناً بہت سیکھا ہے کیونکہ اسی لیئے ماسوائے چند تمام قائدین (عسکری، بیوروکریٹ اورسیاست دان) کاروبار، بینک بیلنس اور بچے بیرون ممالک میں بستے ہیں۔ ایسے لیڈر دیگر اقوام کے سامنے کتنا چھوٹا قد رکھتے ہوں گے جو اپنی مال و متاع پاکستان سے باہر رکھتے اور دیگر اقوام کو پاکستان میں انویسٹمنٹ کی دعوت دیتے ہیں۔ عجیب کھیل ہے بیرونی قرضے قوم اُتارے ، گردنیں موٹیں قائدین کی ہوں، عیاشی قائدین کریں اور عیاشی کاسامان غریب عوام کی چمڑی بیچ کر حاصل کیا جائے۔ تاریخِ پاکستان اور سامراجی نظام کو ملا کر سمجھنے کی جو لوگ صلاحیت رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ پاکستانی قیادت ہمیشہ سے ایک گھناؤنے کھیل کا شکار ہورہی ہے۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں کوئی بھی ایسا لیڈر نہیں جس نے اس کو محسوس نہ کیا ہو لیکن پھر بھی یہ باز نہیں آتے۔
یہ ایک کھیل ہے جس میں عالمی سامراجی نظام پاکستان میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے اپنی مرضی پر چلنےوالی قیادت کو حکومت میں دیکھنا چاہتا ہے اور جو بھی حاکم اس نظام کے خلاف پاکستان کے لیئے کُچھ کرنے کا عزم رکھے وہ یا تو جان سے جاتا ہے یا اقتدار سے۔ اسکے باوجود پاکستانی قائدین کی یہ کمزوری ہے کہ وہ اس سامراجی نظام کی اس سازش سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ سامراجی نظام انہیں بھی استعمال کرکے ایک دن “ردی کی ٹوکری” میں ڈالنے میں دیر نہیں لگائے گا۔ عجب تماشا ہے عوام بھی سازش سازش کا شورمچائے جاتی ہے نہ قوم سیکھتی ہے اور نہ قیادت۔ سامراجی اور استحصالی نظام کے لیئے اس سے اچھی بات کیاہوسکتی ہے کہ عقل سے عاری ایک قوم ملی ہوئی ہے جس کو استعمال بھی کرو اور جیسا چاہے سلوک بھی کرو۔ جیسے سامراجی نظام پاکستانی قیادت کو لڑانےکا فن سیکھ چُکا ہے ایسے ہی پاکستانی قیادت شعبدہ بازی میں ماہرچُکی ہے۔ عالمی نظام لیڈروں کو اور پاکستانی قیادت عوام کو لڑاکراپنے مقاصد پورے کرتے ہیں اورعوام ہے کہ ٹس سے مس نہیں ہوتی۔
اب فیلڈ مارشل عاصم مُنیر پر قوم ایک بار پھرآس لگائے بیٹھی ہے اللّٰہ نہ کرے وہ بھی کسی ایسی سازش کا شکار ہوں اور اگر ایسا ہوا تو پاکستانیوں کی قسمت یا مقدر پروہی تاریکی چھا جائے گی جو قیامِ پاکستان کے وقت سے لیکر اس قوم کی قسمت پر چھائی ہوئی اب بھی وقت ہے قیادت اور قوم سمجھ جائے دوست اور دُشمن کو پہچانے اور خود کو درُست کرلے۔ قائدین کویہ جاننا چاہیئے کہ عوامی استحصال کی انتہاء ہو چُکی ہے۔ پاکستانی عوام اور قیادت کے لیئے اس سے اچھا کوئی موقعہ نہیں ہوگا کہ سن 1948ء میں امریکی قیادت میں قائم کیا گیا ادارتی سامراجی نظام کمزور پڑ چُکا ہے۔امریکہ اب وہ نہیں رہا جو پہلے تھا اس لیئے پاکستانی قائدیں کو بھی اس کے دباؤ سے نکل آنا چاہیئے۔ عوام کو بھی اپنے لیئے قیادت کاخُوب سوچ سمجھ کر انتخاب کرنا ہوگا۔ قوم کو لیڈروں کے شخصیاتی سحر اور شعبدہ بازی سے نکل کر اُن کی کارکردگی دیکھنے کی ضرورت ہے اورقائدین کو بھی ذاتی مُفاد کی بجائے قومی اور عوامی مُفادکا خیال کرنا ہوگا۔ آج پاکستان کی جو حالت ہے اس میں عوام سے بڑھ کر قیادت کا قصوروارہے۔