پِمز ہسپتال آتشزدگی اور عمران خان کی زندگی کولاحق خطرات

پِمز ہسپتال آتشزدگی اور عمران خان کی زندگی کولاحق خطرات
میجر (ر) ساجدمسؔعود صادق
ایک مُدت ہوئی ہے پاکستان میں بڑے بڑے واقعات اور سانحات ہوجاتے ہیں، حکومتی کمیشن بنتے ہیں، انکوائریاں ہوتی ہیں اور پھر تھوڑے عرصہ بعد ایسے لگتاہے جیسے کُچھ ہوا ہی نہیں۔ ویسے تو سن 2010سے لیکر آج تک پورے پاکستان کے 30 سے زیادہ ہسپتالوں میں آتشزدگی کے واقعات ہوئے ہیں جن میں اربوں روپے کی پراپرٹی کے علاوہ 70 سے زیادہ قیمتی جانوں کا نقصان ہوا جس میں 31 نومولود بچے بھی شامل ہیں۔ پمز ہسپتال (PIMS) میں 26 اگست 2026 کو ایک انتہائی اندوہناک اور ہولناک آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا، جس میں زچہ و بچہ وارڈ (MCH) کی نرسری میں آگ لگنے سے 14 نومولود بچے جاں بحق ہو گئے۔ PIMS سن 1985ء میں قائم ہوا اور اس سے قبل یہاں کوئی ایسا حادثہ نہیں ہوا جس سے PIMS کو گورنمنٹ کے ماتحت چلنے والےہسپتالوں کی لسٹ میں ایک بہترین ہسپتال نہ سمجھا جائے۔اس دردناک حادثے نے ہسپتال انتظامیہ کی نااہلی کےعلاوہ ایک سوال بھی کھڑا کردیا ہے جس کی طرف خاص توجہ نہیں دی جارہی اور وہ سوال ہے کہ آیا عمران خان میڈیکل چیک اپ سے اس واقعہ کا کوئی تعلق ہوسکتا ہے؟
یہ واقعہ کہیں مصنوعی تو نہیں جس سے عمران خان کے آئیندہ یہاں چیک اپ کا راستہ بند کیا گیا ہے یا ہسپتال اور حکومت کو اس واقعہ کے ذریعے کوئی میسیج دیا گیا ہے؟ یہ وہ لائنز ہیں جن پر غور و فکر کی ضرورت ہے اور اگر کوئی ایسی بات ہےتو حالات اس سے کہیں زیادہ سنگین ہیں جتنا انہیں سمجھا جاسکتا ہے اور یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں کہ ان لائنز پر سوچا نہ جائے۔ کیونکہ عمران خان اس وقت وہ سیاسی لیڈر ہیں جنہیں اگر کُچھ ہوا تو پاکستان میں انتشار کاایک ایسا سلسلہ شروع ہوگا جس کوکنٹرول کرنا مُشکل ہوجائے گا اور پاکستان میں انتشار پھیلانے والی قوتوں کایہی ایجنڈا ہے۔واضح رہے پاکستان میں سیاسی انتشار کا یہ سلسلہ سن 2014ء میں ڈی چوک میں عمران خان کے حکومت کے خلاف 120 دن کے دھرنےسے شروع ہوا اور 12سال گُذرنے کے باوجود ابھی تک رُکنے کانام نہیں لے رہا۔ کیا پی ٹی آئی ورکرز کے خوف سے حکومت نے یہ کام کیا یا عمران خان کی زندگی کو پاکستان میں انتشار پھیلانے والے انتہائی مُحرک ہاتھ سے بھی کوئی خطرہ تھا؟ اس بات کا قوی امکان ہے کیونکہ پاکستان میں انتشار ایک بیرونی ایجنڈا ہے۔
پاکستان دُشمن کاروائیوں میں بھارت۔افغان۔اسرئیلی نیکسز کے علاوہ دوست نما کئی دیگر ممالک بھی پاکستان سے دوستی کی آڑ میں دُشمنی نبھا رہے ہیں۔ خورشیدقصوری کی کتاب “Nither Dove Nor A Hawk” کےصفحہ 346کےمطابق “نائن الیون کمیشن پاکستانی پالیسی کومشکوک سمجھتا ہے، امریکی میڈیا،تھنک ٹینک اور کانگریس مین پوچھتے ہیں کہ پاکستان امریکہ کادوست ہے یادُشمن۔” حُسین حقانی اپنی کتاب Magnificent Delusions: Pakistan, the United States صفحہ 350 پرلکھتا ہے کہ “پاکستان اور امریکہ میں بد اعتمادی پائی جاتی ہے اور دونوں کے مُفادات میں کہیں یکسانیت اور کہیں تضاد پایا جاتا ہے۔”اسی طرح امریکی مُفکر بروس رڈل حُسین حقانی کے حوالے سے وہ اپنی کتاب Avoiding Armageddon: America, India, and Pakistanکے صفحہ 350 پر لکھتا ہے کہ “20 اکتوبر سن 2010 میں پاکستانی آرمی چیف جنرل کیانی نے صدر اوباما کو مُلاقات کے دوران امریکہ کے پاکستان میں ناقابل برادشت اقدامات کی ایک لسٹ دی جس میں یہ بھی لکھا تھا کہ امریکہ پاکستان میں کنٹرولڈ انتشارپھیلارہا ہے۔”
ابتدائی رپورٹس کے مطابق بدھ کی صبح تقریباً 6:45 بجے نرسری کے اندر ایئر کنڈیشنر کا کمپریسر پھٹنے یا شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ بھڑک اٹھی۔  نرسری میں انکیوبیٹرز کے ساتھ آکسیجن سپلائی کے پوائنٹس موجود ہونے کی وجہ سے آگ سیکنڈوں میں تیزی سے پھیل گئی اور کمرے کی چھت گر گئی۔  حادثے کے وقت وارڈ میں 15 نومولود بچے موجود تھے، جن میں سے شدید جُھلسنے اور دم گھٹنے کے باعث 14 بچے موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ صرف ایک بچے کو زندہ بچایا جا سکا۔ نومولود مرحومین بچوں کے والدین اور عینی شاہدین نے ہنگامی اخراج کے بند راستوں اورعملے کی عدم موجودگی کاالزام عائد کیا ہے جبکہ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق بند دروازے بچوں کی چوری روکنے کی وجہ سے تھے جبکہ متعلقہ عملہ موجود تھا جس نے آگ بجھانے کی کوشش کی۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق ہسپتال میں فائر سیفٹی کے انتظامات انتہائی ناقص تھے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے حکم پر اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کے علاوہ وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری اور چلڈرن وارڈ کا پورا ٹیکنیکل اسٹاف معطل کر دیا گیا ہے۔ 
سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں، قیدی کو 20 اور 21 اگست 2026ء کی درمیانی شب مناسب حفاظتی انتظامات کے تحت ہسپتال لے جایا گیا۔ ماہرِ امراضِ چشم، ماہرِ امراضِ قلب اور فزیشن سمیت مستند ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کا تفصیلی معائنہ کیا اور انہیں طبی طور پر صحتمندقرار دے دیا۔ وزیراطلاعات عطاءاللّٰہ تارڑ کے مطابق پی ٹی آئی کے کارکنوں کی طرف سے جو سیکیورٹی کی صورتحال الشفاء ہسپتال کے راستے میں اوردائیں بائیں پیدا کی گئی اس کے پیشِ نظر ان کو پمز ہسپتال لے جایا گیا جہاں الشفاء ہسپتال کے ڈاکٹرز بھی موجود تھے۔ بظاہر الشفاء کی بجائے عمران خان کے PIMS میں چیک اپ کے پیچھے انتشار کنٹرول کرنے کی اسٹریٹیجی نظر آتی ہے جبکہ عین ممکن ہے حکومت پی ٹی آئی کی صفوں میں شامل “تیسرے ہاتھ” کویہ موقعہ نہیں دیناچاہتی تھی کہ وہ کوئی ایسی حرکت کرے جس سے عمران خان کاچیک اپ بھی ناممکن ہوجائے اور خدانخواستہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آجائے۔ واضح رہے کہ چونکہ عمران حکومتی تحویل میں ہیں اس لیئے عمران خان کی زندگی عمران خان کے سپورٹرز سے کہیں زیادہ حکومت کے لیئے اہم ہے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *