*6 ستمبر – یومِ دفاع پاکستان: ایک طویل مرتبہ حق*
(رپورٹ سٹی ایڈیٹر ڈاکٹر عبدالرحیم کراچی)
6 ستمبر کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک سنہری باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب 1965 میں بھارت نے اچانک پاکستان پر حملہ کیا اور پاکستانی قوم نے اتحاد، قربانی اور بے مثال جرات کے ساتھ اپنے وطن کا دفاع کیا۔ اسی یاد کو تازہ رکھنے کے لیے ہر سال 6 ستمبر کو “یومِ دفاع پاکستان” منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جب قوم ایک ہو جائے تو کوئی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی۔
*پس منظر: 1965 کی جنگ کیوں ہوئی؟*
1965 کی جنگ کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر تھا۔ بھارت کشمیریوں پر ظلم کر رہا تھا۔ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لیے سفارتی اور اخلاقی حمایت کی۔
6 ستمبر 1965 کی صبح بغیر کسی اعلان کے بھارتی فوج نے لاہور، سیالکوٹ اور قصور کی سرحدیں پار کر لیں۔ ان کا مقصد تھا چند گھنٹوں میں لاہور پر قبضہ کر کے جی ٹی روڈ سے ہوتے ہوئے راولپنڈی پہنچنا۔ بھارت کو یقین تھا کہ پاکستان کمزور ہے اور زیادہ دیر مقابلہ نہیں کر سکے گا۔
جیسے ہی حملے کی خبر ملی، پوری قوم جاگ اٹھی۔ “یہ وطن تمہارا ہے” کا نعرہ گونجا۔ بوڑھے، جوان، بچے سب اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔
*اہم محاذ:*
1. *لاہور کا محاذ – چونڈہ اور برکی*: میجر عزیز بھٹی شہید نے برکی کے مقام پر دشمن کا راستہ روکے رکھا۔ اپنی جان دے کر انہوں نے ثابت کیا کہ پاکستانی فوجی جان دے سکتا ہے مگر پیچھے نہیں ہٹتا۔
2. *سیالکوٹ – جنگِ چونڈہ*: یہ دنیا کی دوسری بڑی ٹینکوں کی جنگ تھی۔ پاکستانی ٹینک رجمنٹ نے بھارتی ٹینکوں کو تباہ کر کے ان کے عزائم خاک میں ملا دیے۔
3. *فضائیہ کا کردار*: پاک فضائیہ کے شاہینوں نے تعداد میں کم ہونے کے باوجود بھارتی طیارے گرائے۔ ایم عالم نے ایک منٹ میں 5 بھارتی طیارے مار گرائے اور عالمی ریکارڈ بنایا۔
17 دن تک جاری رہنے والی اس جنگ میں بھارت اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا اور بالآخر جنگ بندی ہو گئی۔
یومِ دفاع منانے کا مقصد صرف ماضی کو یاد کرنے کا دن نہیں ہے۔ اس کے 3 بڑے مقاصد ہیں:
1. *شہداء کو خراجِ عقیدت*: ان بہادر بیٹوں کو یاد کرنا جنہوں نے وطن پر اپنی جانیں قربان کیں۔ صبح فجر کے وقت توپوں کی سلامی، یادگارِ شہداء پر حاضری اور قرآن خوانی ہوتی ہے۔
2. *قومی اتحاد کا اظہار*: یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب قوم اور فوج ایک ہو جائیں تو بڑی سے بڑی طاقت کو شکست دی جا سکتی ہے۔
3. *نئی نسل کی تربیت*: اسکولوں، کالجوں اور ٹی وی پر خصوصی پروگرام ہوتے ہیں تاکہ نوجوانوں کو قربانی اور حب الوطنی کا جذبہ دیا جائے۔ 6 ستمبر کے دن کی تقریبات
کو پورے ملک میں جوش و خروش سے منایا جاتا ہے:
اسلام آباد جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں یادگارِ شہداء پر پھول چڑھائے جاتے ہیں۔ مختلف شہروں میں جدید ہتھیاروں، ٹینکوں اور طیاروں کی نمائش لگائی جاتی ہے تاکہ عوام اپنی دفاعی طاقت دیکھ سکیں۔ ٹی وی اور ریڈیو پر “سوهنی دھرتی” اور “اے وطن کے سجیلے جوانوں” جیسے نغمے چلتے ہیں۔ ملک کی سلامتی، ترقی اور شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں کی جاتی ہیں۔1965 کی جنگ کے بعد سے پاکستان کو بہت سے چیلنجز کا سامنا رہا۔ دہشتگردی، اہر ئ کشیدگی اور اندرونی مسائل۔ لیکن یومِ دفاع کا پیغام آج بھی اتنا ہی اہم ہے۔ دفاع صرف سرحدوں کا نہیں ہمیں معاشی، تعلیمی اور اخلاقی طور پربھی مضبوط ہونا ہے۔ فرقہ واریت، لسانیت اور سیاست کو بھلا کر “پاکستان اول” کا نعرہ اپنانا ہے۔ شہداء کی قربانی رائیگاں نہیں جانی چاہیے۔ ہمیں اپنے شعبے میں محنت کر کے ملک کو ترقی دینا ہے۔یومِ دفاع پاکستان ہمیں بتاتا ہے کہ آزادی بہت بڑی نعمت ہے اور اس کی حفاظت کے لیے جاگتے رہنا پڑتا ہے۔ یہ دن ہمیں فخر بھی دیتا ہے اور ذمہ داری بھی۔ فخر کہ ہماری فوج اور قوم نے دنیا کو حیران کر دیا۔ ذمہ داری کہ ہمیں اس وطن کو تعلیم، امن اور ترقی سے روشن کرنا ہے۔آئیے اس 6 ستمبر کو عہد کریں کہ ہم اپنے وطن کی عزت، سالمیت اور ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ *پاکستان زندہ باد*