
میجر (ر) ساجد مسؔعود صادق نظامی
اس میں کوئی دورائے نہیں کہ بین الاقوامی سیاست میں ایک انتشار برپا ہے اور اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان بین الاقوامی سیاست اورجنگ کی وجہ سے بُری طرح مُتاثر ہورہا ہے۔ پاکستان کے عوام میں حکمرانوں کے خلاف نفرت اس لیئے پائی جاتی کہ وہ یقیناً سوچتے ہیں کہ ان حالات کے منفی اثرات میں کیا انہی کا حصہ ہے اور کیا حکمران طبقہ پاکستان کاحصہ نہیں؟ ہر روز پٹرول کی قیمت میں اضافہ کرنا اور اُسے بین الاقوامی حالات سے جوڑ کر جواز بنانا، یہ منطق اب عوام نہیں مانتے۔ اگر ان حالات کے منفی اثرات اتنے ہی شدید ہیں تو بُلٹ پروف گاڑیوں اور وزیراعلٰی کے لیئے خریدا گیا جہاز اس سےکیوں مُتاثر نہیں ہوئے۔ ججز اور پارلیمینٹیرینز کی تنخواہوں اور مراعات میں بے پناہ اضافے کے وقت یہ حالات آڑے کیوں نہیں آتے؟ وہ آئی ایم ایف جو عوام کی چندفی صد تنخواہ اور پینشن میں اضافے کی بھی مخالفت کرتا ہے وہ حکمرانوں کی عیاشیوں پر خاموش کیوں ہوجاتا ہے؟ کیونکہ حکمران بروقت اُس کا حصہ عوامی خون نچوڑ کر اُسے پہنچاتے ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے ٹیکس کے بدلے عوام کو وہ بُنیادی سہولتیں دے۔
کہاوت مشہور ہے کہ "اُونٹ رے اُونٹ تیری کون سی کل سیدھی" یعنی پاکستان میں گنگا اُلٹی بہتی ہے۔پاکستان میں جس کی آمدنی تھوڑی ہے اُسے کُچھ بھی مُفت مُیسر نہیں جبکہ جس کی جتنی آمدنی زیادہ ہے اُسے اسی حساب سے یہ سہولتیں فری مُیسر ہیں۔ اس سے بڑا ظُلم کیا ہوگا اور اس سے بڑا ستحصال کیاہوسکتاہے۔ عوام فاقوں پر ہیں اور حُکمرانوں کے کانوں پر جُوں تک نہیں رینگ رہی۔ پاکستان میں سیاسی پارٹیوں اور سیاستدانوں نے اپنے علاقے بانٹ رکھے ہیں اور ان کے وسائل کو ذاتی جاگیر کی طرح استعمال کررہے ہیں۔ گذشتہ روز سندھ اسمبلی میں ایک بڑی پارٹی کی لیڈر گرج رہی تھیں کہ "سندھ ہماری ماں ہے ہم اسے تقسیم نہیں ہونے دیں گے" عوام اُن سے سوال کرتے ہیں کہ آپ کیسی اولاد ہو جو ماں کے تن سے کئی برسوں سے "ماس" تک نوچ کر کھا گئے ہو لیکن اس ماں کو بدلے میں تُم نے دیا کیا ہے؟ کیا سندھ ماں پر محض چند خاندانوں کا ہی حق ہے؟ سڑکیں ٹُوٹیں، تعلیم کانظام تباہ،کرپشن، چوری، نوسر بازی، رشوت ستانی، سرکاری ٹھیکوں میں گھپلے، چھینا جھپٹی، میرٹ کی دھجیاں کیا یہی اس بدنصیب ماں کا نصیب ہے؟
حکمرانوں نے کبھی سوچا کہ کیا عوام گونگے، بہرے یا اندھے ہیں؟ حکمرانوں کے ہاتھ سے وقت تیزی کے ساتھ سرکتا جارہا ہے اور حکمرانوں کو اب اس کا ادراک کرلینا چاہیئے۔ سوال یہ نہیں کہ پی ٹی آئی یا جماعت اسلامی مارچ حکومت گرانے کے لیئے ہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ اگر پاکستانی اُن کی حمایت میں نہ بھی گھروں سے نکلیں اپنی بدحالی اور فرسٹریشن کی وجہ سے وہ ضرور نکلیں گے۔ پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کایہ مطلب ہرگز نہیں کہ پچیس کروڑ عوام کا استحصال کیاجائے۔ عوام حکمرانوں کے کاروبار، مال اور جائیدادوں کا اپنی حالت کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں اور اپنی تمام محرومیوں کا ذمہ دار اسی حکمران طبقے کو سمجھتے ہیں۔ تعلیم،طب، گیس، سفر، بجلی، پٹرول اور پینے کا صاف پانی تک عوام کو خریدنا پڑتا ہے۔ عوام کے خُون پسینے کی کمائی کا چالیس فی صد تک آئی ایم ایف کھا جاتا ہے اور باقی جو بچتا ہے وہ حکمرانوں کی عیاشی اللّوں تللّوں پر صرف ہوجاتا ہے جو عوام کو بھی سمجھ آرہا ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ آج تک جائز عوامی مطالبات پر بھی حکمرانوں نے ہمیشہ غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔
جس طرح پنجاب اور سندھ کی تقسیم پر نون لیگ اور پیپلز پارٹی کا ری ایکشن آرہا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں پارٹیاں موجودہ نظام میں ہرگز تبدیلی نہیں چاہتیں اور نہ ہی صوبوں (جن کو انہوں نے ذاتی جاگیر سمجھ رکھا ہے) کی تقسیم چاہتی ہیں۔رہ گئی بات ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی تو ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو نہ تو کوئی پارٹی عزیز ہے اور نہ ہی کوئی دُشمن، بلکہ افواج پاکستان کے 90 فی صد سے زیادہ افراد بھی مہنگائی کے اس طوفان سے بُری طرح مُتاثر ہیں۔ نظام کی تبدیلی اب ایک ایسا نوشتہ دیوار بن چُکی ہے جو پاکستان اور پاکستانیوں کا مقدر بدل سکتا ہے۔ ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور افواج پاکستان اگر فیصلے کا وقت آیا تو یقیناً پاکستان اور پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑے ہوں۔ پاکستانی عوام کو ان حق دلانے کی طاقت اورصلاحیت اسی ادارے کے پاس ہے اور یہ اس کی ذمہ داری بھی ہے۔ افواجِ پاکستان کی تاریخ ہے کہ وہ کبھی مُلکی اور عوامی مُفادات کے خلاف نہ تو کسی اقدام کی حمایت کرتی ہیں اور نہ ہی ہمنوائی۔ نون لیگ اور پیپلزپارٹی کا ساتھ دینے کا جو ملٹری اسٹیبلشمنت پر الزام ہے اُسے بھی دھونے کا وقت آگیا ہے۔
پی ٹی آئی ورکرز اور جماعت اسلامی کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام کوبھی ایک نکتہ سمجھنا ہوگا کہ انہیں پُر امن احتجاج کاحق ہے وہ ضرور کریں لیکن لوگوں کے کاروبارِ زندگی کو مُتاثر نہ ہونے دیں، نہ ہی کسی قسم کی اِملاک کو نقصان پہنچائیں اور نہ ہی کوئی خون خرابہ کریں۔ پاکستان کے بیرونی دُشمن ایک مُدت سے پاکستان میں خُون خرابہ چاہتے ہیں اور پاکستان میں انتشار،ہیجان، خون خرابہ اور توڑ پھوڑ اور قومی اداروں کے ساتھ عوام کا ٹکراؤ پاکستان دُشمن قوتوں کے پاکستان کے متعلق عزائم کو پورا کرنے کے مُترادف ہوگا۔ پنجاب اور سندھ کی تقسیم اور موجودہ عوام دُشمن بوسیدہ سیاسی نظام تبدیل کرنے میں ہی پاکستان کا مُفاد ہے۔ پاکستانی سیاسی تاریخ کایہ مسلسل عنوان ہے کہ جو بھی حکومت گئی اُس نے امریکہ اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو الزام ضرور دیا لیکن اب یہ تاریخ تبدیل ہونی چاہیئے کیونکہ یہ تبدیلی کوئی سازش نہیں بلکہ عوامی احتجاج کی یہ لہر خالصتاً عوامی حقوق کے لیئے ہے اور اُس نواسی سالہ عوامی استحصالی نظام کے خلاف ہے جسے عوام کو فاقوں پر مجبور کردیا اور پاکستان کواندرونی طور پر کھوکھلا کردیا ہے۔