
حیدراباد ( ) أل پاکستان فیڈریشن أف ٹریڈ یونینز کے مرکزی نائب صدر محبوب علی قریشی نے کہاکہ گزشتہ 10 ماہ سے لیبر کورٹ نمبر 6 کے لئیے جج مقرر نہ کئیے جانے کی وجہ سے 400 سو سے زائد خاندان سخت مشکلات سے دوچار ہیں 10 اکتوبر 2025 کو لیبر کورٹ جج کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے تاحال کوئ جج مقرر نہیں کیا گیا وہ حیدراباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کررہے تھے اس موقع پر أرمی ویلفئیر شوگر ملزبدین CBA یونین کے جنرل سییریٹری محمد اقبال پریار حبیب شوگر ملز ایمپلائز یونین سی بی اے نواب شاہ کے جنرل سیکریٹری مختیار ملاح پیپلز مزدور یونین سی بی اے فاران شوگر ملز شیخ بھرکیو ٹنڈو محمد کے صدر منور مغل اور جنرل سیکریٹری محمد نعیم بھی ان کے ہمراہ موجود تھے محبوب علی قریشی نے مذید کہاکہ لیبر کورٹ حیدراباد میں زیر التواء 400 کیسز میں سے 50 کے لگ بھگ کیس مرحوم / بیوہ گان کے قانونی حقوق واجبات گریجویٹی کے کیسز شامل ہیں لیبر کورٹ میں جج کی تعیناتی نہ ہونے کی وجہ سے بیوہ گان کو ان کے واجبات حقوق نہیں مل رہے اس ضمن میں متعلقہ اتھارٹیز کو خطوط لکھے اور مزدور تنظیموں کی معرفت لیبر کورٹ نمبر 6 پرزائیڈنگ أفیسر / جج مقرر کرنے کی استدعا کی گئ مگر 10 ماہ کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود کوئ جج مقرر نہیں کیا گیا انہوں نے وزیر اعلی سندھ وزیر قانون چیف جسٹس سندھ ہائ کورٹ اور دیگر حکام سے ہنگامی بنیادوں پر لیبر کورٹ نمبر. 6 میں جج کی تعیناتی کی اپیل گی تاکہ پریشان حال 400 خاندا نوں کو مشکلات سے چھٹکارہ حاصل ہوسکے