
میجر (ر) ساجدمسؔعودصادق نظامی
پاکستانی سیاست کے کسی بھی طالب علم کے لیئے پاکستانی سیاسی ڈھانچے اور سیاسی کلچر کوسمجھے بغیر پاکستان میں ایک مُدت سے جاری انتشار کو سمجھنا اور اس کا حل تجویز کرنا ناممکن ہے۔ اسی طرح پاکستانی سیاسی صورتحال میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو بین الاقوامی معروضی حالات سے ملا کر جب تک سمجھا نہیں جاتا ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے رول پر سوالات اُٹھانا تو آسان ہےلیکن اس رویے کے تواتر کے پیچھے چُھپے حقائق کی تہہ تک پہنچنا ناممکن ہے۔ پوری پاکستانی سیاسی تاریخ اس حقیقت سے عبارت ہے کہ سیاسی حکومتیں جب بھی رخصت ہوئیں اُنہوں نےایک ہی راگ الاپا کہ اُس کے خلاف سازش ہوئی ہے اور اس سازش کا ذمہ دار ہمیشہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور امریکہ کو ٹھہرایا گیا۔ پاکستانی عوام کو سیاسی اشرافیہ نے علم سے دور رکھا لہذا اُن کو ورغلانا، گمراہ کرنا اور اقتدار چھن جانے پر مظلوم بننا بہت آسان ہوگیا۔ سیاستدانوں نے نہ تو کبھی اپنی پارٹی میں جمہوری کلچر پیدا کیا اور نہ ہی سیاست کو خاندان سے باہر نکلنے دیااس کی بہترین مثالیں پاکستان کی دو بڑی پارٹیاں پیپلز پارٹی اور نون لیگ ہیں۔
قیامِ پاکستان سے لیکر آج تک چندخاندان ہی ایسے ہیں پاکستانی سیاست جن کی قید میں ہے۔ پی ٹی آئی پاکستان کی جب تیسری پارٹی بن کر سامنے آئی تو اُمیدکی جارہی تھی کہ یہ انقلابی پارٹی ہوگی اور پُرانے پاکستانی سیاسی کلچر کو یکسر بدل کر رکھ دے گی۔ لیکن یہ پارٹی اس لحاظ سے اولالذکر دونوں پارٹیوں سے بھی بدتر ثابت ہوئی کہ اس میں ایک تو پورا پارٹی کلچر فردِ واحد کے گرد گھومتا ہے اور اُس کے نظریات اور مُفادات کو پاکستانی مُفادات سے بھی "افضل و مکرم" سمجھا جاتا ہے۔ پی ٹی آئی کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہےکہ یہ "ہائپر موڈ" میں کام کرنے والی پارٹی ہے جو جمہوریت کی رُوح کے بالکل اُلٹ ہے۔ نظریات کی انتہاء پسندی، مخالفین کی کردارکُشی، بات بات پر مخالفین پر تُہمتیں اور اندرونی اسٹیک ہولڈر سے بین الاقوامی برادری سے ٹکراؤ اس پارٹی کی بڑی خامیاں ہیں۔ گویا یہ پارٹی صرف پاکستانی ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی برادری سے بھی مخلتف سمت میں پاکستان کو چلانا چاہتی ہے۔ ڈائیلاگ کی بجائے زورِ بازو سے نظریات کو منوانے کی کوشش پی ٹی آئی قیادت کا وطیرہ اور پاکستان میں سیاسی انتشار کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
پاکستانی سیاسی کلچرکا تفصیلی اور محققانہ جائزہ بتاتا ہےکہ پاکستان اور پاکستانی عوام کے مسائل کبھی کسی سیاسی پارٹی کی ترجیح اول کبھی رہے ہی نہیں۔ پاکستانی سیاسی پارٹیوں اور ان کے کلچرکے بارے یہ تک کہنا نامناسب نہیں کہ پاکستان کی بڑی سیاسی پارٹیوں نے پاکستان کو اپنی جاگیر سمجھتے ہوئے اپنا دائرہ عمل اور حقوق بانٹ رکھے ہیں۔ غیر جمہوری کلچر، اقرباء پروری، رشوت، کرپشن اور اداروں اور عوام کی بدحالی سب اس موروثی سیاسی کلچر کےشاخسانے ہیں۔اسی طرح سرکاری خزانے اور بیت المال کو ذاتی مُلکیت سمجھا جاتا ہے جس کی سیاسی پارٹیاں اور اشرافیہ آپس میں بندربانٹ کرلیتی ہے، ایک بڑا حصہ قرضوں کی مد میں آئی ایم ایف میں جمع کرادیا جاتا ہے اور عوام کے لیئے سوائے نعروں کے سراب کے کُچھ بھی نہیں بچتا۔ آج پاکستان کے تمام ادارے عالمی مالیاتی اداروں کے پاس گروی رکھ کر قرض لیا جاچُکا ہے اور باقی جو بچے ہیں انہیں پرائیوٹائزیشن کے نام پر اونے پونے بیچا جاچُکا ہے۔ پاکستانی عوام تعلیم، صحت، بجلی، پانی اور گیس جیسی بُنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔
دوسری جانب اُس ملٹری اسٹیبلشمنٹ جو قیام سے لیکرآج تک اپنے سے پانچ گُنا بڑے دُشمن سے ہر وقت پاکستان کو بچانے کی تدبیروں میں مصروف نظرآتی ہے کو آئین کے نام پر اپنے ماتحت کرنے کی ذوالفقار علی بھٹو،میاں نوازشریف اور عمران خان کی دیرینہ خواہش رہی ہے۔ ایک جانب ملٹری کی مدد سے اقتدار تک پہنچنا اور اُسے مخالفین کے خلاف ایک ڈھال سمجھنا پھر اسی ملٹری کو اپنے ماتحت کرنے کی خواہش بھی ایک جبلتی اور نفسیاتی مسئلے کے طور پر پاکستانی سیاسی کلچرکا حصہ ہے۔ طاقت کو آئین کے تابع کرنے کی بجائے اپنی ذات کے تابع رکھنا بھی پاکستانی جمہوری کلچر کی ایک ایسی خامی ہے جو افواج پاکستان سے سیاسی اشرافیہ کی دوستی اور مخاصمت کا ایک معمول بن چُکی ہے۔ پاکستانی سیاسی کلچر کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ سیاسی اشرافیہ شخصی مُفادات کے لیئے ایک دوسرے کے شیرو شکر ہوجاتے ہیں جبکہ اقتدار کے لیئے ایک دوسرے کے جانی دُشمن بن جاتے ہیں۔ گویا حصولِ اقتدار پاکستان یا پاکستانی عوام کی فلاح کی بجائے سیاسی اشرافیہ کے لیئے طاقت کاایک کھیل اور ذریعہ ہے۔ پاکستانی سیاسی اشرافیہ سرکاری اداروں، اُن کے استعمال پر اپنا حق تو سمجھتی ہے لیکن اُسے کبھی یہ سوچنے کا خیال نہیں آیا کہ یہ ادارے اُن کے پاس گورننس کے لیئے پاکستان کی امانت ہیں اور ان کا استعمال کرنا ہے استحصال نہیں۔ پاکستانی ملٹری اور لاء انفورسمنٹ اداروں کو جس طرح سیاسی مخالفین کو دبانے اور اپنے اقتدار کو بچانے کے لیئے استعمال کیاجاتا ہے یہ آئین اور قانون کی خلاف ورزی نہیں تو اور کیا ہے؟ صرف ملٹری کو چھوڑ کر تمام پاکستانی ادارے عوام تباہی کے ایک دہانے پر پہنچے ہوئے ہیں۔ مُلک معاشی طور پر تباہ حالی اور بدامنی اور انتشار کا ایک نمونہ پیش کررہا ہے۔ اس مشکل صورتحال سے پاکستان کو کیسے نکالا جاسکتا ہے؟ آیا کوئی حکمران ان مسائل کی طرف مُتوجہ بھی ہے؟ عوام جائیں تو کدھر جائیں اور کس کی طرف دیکھیں؟ نواسی سالوں سے عوام معصومیت میں قاتل کو ہی مسیحا سمجھتے رہے ہیں۔ کبھی بھٹو، کبھی نوازشریف، کبھی عمران خان تو کبھی ملٹری میں عوام کو اپنے آئیڈیلز نظر آتے ہیں سوائے فوجی حکمرانوں کے دورِ اقتدار کے پاکستان ہمیشہ سے سیاسی انتشار کا شکار رہاہے۔
سیاسی کلچر اور سیاسی پارٹیوں کے سربراہان کے رویوں میں تبدیلی، گورننس کی بہتری اور اس کے لیئے پنجاب اور سندھ کی مزیدصوبوں میں تقسیم، برداشت اورڈائیلاگ کا کلچر، مُلک کےمُستقبل کے لیئے مضبوط پلاننگ اور وسائل کا دُرست استعمال، بین الاقوامی سیاسی ماحول سے فائدہ اُٹھانے کے منصوبے پاکستان میں توجہ طلب مسائل ہیں۔ اسی طرح بین الاقوامی برادری سے اچھے اور متوازن تعلقات میں پاکستانی مسائل کا حل ہے۔ آج پاکستان کے تمام مسائل کا حل نہ تو کسی فردِ واحد کے پاس ہے اور نہ ہی کسی ایک سیاسی پارٹی یا ادارے کے پاس۔ جب تک پاکستانی سیاسی اور گورننس کا ڈھانچہ نہیں بدلا جاتا اور حکمرانوں کے رویے میں تبدیلی نہیں آتی پاکستان عدمِ استحکام کاشکار ہی رہے گا اور پاکستان دُشمن قوتوں کو بھی پاکستان میں کُھل کھیلنے کا موقعہ ملتارہے گا۔ پاکستانی عوام کو بھی اپنےرویے ایک بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ شخصیات پرستی سے نکل کر آج ہر پاکستانی کو اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے فرائض منصبی ادا کرنے اور ان کا استحصال کرنے والے سیاستدانوں سے لاتعلقی اختیار کرنا ہوگی۔