صوبائی محتسب سندھ کے برانڈ ایمبیسیڈر پروگرام کے تحت لمس جامشورو میں آگاہی سیمینار، نوجوانوں کو اپنے حقوق اور تحفظ سے متعلق آگاہی دینا وقت کی اہم ضرورت ہے: صوبائی محتسب سندھ محمد سہیل راجپوت

صوبائی محتسب سندھ کے برانڈ ایمبیسیڈر پروگرام کے تحت لمس جامشورو میں آگاہی سیمینار، نوجوانوں کو اپنے حقوق اور تحفظ سے متعلق آگاہی دینا وقت کی اہم ضرورت ہے: صوبائی محتسب سندھ محمد سہیل راجپوت

جامشورو: صوبائی محتسب سندھ کے برانڈ ایمبیسیڈر پروگرام کے تحت لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (لمس) جامشورو کے اورک آڈیٹوریم میں ایک بڑے آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران، افسران، طلبہ اور طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اس موقع پر صوبائی محتسب سندھ محمد سہیل راجپوت نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی ساڑھے پانچ کروڑ آبادی کے تناسب سے صوبائی محتسب کے ادارے کو انتہائی کم شکایات موصول ہوتی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام اپنے حقوق اور صوبائی محتسب کے ادارے کے کردار سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سندھ کی آبادی کا 46 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، جن کی عمریں 30 سال سے کم ہیں۔ نوجوانوں کو ان کے مستقبل سے متعلق فیصلوں میں شامل نہ کرنا مناسب عمل نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ برانڈ ایمبیسیڈر پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو اپنا سفیر بنایا جائے گا تاکہ وہ معاشرے میں اپنے حقوق، تحفظ اور صوبائی محتسب کے ادارے کے کردار سے متعلق آگاہی پھیلائیں۔ میڈیکل کا شعبہ ایسا اہم شعبہ ہے جس کے ذریعے معاشرے کے افراد سے براہِ راست رابطہ ہوتا ہے، اس لیے طبی شعبے سے وابستہ افراد کو کمیونٹی کے مسائل اور لوگوں کی مشکلات کو سمجھنے اور ان کی رہنمائی کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج لمس میں اس پروگرام کے انعقاد کا مقصد نوجوانوں کو ان کے حقوق اور تحفظ کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا ہے۔ سال 2024ء سے صوبے بھر میں آگاہی سیمینارز اور کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی معیار میں بھی پہلے کے مقابلے میں فرق آیا ہے اور سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کی کارکردگی میں نمایاں فرق موجود ہے، جس کے لیے نوجوانوں میں شعور اور آگاہی پیدا کرنا ضروری ہے۔

اس موقع پر لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز جامشورو کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اکرام الدین اجن نے صوبائی محتسب سندھ محمد سہیل راجپوت اور دیگر معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمارے لیے انتہائی خوشی اور فخر کا دن ہے کہ صوبائی محتسب سندھ کا برانڈ ایمبیسیڈر پروگرام ہماری یونیورسٹی میں منعقد کیا گیا ہے۔ میں اپنی جانب سے اور پوری یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے صوبائی محتسب سندھ اور ان کی ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہوں اور شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے لمس جیسے اہم طبی ادارے کو اس آگاہی مہم کے لیے منتخب کیا۔

انہوں نے کہا کہ میڈیکل کا شعبہ ایسا شعبہ ہے جس کے ذریعے کمیونٹی کے لوگوں سے براہِ راست رابطہ رہتا ہے۔ ہمارے طلبہ مستقبل کے ڈاکٹر بننے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے خدمتگار بھی ہیں، اس لیے انہیں اپنے حقوق، مریضوں کے حقوق اور عام شہریوں کے حقوق سے متعلق مکمل آگاہی ہونا انتہائی ضروری ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ہمارے اساتذہ، افسران، طلبہ اور طالبات پہلے ہی اپنے حقوق، آگاہی اور تحفظ کے حوالے سے کافی حد تک باخبر ہیں اور یونیورسٹی کی سطح پر بھی انہیں اس بارے میں رہنمائی فراہم کی جاتی رہی ہے۔ تاہم آج کے اس پروگرام سے ان کے علم اور شعور میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ لمس انتظامیہ مستقبل میں بھی ایسے آگاہی پروگراموں کے انعقاد میں صوبائی محتسب سندھ کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی۔

اس سے قبل صوبائی محتسب سندھ کے رجسٹرار مسعود عشرت نے اپنے خطاب میں ادارے کی کارکردگی، شکایات کی نوعیت اور اعداد و شمار کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ ان کے مطابق جنوری سے دسمبر 2025ء کے دوران مجموعی طور پر 25 ہزار 217 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے ابتدائی جانچ پڑتال کے بعد 8 ہزار 854 شکایات خارج جبکہ 16 ہزار 363 شکایات باقاعدہ طور پر درج کی گئیں، جبکہ اس دوران 12 ہزار 591 شکایات کے فیصلے کیے گئے۔

اسی طرح جنوری سے ستمبر 2026ء تک موصول ہونے والی 16 ہزار 685 شکایات میں سے 6 ہزار 455 خارج، 10 ہزار 230 باقاعدہ درج کی گئیں، جبکہ 10 ہزار 898 شکایات کے فیصلے کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ شکایات میں غیر مؤثر سروس ڈیلیوری، میونسپل سروسز، انفراسٹرکچر، پانی و سیوریج، ماحولیاتی مسائل، پولیس کی زیادتیاں، ایف آئی آر درج نہ کرنا، کے ڈی اے، کے ایم سی، ایل ڈی اے، ایم ڈی اے، سائٹس کے زمین سے متعلق مسائل، سیسی اور صحت کی سہولیات سے متعلق شکایات شامل ہیں۔

سیمینار کے دوران برانڈ ایمبیسیڈر پروگرام کا تعارف صوبائی محتسب سندھ کی ایڈوائزر ریحانہ جی علی میمن نے پیش کیا، جس میں انہوں نے صوبائی محتسب کے ادارے کے کام کرنے کے طریقہ کار، شکایات جمع کرانے اور ان پر کارروائی کے مراحل کے بارے میں تفصیلی روشنی ڈالی۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *