



گورنمنٹ علی بابا بوائز ڈگری کالج کوٹری میں طلبہ کی حاضری کا تناسب تشویشناک حد تک کم
1200 طلبہ میں سے صرف 30 سے 40 فیصد حاضر، صنعتی آلودہ پانی سے عمارت کو نقصان اور مچھروں کی افزائش کا مسئلہ؛ محتسبِ اعلیٰ سندھ کے ریجنل ڈائریکٹر کا دورہ
حیدرآباد ر یجنل ڈائریکٹرمحتسب حیدرآباد سید محمد سجاد حیدر شاہ نے گورنمنٹ علی بابا بوائز ڈگری کالج کوٹری کا دورہ کیاجہاں انہوں نے کالج میں طلبہ کی حاضری کے کم تناسب اور تعلیمی سرگرمیوں، طلبہ کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور عمارت کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا۔اس موقع پرانہیں کالج کے پرنسپل نذاکت علی بابلانی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 1975 میں قائم ہونے والے اس ادارے میں تقریباً 1200 طلبہ زیرِ تعلیم ہیں تاہم روزانہ حاضری کا تناسب صرف 30 سے 40 فیصد ہے۔ کالج میں پری میڈیکل، پری انجینئرنگ، کامرس، آرٹس اور کمپیوٹر سائنس کے شعبوں میں تعلیم فراہم کی جا رہی ہے جبکہ اساتذہ اور دیگر عملے کی مجموعی تعداد تقریباً 100 ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صنعتی آلودگی کا ایک سنگین مسئلہ بھی سامنے آیا، پرنسپل نے بتایا کہ سائٹ صنعتی علاقے سے خارج ہونے والا آلودہ پانی کالج کی عمارت کو نقصان پہنچا رہا ہے اور اس کے باعث مچھروں کی افزائش میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جس سے طلبہ اور عملے میں ملیریا سمیت دیگر امراض کے پھیلنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے اس مسئلے کے فوری اور مستقل حل کا مطالبہ کیا۔دورے کے دوران کالج کے کھیل کے میدانوں کی حالت بھی انتہائی ناگفتہ بہ پائی گئی، جہاں جگہ جگہ خودرو جھاڑیاں اور جنگلی گھاس پھوس ا±گی ہوئی تھی اور میدانوں کی مناسب صفائی و دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث وہ کھیلوں کی سرگرمیوں کے قابل نہیں رہے۔ اسی صورتحال کے باعث طلبہ کے لیے کھیلوں اور دیگر جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے، جو ان کی جسمانی صحت اور ہمہ جہت نشوونما کے حوالے سے ایک تشویشناک امر ہے۔پرنسپل نے بتایا کہ کالج میں پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی بھی ایک بڑا مسئلہ تھا تاہم ڈپٹی کمشنر جامشورو کی خصوصی دلچسپی اور تعاون سے چند ماہ قبل پانی کا مسئلہ حل ہوگیا۔ریجنل ڈائریکٹر محتسب حیدرآبادسید محمد سجاد حیدر شاہ نے کالج انتظامیہ کو یقین دہانی کرائی کہ نشاندہی کیے گئے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا جائے گا اور طلبہ کو درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے اپنا کردار ادا کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، عمارتوں کی مناسب دیکھ بھال اور صحت مند تعلیمی ماحول کا قیام انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں کی ذمہ داری محض تدریسی سرگرمیاں جاری رکھنے تک محدود نہیں بلکہ طلبہ کو صاف ستھرا، محفوظ اور صحت مند ماحول فراہم کرنا بھی متعلقہ محکموں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ طلبہ کی حاضری، صحت اور تعلیمی سرگرمیوں کو متاثر کرنے والے مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دیتے ہوئے انہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہیے۔