حیدراباد تھانہ قاسم اباد کی حدود میں 29 اکتوبر کی رات 14 سالہ کمسن بچی فرزانہ سولنگی کے ساتھ مبینہ زیادتی کیس کو 9 روز گزرنے کے بعد بھی نامزد ملزمان کو پولیس گرفتار کرنے میں ناکام۔اس سلسلے میں سولنگی ویلفیئر ارگنائزیشن پاکستان کے رہنماؤں ایڈوکیٹ دیدار سولنگی ایڈوکیٹ کامران سولنگی ندیم سولنگی اور متاثرہ بچی کے والد راحت سولنگی نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعہ میں نامزد ملزمان عدنان تھیبو اور نعمان سومرو کو فوری طور پر گرفتار کر کے سولنگی برادری اور جاگیرانی قبیلے میں ممکنہ جھگڑے کے خطرے کو روکا جائے انہوں نے کہا کہ متعلقہ پولیس مقدمہ درج ہونے کے باوجود بھی نامزد ملزمان کو گرفتار کرنے میں تاخیری حربے استعمال کر رہی ہےجو مظلوم خاندان کے ساتھ انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ اور حالات کو خراب کرنے کا سبب بن سکتی ہے انہوں نے کہا کہ سندھ کی بیٹی کے ساتھ اتنی بڑی زیادتی کے باوجود بھی وزیراعلی سندھ حکومتی بینچوں پر بیٹھے ہوئے اراکین خاموش ہیں انہوں نے کہا کہ سولنگی برادری کے ساتھ کسی قسم کی یکطرفہ نا انصافی نہ کی جائے بلکہ۔ دونوں فریقین کے ساتھ قانون کے مطابق یکساں سلوک روا رکھا جائے بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی میں۔ ملوث نامزد ملزمان کو فوری گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لا کر کھڑا کیا جائے علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا اور مزید لڑائی جھگڑے کو روکنے کے اقدامات کیے جائیں متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے انہوں نے صدر مملکت وزیراعلی سندھ ائی جی سیندھ ڈی ائی جی حیدراباد ایس ایس پی خیرپور اور متعلقہ اراکین صوبائی وقومی اسمبلی و دیگر با اختیار حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں متاثرہ خاندان کی بحالی کے اقدامات بھی کیے جائیں ۔
Posted inکراچی