

حیدرآباد: سندھ پبلک سروس کمیشن (ایس پی ایس سی) نے کہا ہے کہ مشترکہ مسابقتی امتحان (CCE) 2024 کے نتائج میں کامیاب نہ ہونے والے امیدواروں میں بے چینی پائی جا رہی ہے، جس کی بنیادی وجہ نتائج میں انتہائی کم تعداد میں امیدواروں کی کامیابی ہے۔ کمیشن نے اپنے وضاحتی بیان میں واضح کیا ہے کہ جوابی کاپیوں کی جانچ اور امیدواروں کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لینا مکمل طور پر امتحان لینے والوں (Examiners) کا اختیار ہے، جبکہ اس عمل میں کمیشن کا کوئی عمل دخل نہیں اور نہ ہی وہ امتحان لینے والوں پر سختی یا نرمی کے حوالے سے اثرانداز ہو سکتا ہے۔
ایس پی ایس سی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض امیدوار احتجاجی رویہ اختیار کر رہے ہیں، جبکہ کچھ مفاد پرست عناصر انہیں قانون اپنے ہاتھ میں لینے پر اکسا رہے ہیں، جو کہ قابلِ مذمت اور غیر مناسب عمل ہے۔
کمیشن نے امیدواروں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر کسی کو نتائج کے حوالے سے کوئی جائز اعتراض یا شکایت ہو تو وہ ریگولیشن 161 (Recruitment Management Regulations-2023) کے تحت باقاعدہ درخواست جمع کرائیں، جس پر قانون کے مطابق منصفانہ جائزہ لے کر مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔
پریس ریلیز کے مطابق عدالتی احکامات کی روشنی میں مشترکہ مسابقتی امتحانات اب ہر سال باقاعدگی سے منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ شفافیت اور تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔ ناکام امیدواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئندہ امتحان کے لیے مزید محنت اور جذبے کے ساتھ تیاری کریں۔
سندھ پبلک سروس کمیشن نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امتحانی عمل میں شفافیت، میرٹ اور دیانت داری کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ عوام اور امیدواروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بے بنیاد پروپیگنڈے سے گریز کریں اور اپنی محنت جاری رکھیں۔
