

حیدراباد ایم کیو ایم پاکستان نے آئندہ بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کا عندیہ دیدیا کراچی کی طرح حیدرآباد کے ترقیاتی کاموں کی نگرانی ایف ڈبلیو او کے حوالے کی جائے حیدرآباد سمیت سندھ بھر میں منشیات فروشوں کی سرپرستی کرنے والے افسران کے ناموں کو ظاہر ان کے خلاف بھی کاروائ کو یقینی بنایا جائے پیپلز پارٹی 1972 کی طرح ایک بار پھر سندھ کے عوام اور علاقوں کو تقسیم کرنے پر عمل پیرا ہے سندھ کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں شہری پانی بجلی اور گیس کے لئیے ترس رہے ہیں یہ بات حق پرست اراکین قومی و صوبائی اسمبلی انجینئر صابر حسین قائم خانی ناصر حسین قریشی اور پروفیسر عبدالعلیم خانزادہ نے ایم کیو ایم کے پبلک سیکٹریٹ آفس پر ایک پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی اس موقع پر جوائنٹ ڈسٹرکٹ انچارج سعید عزیز افتخار قائم خانی ندیم قاضی اور جاوید قریشی بھی موجود تھے ایم پی اے صابر حسین قائم خانی نے کہاکہ حیدرآباد میں جاری ترقیاتی کاموں کی شفاف نگرانی نہ ہونے کے باعث عوامی وسائل کے موثر استعمال پر سنجیدہ خدشات پیدا ہورہے ہیں میونسپل کارپوریشن ٹاؤنز اور یونین کونسلوں کے تمام ترقیاتی منصوبوں کا آزادانہ آڈٹ کروایا جائے اور منصوبوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں صابر قائم خانی نے کہاکہ سندھ حکومت کے ماتحت کام کرنے والے مختلف 47 محکموں اور ان کی کارکردگی پر بات ہونی چائیے صرف گندم میں 130 ارب روپے کی کرپشن کی گئ ہے 14 ہزار روپے فی 100 کلو گندم کی بوری 8 ہزار روپے میں فروخت کی گئ بے نظیر بھٹو ہاری کارڈ کے اجراء کی شفاف تحقیقات کرائی جائے صابر قائم خانی نے کہاکہ حیدرآباد کی سرکاری اراضی پر منظم انداز سے مافیاء قبضے کررہی ہے اپنی ہاؤسنگ اسکیموں کے لئیے پانی کی فراہمی کے لئیے دو نئے فلٹر پلانٹس بنائے جارہے ہیں جہاں سے شہریوں کو پانی فراہم کرنا ایک مذاق ہے لائن چینل ٹوٹ پھوٹ کا شکار سندھ میں آبپاشی کے لئیے پانی نہیں جبکہ شہری پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں حیدرآباد کا انفراسٹرکچر تباہی سے دوچار ہے بلدیہ حیدرآباد کا ساڑھے 5 ارب روپے کا سالانہ بجٹ کہاں استعمال ہو رہا ہے کسی کے علم میں نہیں ہے بین الاقوامی اہمیت کے حامل نیاز اسٹیڈیم پر کروڑوں روپے خرچ کرنے کا دعوی کیا جارہا ہے جبکہ پی سی بی حکام نے اسٹیڈیم کی صورتحال پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے دیگر کھیل کے میدانوں کی ابتر صورتحال ہے شہر کی واحد تفریحی گاہ رانی باغ کو اجاڑ دیا گیا ڈی پارک پر 40 کروڑ روپے اور ایک جھنڈا پر 7 کروڑ روپے کے اخراجات معنی خیز ہیں جس کی شفاف تحقیقات ہونی چائیے صابر قائم خانی نے کہاکہ بلدیہ حیدرآباد کی قیمتی پراپرٹی فروخت کرنے کا مقتدر حلقے نوٹس لیں اداروں کے نام اور قانون بدلنے سے کارکردگی نہیں بدلا کرتی واسا شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی میں ناکام رہا ہے نااہل مئیر بلدیہ پر کرپشن کے الزامات ہیں ان کی تحقیقات ہونی چائیے مئیر 53 ارب کی باتیں کرتے ہیں جو آئے ضرور ہیں مگر خرچ کہاں ہوئے یہ عوام کو بتایا جائے صابر قائم خانی نے کہاکہ ایم کیو ایم آئندہ بلدیاتی انتخابات میں بھرپور تیاریاں کے ساتھ حصہ لے گی ہم کراچی اور حیدرآباد کی مئیر شپ واپس لیں گے ایم پی اے ناصر حسین قریشی نے کہاکہ شہری بنیادی سہولیات سے محروم ہیں قبرستانوں کی حالت زار ہے نیو مسلم قبرستان کا روڑ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے میت بس تک نہیں جاسکتی لوگ سیکورٹی کے بغیر قبرستان نہیں جاتے پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اور تختی مئیر نے حیدرآباد کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا ہے ضلعی انتظامیہ اور سندھ حکومت کا حال یکساں ہے رکن قومی اسمبلی پروفیسر عبدالعلیم خانزادہ نے کہاکہ حق پرست اراکین اسمبلی عوام کو درپیش مسائل اجاگر کرتے آرہے ہیں سندھ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے سندھ میں میرٹ کا قتل کیا جارہا ہے مساوات اور برابری کے حقوق جاب دینا اب ایک خواب بن کر رہ گیا ہے کمیشن کے امتحانی اور انٹرویو کے طریقے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے