
حیدرآباد لطیف آباد کی رہائشی بی بی زاہدہ تالپور نے اپنے دیگر اہل خانہ کے ہمراہ حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بااثر رشتہ دار میر فضل علی تالپور عرف بابا سائیں میر شاہنواز تالپور عرف شان میر شہداد ٹاؤن لطیف آباد یونٹ نمبر 9 میں ہماری مورثی ملکیت آدھا ایکڑ پلاٹ جس کے تمام کاغذات ان کی والدہ مرحوم بھائ اور مرحومہ بہن کے نام پر رجسٹرڈ ہیں زبردستی قبضہ کرنا چاہتے ہیں گزشتہ روز جب ہم اپنے پلاٹ پر پہنچے تو میر فضل تالپور میر شاہنواز تالپور اور ان کے مسلح افراد نے ہم پر فائرنگ شروع کردی اور ڈنڈوں سے شدید تشدد کا نشانہ بنایا جس کی اطلاع تھانہ بی سیکشن کو دی گئ پولیس نے ۔میڈیکل لیٹر دے کر سول ہسپتال روانہ کردیا مگر پولیس واقعہ کی ایف آئی آر درج کرنے میں ٹال مٹول سے کام لے رہی بااثر ملزمان ہمیں اور اہل خانہ کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے جان و مال سے نقصان پہنچانے کی مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں اور قانونی رٹ کو کھلم کھلا چیلنج کررہے ہیں انہوں نے صدر مملکت آصف علی زرداری وزیر اعظم شہباز شریف فیلڈ مارشل پاکستان سید حافظ عاصم منیر چیف جسٹس آف سپریم کورٹ چیف جسٹس سندھ ہائ کورٹ صوبائ وزیر داخلہ ڈی جی آئ ایس آئ ڈی جی سندھ رینجرز آئ جی سندھ ڈی آئ جی ایس ایس پی حیدرآباد سے انسانی ہمدردی کے ناطے پرزور اپیل کی کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے بااثر میر فضل تالپور میر شاہنواز تالپور اور ان کے مسلح افراد کی فائرنگ تشدد کی ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا جائے اور ملزمان کو رجسٹرڈ پلاٹ پر غیر قانونی قبضہ سے باز رکھا جائے