
” *ملاوٹ* ‘ *جسے ہم قومی فریضہ سمجھ بیٹھے ہیں اس کا اخروی و مذہبی انجام*
دنیا میں کوئی بھی مذہب یا قانون ایسا نہیں جس میں جزا و سزا کا تصور یا احکامات موجود نہ ہوں۔ یہود و نصاری میں ہیون اور ہیل، ہندوؤں میں سورگ و مرگ کا تصور، اسی طرح دنیا کے ہر مذہب اور قانون میں برس فعل کرنے والے کی ایک سزا ضرور مقرر ہے۔
کفار و منکرین بیشک تسلیم نہ کریں لیکن اس بات کو آج تک کوئی رد نہیں کر سکا کہ قرآن مجید فرقان حمید اللّٰہ تعالیٰ کی جانب سے نازل کی گئی ایک سچی کتاب ہے جس میں کوئی شک کی بات نہیں اور اسے دنیا میں جن پر نازل کیا گیا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سچے انسان ہیں اوران کا ہر فرمان مبارک یقینی و پختہ ہے۔
تو پھر اس کے پیرو کاروں پر دین اسلام کے پیرو کاروں پر اپنے دین پر عمل پیرا ہونا کس قدر لازم ہو گا اور سب سچ جاننے کے باوجود نافرمانی کرنے والوں کا انجام کیا ہو گا؟
اسلامی تعلیمات کے مطابق ملاوٹ کرنے والے مسلمان کا انجام بہت برا ہوگا۔ اسلام میں ملاوٹ کرنا حرام ہے اور اس کی سخت سزا ہے۔
*قرآن مجید میں ملاوٹ کی سزا*
– سورہ مطففین میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ وَإِذَا كَالُوهُمْ أَوْ وَزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ” (سورة المطففين: (آیات 1-3)
ترجمہ: “تباہی ہے وہ لوگوں پر جو ناپ تول میں کمی کرتے ہیں۔ جب لوگوں سے ناپ لیں تو پورا لیتے ہیں اور جب خود دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں۔”
*حدیث میں ملاوٹ کی سزا*
– حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جو شخص ملاوٹ کرے وہ ہم سے نہیں ہے۔” (صحیح مسلم)
*ملاوٹ کرنے والے کا انجام*
– ملاوٹ کرنے والا مسلمان دنیا میں تو سزا سے بچ سکتا ہے لیکن آخرت میں اس کا انجام بہت برا ہوگا۔
– اسے اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دینا ہوگا۔
– اس کی تجارت اور رزق میں برکت نہیں ہوگی۔
– اسے جہنم میں داخل کیا جائے گا۔
لیکن موجودہ حقیقت کیا ہے کہ ہمارے معاشرے میں ملاوٹ اس طرح کی جا رہی ہے جیسے کہ کوئی قومی فریضہ سر انجام دیا جاتا ہے، اور ملاوٹ بھی ایسی کی انسانیت بھی نفرت سے منہ پھر لے۔ کیونکہ ہمارے ہاں ملاوٹ کے لیے جن چیزوں کو چنا جاتا ہے وہ نہ صرف حرام، انسانی زندگی کے لیے زہر قاتل ہیں۔
خبر چل رہی ہے کراچی شہر میں دودھ کی قیمت کا 100 روپے فی کلو اضافے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ شائید دھابیجی پمپ میں خرابی کے باعث شہر میں پانی کی قلّت کی وجہ سے ملاوٹ کے لیے بھی پانی کم پڑ گیا ہے، اسی طرح پنجاب میں پانی پہ ٹیکس لگانے کی وجہ سے اضافے کی آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔ لا محالہ ٹیٹرا پیک والوں کو بھی موقع مل جائے گا۔
پہلے قوم کو اصل دودھ کے بجائے کیمیکل سے تیار کیا گیا جعلی دودھ اصل دودھ میں ملا کر فروخت کیا جا رہا ہے۔ دودھ کے ایسے سخی کاروبار والے میدان میں آ چکے ہیں جس نہ صرف سستا دودھ بیچتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ پیکج میں کوئی کلو دودھ کے ساتھ 1/2 کلو دودھ یا ڈبل روٹی فری دے رہا ہے تو کوئی دیگر رعایات مفت فراہم کر رہا ہے۔ دودھ گاڑھا کرنے کے لیے صرف استعمال کیا رہا ہے اور دیگر کیمیکل دودھ مقدار میں اضافہ کیا جاتا اس کے بعد ایمانداری ایسی کہ دودھ میں پانی نہیں ملایا جاتا بلکہ پانی میں دودھ شامل کیا جاتا ہے۔ اور والدین زیادہ قیمت دے کر بھی یہ دودھ اپنے معصوم بچوں کو پلانے پر مجبور ہیں۔
چین کو جن گدھوں کی کھالیں فروخت کی جا رہی ہیں ان کا گوشت اور قیمہ ہوٹلوں کے کھانوں اور دیگر جگہوں پر خاموشی سے استعمال کیا جاتا ہے، کیونکہ ان تک کسی میڈیا میں گوشت تلف کرنے کی تصویر تک جاری نہیں کی گئی، پھر بکرے کے گوشت میں کتے کے گوشت کی ملاوٹ، مردہ مرغیوں کا گوشت، شوارمے میں مینڈکوں کے گوشت کی متعدد رپورٹس منظر عام پہ آ چکی ہیں۔
مصالہ جات میں اینٹوں، کالے چنے کے چھلکے، ادویات میں خالی پاؤڈر، تنوروں پہ کھڑے کے وزن میں کمی، پرانی بچ جانے والی سبزی اور پھل کو تازہ مال کے ساتھ مکس کرنا تو عام سی بات ہے۔
ناپ تول میں کمی کو ہم نے برا سمجھنا ہی چھوڑ دیا ہے، جعلی انڈے اور پلاسٹک کے چاول بھی اب معمولی بات بن چکے ہیں۔
گرمیوں کا آغاز ہو چکا ہے اسٹنگ اور دیگر کولڈ ڈرنکس مشروبات کھلے عام بیچے جائیں گے کوئی ارادہ ان کی کوالٹی چیک نہیں کرے گا۔
ککنگ آئل اور گھی جانوروں کی چربی اور ہڈیوں کا پاؤڈر مکس کر کے بنایا جاتا ہے،
ملاوٹ’ کے حوالے سے AI کے مشورے:
– ملاوٹ سے بچنے کے لیے ہم کو اپنی نیت کو صاف رکھنا چاہیے۔
– ہم کو اپنی تجارت اور رزق میں حلال اور حرام کا فرق کرنا چاہیے۔
*ملاوٹ کے اسباب:*
– دولت کی ہوس اور منافع خوری
– حکومتی قوانین کی کمزوری اور ان پر عمل نہ ہونا
– عوامی آگاہی کی کمی
*ملاوٹ کے نقصانات:*
– انسانی صحت کو نقصان پہنچنا
– بیماریوں میں اضافہ
– معاشی نقصان
*ملاوٹ کو روکنے کے لئے کیا کیا جا سکتا ہے؟*
– حکومتی قوانین کو مضبوط بنانا اور ان پر عمل کروانا
– عوامی آگاہی بڑھانا
– ملاوٹ کے خلاف کارروائی کرنا
اسد الحق قریشی
چیئرمین ابابیل خیرالبشر موومنٹ