
*ڈاکٹر* ، *مسیحا* ، *قاتل* ، *انسان دوست یا دشمن یا کمیشن ایجنٹ*
صحت عامہ انسانی زندگی کی بقا کے لیے ایک اہم ترین شعبہ ہے دنیا میں بسنے والا ہر شخص اس شعبے کا مرہون منت ہے، بیماریوں کا علاج، ادویات یا ٹوٹکوں کا استعمال لازمی ہو جاتا ہے، ویسے تو دنیا میں متعدد طرز کے علاج استعمال کیے جاتے ہیں لیکن ایلوپیتھک، ہومیوپیتھی اور حکمت کو زیادہ ترجیح دی جاتی ہے اور دنیا بھر کے کاروباری افراد ان میں خصوصی دلچسپی بھی رکھتے ہیں اور انتہائی کثیر سرمایہ کاری بھی کرتے ہیں۔ خصوصاً ایلوپیتھک یا عرف عام میں انگریزی ادویات کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اس کے بعد ہومیوپیتھی اور تیسرے نمبر پر حکمت اور دیگر طریقوں کے علاج شامل ہیں۔
ایلوپیتھک علاج کے متعدد شعبہ جات ہیں اور انسانی جسم کے ہر حصے ہر تحقیق بھی جاری رہتی ہے اور اس کی تربیت حاصل کرنے کے بعد عام ڈاکٹر اسپیشلسٹ کی حیثیت سے علاج میں تجربہ کار بھی ہو جاتے ہیں شہرت بھی حاصل کرتے ہیں۔ جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے ان کی ڈگریوں تجربوں کے ساتھ ساتھ ان کی فیسوں میں بھی خاطر خواہ اضافے ہو جاتے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریباً ،،%35 ڈاکٹرز باقاعدہ MBBS کی رجسٹرڈ ڈگری رکھتے ہیں اور %65 ڈاکٹرز میڈیکل کی تعلیم حاصل کیے بغیر صرف تجربے کی بنیاد پر کلینک چلا رہے ہیں ان کی دیکھا دیکھی بہت سے جعلی معالج (عطائی) بھی اس بہتی گنگا میں اپنی کمائی کرتے نظر آتے ہیں۔
حکومت نے اس معاملے سے نمٹنے کے لیے ایک الگ ادارہ PMDC کے نام سے قائم کیا اور عطائی ڈاکٹروں اور بنا میڈیکل کی مستند ڈگری کے صرف تجربے کی بنیاد پر پریکٹس کرنے والے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے خلاف کاروائیاں شروع کیں اور مخصوص SOPs بھی جاری کیے اور ان کے تحت گرفتاری اور بھاری جرمانے وصول کرنے اور کلینکس کو سیل کرنے کے سلسلے کا آغاز کر دیا۔
پہلی مشکل یہ درپیش آئی کہ تمام سرکاری ہسپتالوں میں تعینات سند یافتہ ڈاکٹرز کم سے کم آرام بھی کریں تو ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کا لوڈ نہیں اٹھا سکتے، اگر غیر سرکاری، پرائیویٹ %65 ڈاکٹرز کو مکمل روک دیا گیا تو محض %35 مستند ڈاکٹروں سے ملک میں علاج کی سہولتیں فراہم کرنا کسی صورت بھی ممکن نہیں ہے۔
اس کے پیش نظر محکمہ صحت کے ذیلی ادارے PMDC کے اراکین نے اپنے طریقہ کار میں کچھ تبدیلیاں کیں اور مخصوص مخبری کا ایک خفیہ نظام قائم کیا اور پہلے عطائی ڈاکٹروں اور پھر ان کے ساتھ ان ڈاکٹرز کے خلاف آپریشن کا آغاز شروع کیا جن کی شہرت بھی ٹھیک نہیں تھی اور تجربہ بھی درست نہیں تھا، اس کے ساتھ کلینکس کے لیے مخصوص SOPs بھی جاری کیے تا کہ پہلے کلینکس اور ہسپتالوں کے نظام کو درست کیا جا سکے۔ بہرحال یہ سلسلہ مختلف طریقوں سے آج بھی جاری ہے، لیکن یہ معاملات بھی طے ہیں اور عدلیہ میں بھی اس حوالے سے کیسز چل رہے ہیں جن کے حتمی فیصلے کا انتظار بھی کیا رہا ہے۔
تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ سند یافتہ تجربہ کار ڈاکٹروں اور اسپیشلسٹ کیا واقعی عوام الناس کے لیے مسیحا کا کردار ادا کرتے ہوئے علاج کی سہولتیں فراہم کر رہے ہیں؟ کیا جگہ جگہ کھلے ہسپتال عوامی خدمت یا بھلائی کے لیے قائم کیے جاتے ہیں؟ یا یہ محض کاروباری اڈے بنائے جاتے ہیں؟
سوال یہ ہے کہ سرکاری و نجی ہسپتالوں میں معقول، بہتر، اصل مرض کے مطابق علاج اور ادویات لکھی جاتی ہیں؟ سرکاری ہسپتالوں میں مفت ادویات کی مکمل فراہمی کے انتظامات ہوتے ہیں؟ اور دی جانے والی ادویات مستند دواساز کمپنی کی ہوتی ہیں یا غیر معیاری کمپنیوں کی ادویات صرف رسمی کاروائی پورا کرنے کے لیے دی جاتی ہیں ان میں سے بھی اکثر ادویات موجود ہی نہیں ہوتیں۔
ہسپتال چاہے سرکاری ہوں یا نجی عوام الناس دونوں جگہوں پر رلتی ہی دکھائی دیتی ہے، گزرتے وقت کے ساتھ علاج کے اخراجات بھی عام لوگوں کی استطاعت سے باہر ہی ہوتے جا رہے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں بظاہر علاج کی سہولتیں مفت فراہم کی جاتی ہیں لیکن دراصل یہ سہولیات انتہائی محدود ہوتی ہیں شدید یا طویل بیماریوں کے چیک اپس تو فری ہوتے ہیں لیکن مہنگی ادویات اور دیگر اخراجات بنا خرچ کے کرانا ممکن نہیں ہوتا۔
نجی ہسپتالوں میں پہلے تو ڈاکٹرز کی فیس اور پھر اس کی لکھی گئی مہنگی ادویات کے خرچے بھی پورے نہیں ہو پاتے کیونکہ دراصل نجی ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کی لکھی ادویات سوائے مخصوص میڈیکل اسٹورز کے پورے شہر میں دستیاب ہی نہیں ہوتی اور متعلقہ ڈاکٹرز بھی صرف لکھی گئی ادویات کے استعمال پر ہی زور دیتے ہیں کہ ان کے استعمال کے بنا مریض صحتیاب ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ لکھی گئی ادویات فراہم کرنے والی کمپنیوں سے ان ڈاکٹرز کو خاطر خواہ کمیشن اور دیگر سہولیات حتیٰ کہ زیادہ ادویات لکھنے والے ڈاکٹروں کو بیرون ملک کورسز اور سیر و تفریح تک کے مفت اقدامات میڈیسن کمپنیوں کی جانب سے فراہم کی جاتی ہیں۔
اس کے علاؤہ نجی میٹرنٹی ہوم میں گائنی کی ڈاکٹرز کم مڈوائف۔ اور آیا کا تجربہ رکھنے والی (جن کا اصل کام صفائی سے متعلق ہوتا ہے) دیکھ بھال اور ادویات و انجیکشن لگانے والی تجربہ کار نرسیں بچوں کی ڈیلیوری اور خواتین کے دوران زچگی علاج کرتی دکھائی دیتی ہیں، اکثر خواتین یہ فریضہ اپنے گھروں میں ہی انجام دے رہی ہیں.
گائنی کلینکس میں زیادہ تر ڈیلیوری صرف آپریشن سے کی جاتی ہیں نارمل ڈیلیوری بہت ہی کم ہوتی ہے کیونکہ اس میں ڈاکٹر کا کمیشن اور کلینک کو اخراجات بہت کم ملتے ہیں۔
سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹرز بھی صبح سرکاری نوکری کرتے ہیں اور مخصوص مریضوں کو جلد اور بہتر علاج کے لیے شام کے اوقات میں اپنے نجی کلینکس پر ہی بلاتے ہیں تا کہ وہاں علاج کی فیس بھی حاصل کی جا سکے اور کمپنیوں کے کمیشنر سے بھی فیضیاب ہوا جا سکے۔
کیونکہ مریض سے تو دوا پر تحریر کی گئی مکمل قیمت وصول کی جاتی ہے جبکہ درحقیقت لوکل کمپنیوں کی ادویات دوا ساز فیکٹریوں سے نہایت ہی کم پر جاری کی جاتی ہیں جن سے کنٹریکٹرز، سپلائرز، ہول سیلرز، میڈیکل اسٹورز اور ڈاکٹرز کے خاطر خواہ کمیشنر وصول کیے جاتے ہیں۔
بلکل ایسا ہی احوال جگہ جگہ قائم لیبارٹریز ان کے کلیکشن پوائنٹس کا بھی ہے، تھوڑا سا غور کریں تو ہر لیبارٹری سلپ پر ٹیسٹ لکھنے والے ڈاکٹروں کے نام باقاعدہ درج ہوتے ہیں کیونکہ ہر مہینے اس ڈاکٹر کو لیبارٹری بھیجے گئے مریضوں کے لیے گئے ٹیسٹوں کا کمیشن ادا کرنا ہوتا ہے۔ یہی بنیادی وجہ ہے کہ ڈاکٹرز کسی دوسری لیبارٹری کے ٹیسٹ کو درست تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ اکثر لیبارٹریز میں ٹیسٹ سرے سے کیے ہی نہیں جاتے صرف جعلی رپورٹ لکھ کر دی جاتی ہے اور وہ پہلے سے متعلقہ ڈاکٹر تسلیم کر لیتے ہیں کیونکہ ان کی جانب سے لکھے گئے ٹیسٹ ہی بلا وجہ کرایے جاتے ہیں تا کہ مریض کو یہ ظاہر کیا جائے کہ اس کا مرض خطرناک ہے اور اس کی تشخیص کے لیے مخصوص لیبارٹری سے ٹیسٹ کروانا نہایت ضروری ہے۔
ڈاکٹروں کی ملی بھگت سے پہلے ادویات اور ساتھ ہی لیبارٹریوں کا یہ دھندہ کھلے عام اور دھڑلے سے جاری ہے اور ان پر کوئی چیک اینڈ بیلنس کا سسٹم ہے ہی نہیں۔
اسپیشلسٹ ڈاکٹرز اپنی حاصل کردہ ڈگریوں اور تجربہ کی بنا پر بھاری بھرکم فیسیں بھی وصول کرتے ہیں اور مریض کو ہاتھ لگانا بھی گوارا نہیں کرتے صرف مریض یا اس کے ساتھ آئے لواحقین کی جانب سے مریض کو لاحق تکلیف سے آگاہ کرتے ہیں، چاہے وہ درست ہوں یا نامکمل کیفیات آپ جو بتائیں گے صاحب اسے ہی درست جان کر بنا چیک اپ کیے موصوف ایک طویل فہرست ادویات کی لکھتے ہیں، جس میں بتائے گئے مرض کے مطابق 2/4 ادویات اور باقی میڈیسن کمپنیوں کا کمیشن حاصل کرنے کے لیے لکھی گئی ادویات شامل کی جاتی ہیں جن کا متعلقہ مرض سے کوئی واسطہ ہی نہیں ہوتا۔ ساتھ ہی ایک لسٹ ٹیسٹوں کی بمعہ لیبارٹری کے ایڈریس اور دوبارہ بلاوے کی تاریخ کے ساتھ روانگی کا اشارہ کر دیتے ہیں تا کہ اگلا مریض پیش ہو سکے۔
(یہ حقائق تمام اسپیشلسٹ ڈاکٹرز کے نہیں بلکہ مخصوص مافیہ کے حوالے سے عوامی آگاہی کے لیے تحریر کیے گئے ہیں)
اسد الحق قریشی
چیئرمین ابابیل خیرالبشر موومنٹ