ایران میں تاریخی سوگ کا اجتماع رہبر معظم کی آخری رسومات کا آغاز

ایران میں تاریخی سوگ کا اجتماع رہبر معظم کی آخری رسومات کا آغاز
تہران آج ایک ایسے تاریخی لمحے کا مشاہدہ کر رہا ہے جسے ماضی قریب میں شاید ہی کوئی بھول سکے۔ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں شہید ہونے والے رہبر معظم پاسداران انقلاب اسلامی، آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، اور اس موقع پر لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ تہران میں مردم شماری اور تاریخی اجتماع رپورٹس کے مطابق تہران میں دو کروڑ سے زائد افراد اس موقع پر جمع ہو چکے ہیں، اور یہ تعداد بڑھنے کا امکان ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق، 15 سے 20 ملین سوگواروں کے اس اجتماع میں شرکت کی توقع ہے، جو ایران کی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا ریاستی جنازہ قرار دیا جا رہا ہے ۔یہ منظر کسی فلم سے کم نہیں سڑکیں ماتمی لباس میں ملبوس لوگوں سے بھری پڑی ہیں، ہر طرف نوحہ خوانی اور سینہ کوبی کی صدائیں گونج رہی ہیں۔ تہران کا فضائی حدود جزوی طور پر بند کر دیا گیا ہے، اور شہر کے مرکزی علاقے میں ٹریفک کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں تاکہ اس بے پناہ ہجوم کو منظم کیا جا سکے یہ سوال بہت سے ذہنوں میں ہے۔ اگر یہ اندازے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ اجتماع واقعی دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ ہو سکتا ہے۔ 1989 میں آیت اللہ خمینی کے جنازے میں تقریباً ایک کروڑ دو لاکھ افراد نے شرکت کی تھی، جسے گنیز ورلڈ ریکارڈ نے کسی ملک کی آبادی کے تناسب سے سب سے بڑا جنازہ قرار دیا تھا ۔ اس مرتبہ تعداد اس سے بھی زیادہ بتائی جا رہی ہے، جو اس واقعے کی غیر معمولی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ جنازہ محض ایک روزہ تقریب نہیں بلکہ ایک ہفتے پر محیط سوگ ہے، جس کا باقاعدہ شیڈول جاری کر دیا گیا ہے تہران میں امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں پہلے تین دن آخری دیدار کا سلسلہ جاری رہے گا تہران کے مرکزی علاقوں سے جنازے کا جلوس نکالا جائے گا مقدس شہر قم میں رسمی تقریبات ہوں گی عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا میں سوگ کی تقریبات منعقد ہوں گی مشہد میں امام رضا کے مزار پر حتمی تدفین کی جائے گی اس موقع پر بین الاقوامی سطح پر بھی غیر معمولی دلچسپی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سمیت تقریباً 30 ممالک کے نمائندے اس جنازے میں شرکت کریں گے ۔ چین اور افغانستان نے بھی اپنے اعلیٰ سطحی وفود بھیجنے کا اعلان کیا ہے ۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ ان سوگ کی تقریبات کے دوران کسی بھی قسم کی جارحیت کا سخت جواب دیا جائے گا ۔
قومی یکجہتی کی علامت بن گیا یہ جنازہ محض ایک رہنما کی آخری رسومات نہیں، بلکہ ایران کی قومی یکجہتی اور استقامت کا اظہار بھی ہے ۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تمام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس موقع پر شرکت کریں اور اسے دہشت گردی اور ظلم کے خلاف ایک مضبوط جواب قرار دیا ہے یہ ایک ایسا منظر ہے جو شاید ہی کبھی دیکھنے کو ملا ہو ایک پوری قوم اپنے لیڈر کو آخری سلام کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئی، اور یہ اجتماع تاریخ کے صفحات میں ایک سنہری باب کی حیثیت رکھتا ہے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *