HCSTSI، IRM اور SMEDA کے اشتراک سے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس پر تربیتی سیشن
بروقت ٹیکس کمپلائنس، درست ریکارڈ کیپنگ اور دستاویزی معیشت کے فروغ پر زور
حیدرآباد( )حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے زیرِ اہتمام، انسٹی ٹیوٹ آف رورل مینجمنٹ (IRM) کے اشتراک اور اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (SMEDA)، حکومتِ پاکستان کے تعاون سے چیمبر سیکریٹریٹ میں ”انڈر اسٹینڈنگ انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اینڈ ودہولڈنگ ٹیکس” کے موضوع پر ایک جامع تربیتی سیشن منعقد کیا گیا۔اس موقع پر سینئیر نائب صدر احمد ادریس چوہان نے اپنے استقبالیہ میں معزز مہمانانِ گرامی، ایف بی آر کے معزز کنسلٹنٹ، انسٹی ٹیوٹ آف رورل مینجمنٹ (IRM) اور SMEDA کے نمائندگان خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ آج کا یہ تربیتی سیشن موجودہ کاروباری حالات کے تناظر میں نہایت اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ ٹیکس قوانین سے درست آگاہی اور ان پر مؤثر عملدرآمد ہر کاروبار کی قانونی، مالی اور انتظامی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔ حیدرآباد چیمبر ہمیشہ اپنے ممبران اور کاروباری برادری کو جدید کاروباری معلومات، سرکاری پالیسیوں سے آگاہی اور صلاحیتوں میں اضافے کے لیے ایسے مفید پروگراموں کے انعقاد کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ IRM اور SMEDA کے تعاون سے منعقد ہونے والا یہ سیشن شرکاء کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگا اور وہ یہاں سے حاصل ہونے والے علم کو اپنے کاروبار میں بروئے کار لا کر بہتر ٹیکس کمپلائنس اور پائیدار کاروباری ترقی کی جانب پیش رفت کریں گے۔ میں تمام معزز شرکاء اور تعاون کرنے والے اداروں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔اس موقع پر نائب صدر شان سہگل نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور برآمدات میں اضافے کے لیے نوجوانوں کو کاروبار کی جانب راغب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے کاروبار کے آغاز کے لیے درست معلومات، قانونی تقاضوں اور ٹیکس نظام سے آگاہی انتہائی ضروری ہے، اور ایسے تربیتی پروگرام نوجوان کاروباری افراد کو اعتماد کے ساتھ کاروباری میدان میں قدم رکھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حیدرآباد چیمبر نوجوان کاروباری افراد، اسٹارٹ اپس، چھوٹے تاجروں اور صنعتکاروں کی ہر ممکن رہنمائی، سہولت کاری اور متعلقہ سرکاری و نجی اداروں سے روابط کے ذریعے ان کی بھرپور معاونت جاری رکھے گا، تاکہ ایک مضبوط، دستاویزی اور ترقی یافتہ کاروباری ماحول کے قیام کے ساتھ ساتھ قومی معیشت کو مزید مستحکم بنایا جا سکیٹریننگ سیشن کے دوران ایف بی آر کے ماہر کنسلٹنٹ رفیق الزماں اور جہانزیب سلیم نے شرکاء کو پاکستان کے ٹیکس نظام، انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس کے بنیادی تصورات، قانونی تقاضوں اور کاروباری برادری کی ذمہ داریوں سے جامع انداز میں آگاہ کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ٹیکس قوانین پر صحیح عملدرآمد نہ صرف قومی معیشت کے استحکام کے لیے ضروری ہے بلکہ کاروباری اداروں کو قانونی تحفظ اور شفاف کاروباری ماحول فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ شرکاء کو انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس رجسٹریشن، این ٹی این کے حصول، مختلف کاروباری شعبوں بشمول مینوفیکچررز، درآمد کنندگان، برآمد کنندگان، ہول سیلرز، ریٹیلرز اور سروس فراہم کرنے والوں کے لیے قابل اطلاق قوانین، سیلز ٹیکس کی مختلف اقسام، زیرو ریٹنگ، فکسڈ ٹیکس، اضافی ٹیکس، ودہولڈنگ ٹیکس، ان پٹ اور آؤٹ پٹ ٹیکس، ٹیکس ایڈجسٹمنٹ اور ٹیکس کریڈٹ سے متعلق اہم نکات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر ایف بی آر کے آئی رس (IRIS) پورٹل پر رجسٹریشن، انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس ریٹرنز، متعلقہ اینیکسچرز کی درست تکمیل اور آن لائن فائلنگ کا عملی مظاہرہ بھی کیا گیا تاکہ شرکاء عملی طور پر ٹیکس کمپلائنس کے تقاضوں کو سمجھ سکیں۔ تربیتی سیشن میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ بروقت ریٹرن فائلنگ، درست مالی ریکارڈ کیپنگ، مستند انوائسز کا استعمال اور ٹیکس قوانین کی مکمل پاسداری کے ذریعے نہ صرف جرمانوں، اضافی ٹیکس اور قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے بلکہ کاروباری اداروں کی ساکھ میں اضافہ، دستاویزی معیشت کے فروغ اور ملکی محصولات میں بہتری لانے میں بھی مؤثر کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔اس موقع پر آئی آر ایم کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹربابر مصطفی،ڈسٹرکٹ آفیسر سمیڈا، احسن ابڑو، حیدرآباد چیمبر کی ایگزیکیٹو کمیٹی کے اراکین، کنوینئرز اور بڑی تعداد میں کاروبار ی حضرات نے شرکت کی۔
Posted inکراچی