بدلتے موسم اور ہماری ذمہ داریاں**تحریر : ثاقب محمود اعوان

*بدلتے موسم اور ہماری ذمہ داریاں*
*تحریر : ثاقب محمود اعوان*

کبھی موسم اپنی ترتیب کا پابند ہوا کرتے تھے۔ گرمی اپنے وقت پر آتی، سردی اپنی مدت پوری کرتی اور بارشیں اپنی مقررہ گھڑیوں میں زمین کو سیراب کرتیں۔ مگر اب وقت بدل چکا ہے۔ دنیا موسمیاتی تبدیلیوں کے ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں ہر نیا سال گزشتہ سال سے زیادہ شدید موسموں کا پیغام لے کر آتا ہے۔ کہیں غیر معمولی گرمی جان لیوا ثابت ہو رہی ہے، کہیں بے موسمی بارشیں معمولاتِ زندگی درہم برہم کر رہی ہیں، تو کہیں اربن فلڈنگ شہروں کی کمزور منصوبہ بندی کا پردہ چاک کر رہی ہے۔

پاکستان بھی ان اثرات سے محفوظ نہیں۔ چند گھنٹوں کی موسلا دھار بارش سڑکوں کو دریاؤں میں بدل دیتی ہے، بازار بند ہو جاتے ہیں، کاروبار متاثر ہوتا ہے اور شہری شدید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ صرف قدرتی آفت نہیں بلکہ ہماری اجتماعی غفلت کا نتیجہ بھی ہے۔

موسمیاتی شدتوں کا مقابلہ صرف حکومتی اقدامات سے ممکن نہیں بلکہ ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ماحول کو صاف رکھنا، پلاسٹک اور کچرے کو نالوں میں پھینکنے سے گریز کرنا اور زیادہ سے زیادہ درخت لگانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ درخت نہ صرف ماحول کو ٹھنڈا رکھتے ہیں بلکہ فضائی آلودگی کم کرنے، بارش کے پانی کو جذب کرنے اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ واپڈا اپنی بجلی کی تنصیبات کو مرحلہ وار زیرِ زمین منتقل کرے تاکہ گلیانہ روڈ، ڈنگہ روڈ، مین بازار اور دیگر شاہراہوں کے کناروں پر کثیر تعداد میں سایہ دار درخت لگائے جا سکیں۔ یہ اقدام نہ صرف شہر کو خوبصورت بنائے گا بلکہ آئندہ نسلوں کو ایک صحت مند ماحول بھی فراہم کرے گا۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ جی ٹی روڈ پر شہری حدود تک دونوں اطراف مقامی سماجی تنظیم “سٹیزن سوسائٹی” نے سایہ دار درختوں کے پودے لگا دیے ہیں۔ چند برسوں میں یہی ننھے پودے تناور درخت بن کر مسافروں اور شہریوں کو سایہ، ٹھنڈک اور صاف فضا مہیا کریں گے۔ اب یہ ذمہ داری ہم سب کی ہے کہ ان پودوں کی حفاظت کریں، انہیں پانی دیں اور کسی بھی قسم کی نقصان دہ سرگرمی سے محفوظ رکھیں۔

اسی طرح مقامی سماجی تنظیم “میرا اپنا کھاریاں” بھی قابلِ تحسین خدمات انجام دے رہی ہے، جس نے علاقہ بھر میں لاکھوں کی تعداد میں پودے تقسیم کیے ہیں۔ ایسے اقدامات اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ اگر معاشرہ چاہے تو ماحول کے تحفظ میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔

اربن فلڈنگ سے بچاؤ کے لیے سیوریج نالوں کی بروقت صفائی ناگزیر ہے۔ افسوس کہ بعض دکاندار اور شہری کچرا نالوں میں پھینک دیتے ہیں، جس سے پانی کی نکاسی رک جاتی ہے اور معمولی بارش بھی بڑے بحران کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اس غیر ذمہ دارانہ عمل کے خلاف مؤثر پابندی اور سخت کارروائی وقت کی ضرورت ہے۔

بدلتے موسم ہمیں مسلسل متنبہ کر رہے ہیں کہ اگر آج ہم نے ماحول کے تحفظ، شجرکاری، صفائی اور بہتر شہری منصوبہ بندی کو اپنی ترجیح نہ بنایا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ آئیے عہد کریں کہ اپنے حصے کا ایک درخت ضرور لگائیں گے، اپنے شہر کو صاف رکھیں گے اور قدرت کی حفاظت کو اپنی اجتماعی ذمہ داری سمجھیں گے۔ یہی روشن، محفوظ اور سرسبز مستقبل کی ضمانت ہے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *