
وعدوں کا بوجھ اور
حقیقت کا قہر
تحریر طاہر مغل
(الیکشن سے پہلے اور بعد کا احوال)کچھ
عرصہ قبل جب ملک الیکشن کی دوڑ میں تھا، تو سیاست دان ایک دوسرے پر بڑھ چڑھ کر اعلان کر رہے تھے۔ ن لیگ ہو یا پیپلز پارٹی، ہر جلسہ ان وعدوں کا گلدستہ لگتا تھا جہاں ہر لیڈر اپنی زبان کو جادو کی چھڑی بنا کر عوام کو فری بجلی، مفت صحت اور رزق کی نوید سنا رہا تھا۔ عوام کی آنکھوں میں اُمید کی کرن تھی اور کانوں میں “ہم لا رہے ہیں ترقی” کے نعرے گونج رہے تھے۔ لیکن وقت نے جب کروٹ بدلی اور انتخابات کا شور خاموش ہوا تو وعدوں کا وہ سونا مٹی کا ڈھیر ثابت ہوا۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی سیاست دان عوام کے خواب دیکھتے ہیں، یا صرف اپنی کرسیاں؟چار سال پہلے جب کوئی عام آدمی سو روپے لے کر بازار جاتا تھا، تو شاید وہ اپنا اور اہل خانہ کا پیٹ پال لیتا تھا۔ مگر آج وہی سو روپے بازار میں بے وقعت ہو چکے ہیں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں تگنی اور چوگنی ہو چکی ہیں۔ آٹے کا تھیلا، سبزی کا تھیلا اور دالوں کی قیمت نے عام انسان کی جیب سے سکون چھین لیا ہے۔ ہر گھر کی عورت پریشان ہے کہ ماہانہ گزر بسر کا بجٹ کیسے بنے۔ باپ اپنے بچوں کی جیب خرچ اور سکول فیس کا سوچ کر آہیں بھرتا ہے۔ مہنگائی نے نہ صرف جیبیں خالی کی ہیں بلکہ انسانوں کے حوصلے بھی پست کر دیے ہیں۔ جہاں تک پاکستان کی تاریخ کا تعلق ہے، شاید ہی کبھی اوسط طبقہ اتنا بے بس ہوا ہوا ہی نہ ہو الیکشن سے پہلے روزگار کے جو نعرے لگائے گئے تھے، ان میں نئی نوکریاں اور نئے کاروبار کے وعدے بھی شامل تھے۔ لیکن موجودہ حالات میں روزگار کا بازار مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔ چھوٹے تاجر روندے جا رہے ہیں، فیکٹریاں بند ہیں اور مزدور سڑکوں پر کھڑے روزگار کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں بے روزگاری نے خودکشیوں اور گھریلو تشدد کی شرح میں خوفناک اضافہ کیا ہے۔ ایک باپ جب اپنے بچوں کی بھوک بجھانے سے قاصر ہوتا ہے، تو مایوسی اسے ہلاک کر دیتی ہے۔ کاروبار کا ٹھپ ہونا معاشرتی تباہی کی علامت ہے، جسے حکمران اپنے ایئرکنڈیشن آفس سے محسوس نہیں کرتے۔
مہنگائی کا ایک اور پہلو انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہے۔ جاز یو فون ٹیلی نار اور زانگ ہر کمپنی نے ہفتہ وار بنیادوں پر پیکجز کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ مگر افسوس کہ قیمت بڑھنے کے ساتھ سروس کا معیار گرتا جا رہا ہے۔ نیٹ ورک منقطع ہو رہے ہیں، وائس کال میں شور اور انٹرنیٹ کی رفتار نہ ہونے کے برابر ہو گئی ہے۔ حکومت خاموش تماشائی ہے جیسے یہ سارا کھیل کمپنیوں اور حکومتی اہلکاروں کے درمیان طے پا رہا ہو۔ کیا واقعی ان کمپنیوں کو اتنے اختیارات دیے گئے ہیں کہ وہ بغیر کسی پابندی کے عوام کے وسائل کا خون چوس سکیں؟جب عام انسان مہنگائی بے روزگاری اور پریشانیوں میں گھرا ہے، ہمارے لیڈران اپنے وی آئی پی پروٹوکول گاڑیوں کے قافلے اور پانچ ستارہ ہوٹلوں میں مصروف ہیں۔ اُن کے پروٹوکول مسلسل بڑھ رہے ہیں جبکہ عوام کے مسائل کے بارے میں اُن کی بے حسی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔ کچھ سیاستدان تو اب بھی اُسی مہنگائی کو عالمی معاشی صورتحال کا نام دے رہے ہیں مگر حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستانی عوام کو اپنے گھر کی چولہا روشن رکھنے کے لیے دعائیں اور رونا دونوں ہی یاد آ رہے ہیں الیکشن سے پہلے لوگوں کے چہرے اُمید سے جھومر رہے تھے لیکن الیکشن کے بعد مایوسی اور بے بسی کا ایک لمبا طومار ہے۔ آج عوام سوال کر رہے ہیں کیا واقعی ہماری آواز سیاستدانوں تک پہنچتی ہے؟ کیا مہنگائی، بے روزگاری اور مایوسی کا یہ جنون ختم ہو سکتا ہے؟ مگر جب تک لیڈران اپنے عشروں اور پروٹوکول میں مصروف رہیں گے، عوام اپنے المیے خود جئیں گے۔ سمجھدار وہ ہے جو اپنی حالتِ زار بدلنے کے لیے آواز اٹھائے، ورنہ وقت بے رحم ہے۔یہ ایک ایسا نقطہ ہے جہاں ہر پاکستانی کو سوچنا ہوگا کہ اس ملک کا مستقبل کیا ہے کیا وعدے صرف تقاریر تک محدود رہیں گے یا ان پر عمل درآمد بھی ہو گا؟