حیدرآباد آٹا چکی اونرز سوشل ویلفئیر ایسوسی ایشن

حیدرآباد آٹا چکی اونرز سوشل ویلفئیر ایسوسی ایشن کے ایک تین رکنی وفد نےنائب صدر فاروق راٹھور کی قیادت میں سیکریٹری خوراک غلام عباس نائچ اور ڈائریکٹر خوراک اللہ ڈنو چنہ سے سندھ سیکٹریٹ کراچی میں ملاقات کی وفد میں جنرل سیکریٹری حاجی نجم الدین چوہان اور سینئر ممبر خرم لودھی شامل تھے وفد نے حیدرآباد سمیت سندھ بھر میں گندم بحران کے سبب بڑھتی ہوئ قیمتوں سے پیدا ہونے صورتحال اور چکی مالکان کو درپیش مسائل آٹا چکیوں کے ہولسیل لائسنس کی منسوخی کے حوالے سے چکی مالکان میں پائ جانے والی بے چینی سے سیکریٹری اور ڈائریکٹر خوراک کو آگاہ کیا اور سندھ میں گندم بحران پر قابو پانے کے لئیے گندم امپورٹ کرنے کی ضرورت پر زور دیا محکمہ خوراک سندھ کی جانب سے غیر قانونی طور پر ذخیرہ اندوزوں کی جانب سے چھپائی گندم بازیاب کروانے کے عمل پر مسرت کا اظہار کیا
وفد نے سولر پر کام کرنے والی آٹا چکیوں کو سرکاری گندم کوٹہ کے اجراء کے موقع پران کے کردار کے مطابق گندم کوٹہ جاری کرنے کی استدعا کی اس موقع پر سیکریٹری خوراک غلام عباس نائچ نے کہاکہ حکومت نے گندم کے حوالے سے بہت اہم فیصلے کئیے جس کے دور رس نتائج برآمد ہوئے ہیں اور سندھ بھر میں غیر قانونی طور پر ذخیرہ اندوزوں کی اسٹاک کی گئ گندم کی بازیابی کے لئیے بلا تفریق کاروائیاں کی جاری ہیں جبکہ آٹا چکیوں اور رولر فلور ملز کو ایک ماہ کا گندم اسٹاک رکھ ے کی اجازت دی گئ ہے گندم امپورٹ کرنے کے حوالے سے حتمی فیصلہ وزیر اعلی سندھ کریں گے ڈائریکٹر خوراک سندھ اللہ ڈنو چنہ نے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے ایسوسی ایشن اور چکی مالکان پر زور دیاکہ وہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اگر ضروری ہوا تو گندم امپورٹ کرنے کے لئیے وفاق سے درخواست کی جاسکتی ہے اور حکومت پاسکو سے بھی گندم خرید رہی ہے ڈائریکٹر خوراک نے وفد کو یقین دلایا کہ قانون کے مطابق کام کرنے والی آٹا چکیوں کے لائسنس منسوخ نہیں کئیے جائیں گے وہ اس سلسلے میں ڈپٹی ڈائریکٹر خوراک حیدرآباد سے بات کریں گے جہاں تک آٹا چکیوں کا سولر پر چلے جانے کا سوال ہے اس بارے میں مشاورت کے بعد ہی کسی حتمی نتیجہ پر پہنچ سکیں گے تاہم آٹا چکیوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئیے جائیں گے کیونکہ عوام کو آٹا فراہم کرنے میں آٹا چکیوں کا کردار بہت اہم ہے اس موقع پر ڈی ایف سی ڈاکٹر وسیم ابڑو بھی ملاقات میں موجود تھے واضح رہے کہ ایسوسی ایشن نے 20 اپریل کو وزیر اعلی سندھ 14 مئ اور پھر 18 جون کو وزیر اعظم کے نام لکھے گئیے خطوط میں سندھ میں گندم کے ممکنہ بحران سے بچنے کے لئیے گندم امپورٹ کرنے کی تحریری درخواست کی تھیں

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *