
حیدراباد ( بیورو رپورٹ )
ملک کے معروف تجزیہ نگار سینئیر صحافی مظہر عباس نے کہاکہ حیدراباد سندھ کی ثقافت کا گڑھ ہوا کرتا تھا۔ ریڈیو پاکستان کی تاریخ کو اکٹھا کیا جائے تو شہر کی ثقافتی تاریخ کا پتہ چل جائیگا پورے سندھ کو متحد رکھا لوگ اکٹھا ہوں تو حیدراباد أج بھی مضبوط ھوسکتا ہے اس شہر اور صوبے کو ایک پلاننگ کے تحت تباہ کیا گیا وہ دی أرٹس کونسل حیدراباد کی جانب سے ان کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے مہران أرٹس کونسل میں خطاب کررہے تھے مظہر عباس نے کہاکہ ہمارے اندر برداشت کا مادہ ختم ہوگیا ہے اسلحہ کلچر اور منشیات کی لعنت نے تباہی پھیر دی ہے تعلیمی ادارے تک محفوظ نہیں ہیں ہم نے اپنی جامعات تک کو محفوظ نہ رکھ سکے تعلیم کو عام أدمی کی دہلیز تک لیجانا چاہتے تھے ہم تعلیمی ادارے دہلیز پر لے گئے ایک عام أدمی کا پاکستان کہیں گم ہوگیا ہے یہ ایلیٹ کلچر کا پاکستان ہے جو لوگ سسٹم اور نظام کے گل سڑھنے کی باتیں کرتے ہیں وہ اسی نظام کے بینیفشریز ہیں مظہر عباس نے کہاکہ خبر وہ ہوتی ہے جو حکومت کو پسند نہ أئے تنقید اور تضحیک میں فرق ہونا چائیے وہ چیزیں چھوڑی جاتی ہیں جن سے لوگ متحد نہ ہوں پھر غلامحمد جیسے بیورو کریٹ تلاش کرتے ہیں جن لوگوں کو سیاست کرنی نہیں چائیے بد قسمتی سے وہ ہی لوگ سیاست کررہے رہے ہیں جنہیں سیاست کرنی چائیے انہیں سیاست کرنے نہیں دی جاتی مظہر عباس نے کہاکہ سیاسی جماعتوں کو اتنی سیاست ری وزٹ کرنی چائیےووٹ کی طاقت کو بڑھانا ہوگا تبدیلی ووٹ سے أئے گی پہلے ہم اصولی اب وصولی کی سیاست کرتے ہیں مظہر عباس نے کہاکہ بڑے اہتمام سے باکستان کے معاشی حب روشنیوں کے شہر کراچی کو تباہ کیا گیا ہے مہران أرٹس کونسل کی حالت پر افسوس ہوا جو کام اسے کرنا چائیے تھا وہ کام کراچی أرٹس کونسل کررہا ہے انہوں نے کہاکہ ٹی وی چینلز پر لڑائ کروانے والوں کی ریٹینگ اوپر جاتی ہے سنجیدہ اینکرز نے ہار مان لی ہے ماضی میں جو پالیسی ایڈیٹر طے کرتا تھا اب وہ پالیسی ڈائریکٹر مارکٹنگ طے کرتا ہے ڈیجیٹل میڈیا ہمارے گھروں اور ذہنوں میں گھس گیا ہے موبائل فون ہمیں کنٹرول کرلیا ہے أزادی صحافت کے لئیے گزشتہ 77 سالوں سے لڑ رہے ہیں جو پارٹی اپوزیشن میں ہوتی ہے أزادی صحافت اسھی لگتی ہے اقتدار میں أنے کے بعد بری لگنے لگتی ہے انہوں نے کہاکہ پرنٹ میڈیا کی ڈیڑھ دو سو سالہ تاریخ ہے تاہم انداز بدلنے کی ضرورت ہے تقریب سے میزبان عشرت علی خان بریگیڈئیر ر عامر زاہد نے بھی خطاب کیا اس موقع پر کراچی پریس کلب کے صدرفاضل جمیلی معروف شاعر و رائٹر جاوید صباء رکن سندھ اسمبلی انجینئیر صابر حسین قائم خانی سابق رکن اسمبلی صلاح الدین رحیمی راشد خلجی ڈاکٹر عارف رزمی ایڈوکیٹ اسلم پرویز پروفیسر ناصرالدین شیخ أغا تاج جاوید اقبال اظہر شیخ عبدالغفار أرائیں أصف ظہوری ایڈوکیٹ محمود احمد جعفری ڈاکٹر رضوانہ انصاری أپاء افروز شورو ہما خان رفیق عیسانی بہادر لاشاری شفیق لاڈلہ اعظم خان محمد تقی شیخ حسن راشد کے علاوہ معززین وعمائدین شہر صحافیوں اور سول سوسائٹی سے وابستہ شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی فرزندحیدراباد مظہر عباس کو میزبان و معززین کی جانب سے یادگاری شیلڈ اور دیگر تحائف پیش کئیے گئیے