
میجر (ر) ساجد مسؔعود صادق نظامی
افغانستان کی “201 ویں خالد بن ولید کور” کے ترجمان “مولوی وحیداللّٰہ محمدی” کے اتوار کے روز جاری کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ “افغان انٹیلی جنس فورسز نے ملک کے مشرقی علاقے میں 74 ہتھیار قبضے میں لیے ہیں جو مُبینہ طور پرپاکستان سے افغانستان میں اسمگل ہوئے۔افغان ترجمان کے مطابق اسمگل کیے گئے تھے ان ہتھیاروں کو افغانستان میں “تخریبی کارروائیوں” کے لیے استعمال کیا جانا ہے۔پاکستانی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے یہ دعویٰ مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ “پاکستان سے افغانستان میں ہتھیاروں کی مبینہ اسمگلنگ کا افغان طالبان کا دعویٰ بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے۔” پاکستانی وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق “یہ دعویٰ مسلمہ حقائق کے منافی اور عالمی توجہ اصل مسئلے سے ہٹانے کی کوشش ہے۔” یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ افغانستان امریکی و اتحادی افواج کے انخلا کے بعد چھوڑے گئے 7.2 ارب امریکی ڈالرز کے جدید ہتھیار اور فوجی سازوسامان اس وقت افغانستان میں موجود ہیں جس کا بارہا سرکاری سطح پرامریکہ نے اعلان کیا اور ان کی واپسی کا تقاضا بھی۔
چندسال پہلے کی بات ہے اور یہ بات ساری دُنیاجانتی ہےکہ دہشت گردی کی جنگ کے دوران تین افغانی صدور (حامدکرزئی، عبداللّٰہ عبداللّٰہ اور اشرف غنی) اپنے ادوار میں بھارت کے ساتھ ملکر پاکستان کے خلاف بھرپور پراپیگنڈا مہم چلاتے رہے ہیں۔ ان تینوں صدور کا دعوٰی یہ تھا کہ پاکستان افغانستان میں دخل اندازی کررہا ہے۔ جبکہ مشرف دور کے وزیرخارجہ خورشید احمدقصوری نے افغانستان کی وزارت دفاع اور وزارت داخلہ کے بھارت کے ساتھ ملکرپاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ثبوت خود افغانی اور امریکی احکام کے حوالے کیئے۔ اس کی ساری تفصیل سابق وزیرخارجہ خورشید احمدقصوری نے اپنی کتاب “Neither Dove Nor A Hawk” میں بیان کی ہے۔ افغانی ہٹ دھرمی اور دروغ گوئی کی یہ انتہاء ہے کہ وہ محض پیسے کی خاطر بھارت کے ہاتھوں میں کھلونا بھی بنے ہوئے اور اسلام کے دعویدار ہوتے ہوئے “سفید جھوٹ” بھی بولتے ہیں۔ اسی پر بس نہیں بلکہ پاکستان کے صوبوں (کے پی کے اور بلوچستان) میں دہشت گردی کو افغانستان مکمل سپورٹ اور اسپانسرکررہاہے۔
یہاں یہ حقیقت بھی سمجھنی ضروری ہے کہ افغانستان کے پاس “افغان ۔ روس” جنگ کے دورکے سوویت ساخت کے ہتھیاروں کے ساتھ دیگر کئی مغربی ممالک کے ہتھیاروں کا ایک بڑا ذخیرہ بھی موجود ہیں۔ یہ وہی ہتھیار ہیں جنہیں مغربی ممالک نے روس کے خلاف استعمال کرنے کے لیئے اُس دورکے افغانی مجاہدین تک پہنچایا۔ پاکستانی وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مطابق “ایسے ہتھیاروں کو پاکستان سے منسوب کرنے کی کوشش “اصل اور زیادہ سنگین مسائل” سے ہٹانے کے لیئے ہے اور یہ معاملہ افغان سرزمین پر دہشت گرد تنظیموں اور گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں سے متعلق پاکستان کے ساتھ ساتھ دیگرممالک کی تشویش کو پسِ پشت ڈالنے کے مترادف ہے۔” پاکستان ساری دُنیا کے سامنے ایسے ٹھوس ثبوت پیش کر چُکا ہے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ “افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کو اب بھی پناہ، سہولت کاری اور کارروائی کی مکمل آزادی حاصل ہے۔” اس کھلم کھلا آزادی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے بھارت افغانستان کے ذریعے کرائے کے قاتل بھیجنے میں ملوث ہے۔
چاہیے تو یہ تھا کہ افغان سرکار ان دہشتگردوں کو اپنے وعدوں کے مطابق افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی، معاونت اور کارروائیوں سے روکے لیکن افغانستان کا حال یہ ہے کہ “اُلٹا چورکوتوال کو ڈانٹے۔” پاکستانی وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان حکومت پرزوردیتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان حکومت کو پاکستان پر بے بُنیاد الزامات لگانے کی بجائے اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنا ہوگی۔ پاکستانی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے مطالبہ کیا کہ “افغان احکام اپنے وعدوں کی پاسداری نہ صرف یقینی بنائیں بلکہ افغان سرزمین کو پاکستان یا کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے سے روکیں۔ پاکستان پہلے بھی کئی بار “فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج” کی مکمل سپورٹ کے ٹھوس ثبوت پوری دُنیا کے سامنے بارہا رکھ چُکا ہے۔ اسی طرح بین الاقوامی برادری کے ساتھ کیئے گئے وعدوں سے انحراف پر پاکستان نے تھوڑا عرصہ پہلے کئی افغانی علاقوں پر ہوائی کاروائی کرتے ہوئے افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے اڈوں کوتباہ بھی کیاتھا۔
یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ “کٹھ پُتلی افغانی حکومت بھارتی اشاروں پر ناچ رہی ہے۔ افغانی قوم کی احسان فراموشی کا یہ عالم ہے کہ اس وقت بھی لاکھوں افغانی پاکستان میں نہ صرف کاروبارکررہے ہیں بلکہ پنتالیس چھیالیس سال سے بڑی پُرسکون زندگی گُزار رہے ہیں۔ پاکستان نے انسانیت کے ناطے روسی یلغار میں جیسے افغانستان کی مدد کی یا بے گھرافغانیوں کو پناہ اور روزگار کے مواقع دیئےاس پر افغانستان، پاکستان کا احسانمند ہونے کی بجائے پاکستان کے ازلی دُشمن بھارت کے ساتھ ملکر پاکستان میں آئے دن تخریبی کاروائیوں میں بھارت کی مکمل حمایت کررہا ہے۔ پاکستان کاہمیشہ سے یہ مؤقف رہاہے کہ افغانستان برادر مُسلم مُلک ہے لیکن قیامِ پاکستان سے لیکر آجتک افغانستان نے پاکستان کے احسانات کے اعتراف تو دورکی بات، ہمیشہ پاکستان کو اُلٹا نقصان پہنچانے کی ہربھارتی کوشش کا ساتھ دیاہے۔ ماضی میں پاکستانی قومء اور حکومتوں میں افغانستان کے متعلق خارجہ پالیسی پر اختلاف رہا ہے لیکن اب ایسے نہیں ہوگا اور اب “اینٹ کا جواب پتھر سے” دینا ہی پاکستان کی افغان پالیسی کا اصول ہوگا۔