79 واں یومِ آزادی: عہد ساز دن اور تجدیدِ عہد

میجر (ر) ساجد مسؔعود صادق نظامی

14 اگست تاریخِ پاکستان کا وہ یادگار دن ہے جس دن ریاستِ مدینہ کے بعد دوُسری نظریاتی اسلامی ریاست یعنی “پیارا پاکستان” معرض وجودمیں آیا۔ قیام پاکستان کے وقت معروضی حالات پراگرایک طائرانہ نظر کی جائے تو ایسے لگتا ہے کہ پاکستان کا ظہور ایک معجزے سے کم نہیں۔ “ہندو ۔ انگلش گٹھ جوڑ” نے ہر ممکن کوشش کی کہ ہندوستان کو تقسیم نہ کیاجائے لیکن آفرین ہے اُس وقت کی دور اندیش قیادت کو جس نے اس گٹھ جوڑ کے عزائم کو نہ صرف بھانپا بلکہ اُس کی تمام سازشوں اور چالوں کو ناکام بنادیا۔ آج کوئی مُحبِ وطن جب بھی کشمیری بھائیوں کے ساتھ بھارتی درندگی کا مظاہرہ اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے تو اُسے سمجھ آجاتی ہے کہ قیامِ پاکستان کےوقت ہر طرح کی قربانی دے کر قوم کو “ہندو جبر و استبداد” سے نجات دلانے والے اس قوم کے حقیقی مُحسن ہیں۔ اسی طرح صاحبِ شعور اور تاریخ کا باریک بینی سے مطالعہ کرنے والے لوگ اس حقیقت سے بھی باخوبی واقف ہیں کہ جو خواب اُس وقت کی قیادت نے دیکھا اُس کے شرمندہ تعبیر ہونے میں کونسا امرمانع ہے۔
مغربی سامراجی عالمی نظام میں مذہب کے نام پر کسی ریاست کا وجود سرے سے ممکن ہی نہیں لیکن مضبوط پاکستان اسی سامراجی نظام کے اندر رہتے ہوئے بھی قائم و دائم ہے۔ کیا کبھی عام پاکستانیوں نے اس بات پر غور کیا کہ چین پاکستان کی ساتھ اپنی دوستی پر ہمیشہ فخر کیوں کرتا ہے؟ مُفکرین اور پڑھے لکھے لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ ایک نہیں بلکہ تین معروف ترین امریکی مُفکرین،سیاسی ودفاعی تجزیہ نگاروں اور فارن پالیسی ایکسپرٹس (اسٹیفن پی کوہن، بروس رِڈل اور ڈینئیل مارکی) نے یکے بعد دیگرے پاکستان پر بالترتیب تین، دو اور ایک کتابیں کیوں لکھیں اور اُن کا لُبِ لباب اور مقصد کیا تھا۔ پاکستانی عوام کا المیہ یہ ہےکہ وہ خُود بھی یہ نہیں جانتے کہ پاکستان دُنیا کی نظرمیں کیا ہے؟ اس وقت بلا مبالغہ دُنیا کے تین طاقتور ممالک (روس،چین اور امریکہ) ہی نہیں دیگر کئی مُسلم اورغیراسلامی ممالک ہیں جو پاکستان کے ساتھ تعلق رکھنے کے خواہش مند ہیں۔ نظریاتی اورجغرافیائی لحاظ سے پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جو آج پوری دُنیاکی سیاست کا مرکز و محور ہے۔
آخرمعاملہ ہے کیا کہ پاکستان جس مقصدکے لیئے بنایا گیا تھا وہ آج تک پورا کیوں نہیں ہوسکا؟ اس کا جواب بہت آسان ہے کہ پاکستان کا نظریہ اور مقصد جتنے طاقتور ہیں اتنی ہی قوت سے اس کی دُشمن قوتیں اس پر حملہ آور ہیں۔ لیکن الحمدو للّٰہ دُشمن کی لاکھ کوششوں اوردعووں کے باوجود بھی پاکستان نہ صرف قائم و دائم ہے بلکہ دن بدن پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہوتا جارہا ہے۔ قیامِ پاکستان سے لیکر آج تک ہندوستان کی پاکستان کو مٹانے کی خواہش ایک لمحہ بھی نہ تو کم ہوئی ہے اور نہ ہی بھارتی سازشیں رُکی ہیں۔ اگرمیڈیا کا پاکستان کے خلاف واویلہ دیکھا جائے تو ایسے لگتا ہے کہ ریاستِ پاکستان چنددنوں کی مہمان ہے۔ آج روس پاکستان سے ماضی کی دُشمنی بُھلا پاکستان کا معاشی پارٹنر بننا چاہتا ہے،چین پاکستان کی دوستی پر فخر کرتا ہے اور اور امریکی یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ”نو ایگزیٹ فرام پاکستان”، آخر ایسا کیوں ہے؟ آج سارے اسلامی ممالک پاکستان کے ساتھ دفاع معاہدہ کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ کیا پاکستانی عوام نے کبھی اس بات پر غور کیا ہے کہ آخر پاکستان میں ایسا ہے کیا؟
پاکستان کے مسائل پر غور کیاجائے تو پہلی بات ذہن سے یہ ٹکراتی ہے کہ پاکستان میں سیاسی و عسکری قیادت کی ذہنی ہم آہنگی پاکستان کی ترقی کے لیئے ناگزیر ہے۔ دوسری اہم ترین ہم آہنگی قوی ایجنڈے پرسیاستدانوں کے مُتفق ہونے کاتقاضا کرتی ہے۔ سیاستدانوں کو ذاتیات اور ہوس اقتدار سے نکل کر اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی تاکہ عوام کے حالات میں بہتری پیدا ہو اور پاکستان مضبوط ہو۔ تیسری ہم آہنگی کاتعلق مذہب سے ہے، جس کے متعلق مذہبی علماء کو غورکرنے کی اشد ضرورت ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور عوام کو مسلک پرستی کی نفرتوں سے نکال کر حقیقی معنوں میں مذہب سے جوڑ کر انہیں مُحب وطن اور ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنانے میں اپناکرداراداکریں۔ چوتھی ہم آہنگی کا تعلق جغرافیے سے ہے، اس کے لیئے قوم قبیلوں کے بُتوں کو پاش پاش کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان کے کسی صوبے میں بھی بسنے والے تمام پاکستانی نہ صرف برابر ہیں بلکہ اُن کا پورےپاکستان پر پورا پورا حق ہے اس جھنجٹ سے عوام کو نکالنا سیاسی قیادت کا کام ہے۔
یہ آج کی بات نہیں بلکہ قیامِ پاکستان کے وقت بھی پاکستان دُشمن قوتوں کا یہی خیال تھا کہ پاکستان کاوجودزیادہ دیر قائم نہیں رہے گا لیکن اس کے باوجود پاکستان نہ صرف اس وقت دُنیا کے نقشے پر موجود ہے بلکہ عالمی سیاست پاکستانی شرکت کے بغیر ادھوری ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی قیادت سے کُچھ ایسی سنگین غلطیاں ضرورہوئی ہیں جن کی وجہ سے بظاہر پاکستان کے حالات وہ نہیں جو ہونے چاہیئں تھے لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہرگزنہیں کہ پاکستانی قیادت کی کارکردگی سرے سے “زیرو” ہے۔عوام کی جھنجلاہٹ بجا ہے کہ آج ترقی یافتہ ممالک کے عوام کی طرح اُن کے حالات نہیں لیکن پاکستان کے موجودہ حالات کہ ذمہ دار صرف ملٹری یا سیاسی قائدین ہی نہیں بلکہ اس میں عوام نے بھی اپنا حصہ ضرور ڈالاہے۔ اسی بات کو ڈاکٹر علامہ اقبالؒ مرحوم نے جانتے ہوئے عوام کی توجہ اس طرف یوں دلائی “افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر۔۔۔ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ۔” آج کے دن پوری قوم کو نئے سرے سے تاریخِ پاکستان کا مطالعہ کرکے خود سے ایک عہد کرنے کی ضرورت ہے۔
معروضی بین الاقوامی سیاسی حالات پاکستان کے لیئے انتہائی سازگار ہیں۔ بھارت کو شکست فاش دینے، افغانی شرارتوں پر بھاری پڑنے اور ایران ۔ اسرائیل امریکہ جنگ میں جس شاندار ڈپلومیٹک کارکردگی کا مظاہرہ پاکستان نے کیا ہے اس کے ثمرات بہت زیادہ ہیں۔ پاکستان نے دُشمن کی تمام تر سازشوں، اندرونی خلفشار اور کمزور معاشی حالات کے باوجود یہ مقام حاصل کیا ہے اور اگر پاکستان چاہے تو اس سے بھی بہت آگے جاسکتا ہے۔ پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک ناقابلِ تسخیر ریاست بنانے کے لیئے اب وقت مناسب ہےکہ ماضی کی تمام غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی قیادت، سرکاری ادارے اور عوام مل کر یہ کام کرسکتے ہیں۔ پوری قوم کو خودسے آج کے دن یہ عہدکرنا ہوگا کہ ماضی میں اُن سے جو غلطیاں ہوئی ہیں وہ دوبارہ نہیں کریں گے۔ ماضی میں جنگوں اور قدرتی آفات کے دوران پاکستانی قوم نے جس ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا اسی اتحاد کی آج اشدضرورت ہے۔ قوم کوعہد کرنا ہوگا کہ دُشمن لاکھ چاہے پاکستانی قوم نہ تو پیچھے ہٹے گی اور نہ ہی کسی بیرونی سازش کا شکار ہوگی۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *