
ریڈیو پاکستان سرگودھا کے معروف پروگرام ’’شاہین سرگودھا‘‘ میں خواتین کی ہاکی اور کھیلوں کے فروغ پر خصوصی گفتگو
سرگودھا کی خواتین ہاکی کھلاڑیوں کی قومی و بین الاقوامی سطح پر نمایاں کارکردگی، فاطمہ ویمن ہاکی اکیڈمی کی خدمات اور بچیوں کے لیے کھیلوں کے مزید مواقع کی ضرورت پر سیر حاصل تبادلۂ خیال
سرگودھا ریڈیو پاکستان سرگودھا کے معروف پروگرام ’’شاہین سرگودھا‘‘ میں خواتین کی ہاکی، نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت، تعلیم کے ساتھ کھیلوں کے سفر اور سرگودھا ڈویژن میں کھیلوں کے فروغ کے حوالے سے خصوصی گفتگو کی گئی۔ پروگرام میں پروفیسر عائشہ صدیقہ، ڈائریکٹر اسپورٹس، گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج میلہ منڈی سرگودھا، ظاہرہ صدف، ماہِ رمضان، عروج فیاض اور لائبہ سعید نے شرکت کی۔ پروگرام میں فاطمہ ویمن ہاکی اکیڈمی سرگودھا کے بانی و چیف ایگزیکٹو آفیسر حسن شاہ بھی شریک ہوئے، جو پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم کے سابق گول کیپر رہ چکے ہیں۔ پروگرام کے میزبان سینئر اینکر پرسن سبطین بلوچ نے مہمانوں سے ان کی ابتدائی زندگی، تعلیم، کھیلوں سے وابستگی، ہاکی کے سفر، کامیابیوں اور خواتین کھلاڑیوں کو درپیش مختلف چیلنجز کے حوالے سے گفتگو کی۔گفتگو کے دوران اس امر کو نمایاں کیا گیا کہ سرگودھا میں خواتین کی ہاکی کا ٹیلنٹ موجود ہے، تاہم اس ٹیلنٹ کو مناسب تربیت، کھیل کے میدان، کوچنگ، کھیلوں کے سامان اور مسلسل مقابلوں کے مواقع درکار ہیں۔ مہمانوں نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود سرگودھا کی کئی بچیوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا ہے، جو اس خطے میں موجود کھیلوں کے ٹیلنٹ کی عکاسی کرتا ہے۔
تعلیم کے ساتھ کھیلوں میں آگے بڑھنے کی ضرورت
پروگرام میں پروفیسر عائشہ صدیقہ نے تعلیم اور کھیل کے درمیان توازن کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طالبات کو تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ کھیلوں میں بھی اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے کے مواقع ملنے چاہئیں۔ کھیل نہ صرف جسمانی صحت بلکہ خود اعتمادی، نظم و ضبط، ٹیم ورک اور قائدانہ صلاحیتوں کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔مہمان کھلاڑیوں نے اپنے ابتدائی حالات اور کھیلوں کے سفر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے تعلیم کے ساتھ اپنی کھیلوں کی سرگرمیوں کو جاری رکھا اور بعض اوقات دور دراز علاقوں سے سفر کرکے تربیتی سیشنز اور مقابلوں میں شرکت کی۔ اس سفر کے دوران سفری مشکلات، محدود وسائل اور دیگر عملی مسائل کے باوجود انہوں نے اپنی محنت اور عزم کو جاری رکھا۔
ظلیرہ صدف اور ماہِ رمضان کی بین الاقوامی نمائندگی
پروگرام میں ظلیرہ صدف اور ماہِ رمضان کی بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کو خصوصی طور پر اجاگر کیا گیا۔ دونوں کھلاڑیوں کا تعلق سرگودھا سے ہے اور وہ فاطمہ ویمن ہاکی اکیڈمی سرگودھا سے وابستہ رہی ہیں۔
گفتگو کے دوران بتایا گیا کہ ظلیرہ صدف نے عمان میں پاکستان کی ویمنز انڈر-21 ہاکی ٹیم کی نمائندگی کی، جبکہ ماہِ رمضان نے چین میں منعقدہ جونیئر سطح کے ایشیائی ہاکی مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ ان کھلاڑیوں کی بین الاقوامی سطح پر شرکت کو سرگودھا میں خواتین کی ہاکی کے بڑھتے ہوئے ٹیلنٹ کی ایک نمایاں مثال قرار دیا گیا۔
عروج فیاض اور لائبہ سعید کی نمایاں کارکردگی
پروگرام میں فاطمہ ویمن ہاکی اکیڈمی کی سینئر ہاکی کھلاڑی عروج فیاض کی نمایاں کامیابیوں کا بھی ذکر کیا گیا۔ انہوں نے قائداعظم گیمز میں گولڈ میڈل حاصل کیا، جبکہ انٹر یونیورسٹی ہاکی چیمپئن شپ اسلام آباد 2024 میں گولڈ اور انٹر یونیورسٹی ہاکی چیمپئن شپ فیصل آباد 2026 میں برونز میڈل حاصل کیا۔
اسی طرح لائبہ سعید کی قومی سطح پر ہاکی میں کارکردگی اور کھیلوں کے سفر پر بھی گفتگو کی گئی۔ مہمانوں نے کہا کہ ان کھلاڑیوں کی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر سرگودھا کی بچیوں کو مناسب مواقع، تربیت اور سہولیات فراہم کی جائیں تو وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کر سکتی ہیں۔
معاشرتی سوچ اور خواتین کے کھیلوں کے مواقع
پروگرام میں اس بنیادی مسئلے پر بھی گفتگو کی گئی کہ ہمارے معاشرے میں بچیوں کے کھیلوں کو اکثر وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو لڑکوں کے کھیلوں کو حاصل ہے۔ بعض خاندانوں میں بچیوں کے کھیلوں کو مستقبل کے سنجیدہ شعبے کے بجائے محض تفریح سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث باصلاحیت طالبات کو اپنی صلاحیتوں کو آگے بڑھانے کے لیے مطلوبہ مواقع نہیں مل پاتے۔
مہمانوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچیوں کو کھیلوں کے مواقع فراہم کرنا ان کی تعلیم کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ ان کی شخصیت سازی، صحت اور خود اعتمادی کے لیے ضروری سمجھا جانا چاہیے۔ والدین، تعلیمی اداروں اور معاشرے کو باصلاحیت بچیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں محفوظ، باوقار اور سازگار ماحول فراہم کرنا چاہیے۔
سرگودھا ڈویژن میں کھیلوں کی سہولیات میں اضافے کی ضرورت گفتگو کے دوران سرگودھا ڈویژن میں خواتین کے لیے کھیلوں کی سہولیات میں اضافے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ مہمانوں نے کہا کہ خواتین کے لیے مخصوص اسپورٹس کمپلیکس، ہاکی اور کرکٹ کے الگ تربیتی کلبز، مناسب گراؤنڈز اور باقاعدہ کوچنگ مراکز قائم کیے جانے چاہئیں تاکہ بچیوں کو اپنے ہی علاقے میں مسلسل تربیت اور مقابلوں کے مواقع میسر آ سکیں۔اس سلسلے میں پنجاب حکومت، محکمہ کھیل، مقامی انتظامیہ، تعلیمی اداروں اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو اہم قرار دیا گیا۔ مہمانوں نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ کھیلوں کی سہولیات کی منصوبہ بندی میں خواتین کھلاڑیوں کی ضروریات کو خصوصی طور پر مدنظر رکھا جائے۔
پروگرام میں یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ سرگودھا میں کھیلوں کا ٹیلنٹ موجود ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے تلاش کرنے، تربیت دینے اور آگے بڑھانے کے لیے ایک منظم اور مسلسل نظام تشکیل دیا جائے۔ اگر بچیوں کو مناسب میدان، کوچنگ اور مقابلوں کے مواقع میسر ہوں تو سرگودھا سے مزید قومی اور بین الاقوامی کھلاڑی سامنے آ سکتی ہیں۔فاطمہ ویمن ہاکی اکیڈمی کا کردار پروگرام میں فاطمہ ویمن ہاکی اکیڈمی سرگودھا کے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا، جو خواتین کھلاڑیوں کو ہاکی کی تربیت اور کھیل میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کر رہی ہے۔
اکیڈمی کے بانی و چیف ایگزیکٹو آفیسر حسن شاہ کے قومی ہاکی ٹیم کے فزیکل ٹرینر اور کوچ کی حیثیت سے تجربے کو بھی زیرِ بحث لایا گیا۔ اس امر پر زور دیا گیا کہ سابق قومی کھلاڑیوں کے تجربات اور صلاحیتوں سے نئی نسل کو فائدہ پہنچانے کے لیے مزید اکیڈمیز اور تربیتی مراکز کو فروغ دینا چاہیے۔پروگرام کے اختتام پر مہمانوں نے اس امر پر زور دیا کہ سرگودھا میں کھیلوں کے ٹیلنٹ کی کمی نہیں، بلکہ اسے مسلسل مواقع اور مناسب سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ والدین، اساتذہ، کوچز، کھیلوں کے اداروں، مقامی انتظامیہ اور حکومت کے باہمی تعاون سے خواتین کے کھیلوں کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے۔مہمانوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خواتین کی ہاکی اور دیگر کھیلوں کے فروغ، بچیوں کی حوصلہ افزائی، تعلیم اور کھیل کو ساتھ لے کر چلنے کے رجحان اور سرگودھا کے مقامی ٹیلنٹ کو قومی و بین الاقوامی سطح تک پہنچانے کے لیے اجتماعی کوششوں کو مزید مضبوط کیا جائے۔
میزبان: سینئر اینکر پرسن سبطین بلوچ
پروڈیوسر: جمشید قادری
ایگزیکٹو پروڈیوسر: فریحہ کنول
پیشکش: ریڈیو پاکستان سرگودھا