سیاسی انتشار، ہوسِ اقتدار کا کھیل اورپاکستانی عوام کا نصیب

میجر (ر) ساجد مسؔعود صادق نظامی

صحافی طاہر خلیل کے مطابق معراج محمد (بھٹوکے قریبی ساتھی) نے  نومبر 2012ء  میں انہیں ایک انٹرویو دیا تھا جو دسمبر 2012 کو روزنامہ "نئی بات" میں چھپا۔ اس انٹرویو کے مطابق  "ایوب سے بھٹو بہت ڈرتا تھا۔ میں (معراج محمد)،  گورڈن کالج کے پرویز رشید ( ن لیگی رہنما) اور ایک لڑکی (جس کانام یادنہیں)نے ملکر  ایک منصوبہ بنایا اور بھٹو سے کہا کہ تم آ کر راولپنڈی میں بیٹھ جاؤ، جب ہم کہیں باہر آ جانا۔ ہم نےاعصام (محکمہ کسٹم کا ملازم اورمنصوبے کا مرکزی کردار) کو ہم نے گورڈن  کالج کے سوات جاتے ہوئے ٹرپ جو باڑہ  سے سامان خریدنے گیا، کے پیچھے بھیجا اور کہا  تم انھیں  اسمگلنگ کے الزام میں پکڑ لینا اور دو چار بید بھی لگا دینا، باقی کا معاملہ ہم سنبھال لیں گے۔ اس نے ایسا ہی کیااور طلباء نے ہنگامہ کر دیا۔" پھر ہنگامے کی جگہ  پولیس کے ساتھ جھڑپ میں ایک طالب علم عبدالحمید مارا جاتا ہے، بھٹو وہاں پہنچتا اور گریبان پھاڑکر صدر ایوب کے خلاف تمام مُلک کے طلباء کو بھڑکاتاہے، یوں ایک ایسا بیانیہ ترتیب دیا جاتا ہے جیسا  آجکل فیلڈمارشل سیدعاصم مُنیر کے خلاف سوشل میڈیا میں عام ہے۔  
واضح رہے کہ یہ اُن دنوں کی بات ہے جب ذوالفقار علی بھٹو ایوب کابینہ سے مستعفی ہو کر ملک کے مختلف حصوں کے طوفانی دورے کر رہا تھااور آمریت کے خلاف مزاحمت کی علامت بن چکا تھا۔  یہاں پاکستانی تاریخ کے طالب علم کو چندسوالوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مثلاً صدر ایوب کے وزیرخزانہ، وزیر خارجہ اور امریکی وزیرِ خارجہ ہینری کیسنجر اور  صدر نکسن کو چین کے خُفیہ دورے کرانے والی اس جوڑی (ایوب اور بھٹو) کے درمیان آخر ایسا کیاہوا کہ  اچانک وزارت سے استعفٰی دیکر بھٹو نے صدر ایوب کو اقتدار سے نکالنے کے منصوبے بنانے شروع کردیئے؟ کیا یہ کوئی بیرونی اشارہ تھا؟ پھر یہ تحریک  جنرل ایوب کے اقتدار کا خاتمہ کرکے جنرل یحیٰی کی اقتدار میں آمدکا باعث بنی۔سن  1965ء کے ہیرو کمانڈر کا یہ انجام افسوسناک تھا جس کی گہرائی میں  جانے کے لیئے اُن کی کتاب  "Friends Not  Masters" کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ وہی بھٹو جو کبھی امریکی گُڈ بُکس میں تھا  بغاوت پر اُترآیا، ایٹمی پروگرام اور آئل بم  جیسے قصے اور بھٹو کی پھانسی  تک سفر اب پاکستانی تاریخ کا حصہ ہے۔  
سن 1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف بننے والا نو سیاسی جماعتوں کا  قومی اتحاد (پی این اے) ایک اہم حزب اختلاف کا اتحاد  جسے "نو ستاروں کا اتحاد" بھی کہا جاتا ہے وجود پاتا ہے ۔مفتی محمود، نوابزادہ نصراللّٰہ خان، ائرمارشل اصغر خان اور مولانا شاہ احمد نورانی اس کی قیادت کرتے ہیں۔ تحریک استقلال، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، جمعیت علمائے پاکستان، پاکستان مسلم لیگ اور دیگر جماعتیں الیکشن میں  بھٹو کے خلاف دھاندلی کا الزام لگاتی ہیں۔ یہ تحریک نظام مُصطفٰی میں بدل جاتی ہے یوں 5 جولائی 1977ء کو جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء سے  بھٹو   حکومت  برطرف ہوجاتی ہے۔ مان لیا بھٹو نواب محمد احمد خان قصوری کا قاتل نہیں تھا اور اُس کی پھانسی بھی غلط تھی لیکن  پاکستانی عوام کو ضرور سوچنا چاہیئےکہ طالب علم عبدالحمید کس کی ہوسِ اقتدار کی بھینٹ چڑھا؟ سن  2014ء میں منہاج القرآن (ماڈل ٹاؤن واقعہ) میں مارے جانے والے 14 بے گناہوں کا قصور کس کے سر جائے گا؟ ظلے شاہ جیسا عمران خان کادیوانہ کس کی ہوسِ  اقتدار  کی بھینٹ چڑھ گیا؟
بھٹو کی تحریک اور عوام کو  عطا کردہ شعور نے اُسے اقتدار میں پہنچادیا، نو ستاروں کے عطا کردہ شعور نے بھٹو کو تختہ دار تک پہنچادیا لیکن پاکستانی عوام کو کیا ملا؟ وکلاء کی احتجاجی تحریک نے جنرل مُشرف کو اقتدار سے نکال کر آصف علی زرداری کو اقتدار تک پہنچادیا لیکن عوام کو کیا ملا؟   عمران خان کے دھرنے اور عطا کردہ شعور نے نواز شریف کو نااہل قرار دلوا کر عمران خان کو اقتدار تک پہنچا دیا لیکن عوام کو کیا ملا؟ عین ممکن ہے نو ستاروں کے اتحاد کی طرح سیاسی جماعتوں کا اجتماع عمران خان کو بھی تختہ دار تک پہنچادے لیکن عوام کو کیا ملے گا؟ قربانی کے بکروں کو نواسی سالوں سے ہوسِ اقتدار کے اس کھیل نے جس طرح استعمال کیا ہے یہ شعور عوام کو کون دے گا؟ عوام کو جو ملا  وہ پیپلز پارٹی کے اٹھارہ سالہ سندھ میں اقتدار اور کراچی کی  حالتِ زار دیکھ کرسمجھا جاسکتا ہے۔ عوام کے برعکس حکمران خواہ وہ کسی جماعت کابھی ہو اُس کے مال و متاع پر اگرغور کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ قربانی عوام کے لیئے ہے اور عوام کے خُون پسینے کی کمائی پرعیش حکمرانوں کے لیئے ہے۔ 
بھٹو کی احتجاجی تحریک، نو ستاروں کی احتجاجی تحریک، وکلاء تحریک، عمران خان کا دھرنا، ٹی ایل پی فیض آباد دھرنا، مولانا فضل الرحمن کا دھرنا اور  علی امین گنڈا پور کے اسلام آباد کی طرف متعدد مارچز  نے عوام اور پاکستان کو جو دیا ہے وہ عوام جانتے ہیں۔  27ستمبر کو پی ٹی آئی اور سہیل خان آفریدی کا اسلام آباد مارچ   عوام کو  جو دینے والے ہیں اس کا تو پتا چند دن بعد ہی چلے گا لیکن یہ مارچ اس لحاظ سے انوکھا ہے کہ اس میں عوام اپنے لیڈر کو آزاد  کرنے کے لیئے مارچ کررہے ہیں۔ اگر موجودہ حکومت اور احتجاجیوں میں مڈبھیڑ ہوتی ہے تو قربانی کا بکرا کون بنے گا؟  بالفرض عمران خان اس احتجاج کے نتیجے میں آزاد ہو کر دوبارہ وزیراعظم بھی بن جائے  پھر بھی یہ سوال ضرور اُٹھنا چاہیئے کہ عمران خان کے پاس عوام کے لیئے کونسا پروگرام یا میجک ہے جس سے پاکستان اور پاکستانی عوام کی حالت بدل جائے گی؟  عمران خان کا عطا کردہ شعور اپنے ہی مُلک کی فوجی قیادت کو بدنام کرنے اور عوام کی قربانی کے علاوہ  اور کیا ہے؟ شعور، مارچ، دھرنے ، جن کا انجام عوام کی قربانی  ہے کاش وہ   ہوسِ اقتدار کی بجائے مُلک و قوم کے لیئے خیر کا باعث بنیں۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *