چہارفریقی امن مذاکرات میں پاکستان کا کلیدی کردار

میجر (ر) ساجدمسؔعودصادق نظامی

		ایران میں چہار فریقی مذاکرات کے پیچھے پاکستان، پاکستان آرمی اور فیلڈ مارشل سید عاصم مُنیر  کا کردار نہ تو کسی تعارف کا  مُحتاج ہے اور نہ ہی کسی قسم کی مبالغہ آرائی۔ پہلے پاک سعودی معاہدہ، پھر مکہ معاہدہ اور اب  ایران میں چہار فریقی مذاکرات اُمتِ مُسلمہ کو مُتحد کرنے کی ایک جُہدِ مسلسل ہے جس سے اُمتِ مُسلمہ ایک مخصوص سمت میں بڑھتی نظر آتی ہے۔  آج ماضی کی کمزور  اور نحیف "او آئی سی" جیسی تنظیم کی بجائے نہ صرف  عالمِ اسلام کا ایک طاقتوربلاک بنتا نظر آرہا ہے بلکہ اس کوشش سے مُسلمان ممالک کے درمیان اختلافات مکمل ختم ہونے یا کم ہونے کی اُمید نظر آرہی ہے۔  پاکستان دُنیا کی واحد اسلامی ایٹمی قوت ہوتے ہوئے نہ صرف خودطاقتور مُلک ہے بلکہ  اپنی طاقت کے  ممکنہ فوائد  اُمت مُسلمہ کو بھی پہنچانے کی کوشش میں مصروف ہے۔  ایران کے خلاف اسرائیلی عزائم کو ناکام بنانے اور اسرائیل ۔ امریکہ ۔ ایران   جنگ بندی   کی  پاکستانی کوششیں شکوک وشبہات سے بالاتر ہیں۔ بالخصوص فیلڈ مارشل کیپوری  اُمت کے لیئے  اس جُستجُو  کو تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔
		فیلڈ مارشل سید عاصم مُنیر نے محض چند دن کے اندر ایران کے دو دورے کیئے ہیں جو کہ ایک غیر معمولی بات ہے۔ یہاں ان کے خلاف ناقدین کی اس سوچ کو بھی ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ  جو پاک سعودی معاہدہ اور  مکہ معاہدہ ہونے کے بعد یہ کہہ رہے تھے کہ "پاکستان ایران کے خلاف کسی سازش کاحصہ بن رہا ہے۔"  ناقدین و حاسدین  کا یہ گروہ  اسلام، اُمتِ مُسلمہ  اتحاد اور امن دُشمن ہے  اور  اسی کی ایک شاخ پاکستان کے اندر بھی  کل تک یہی پرچار کررہی تھی۔  حقیقت یہ ہے کہ  سیدعاصم مُنیر اور مجموعی طور پر پاکستان کی کوششوں سے اُمت کے چار بڑے اور طاقتور ممالک ایک میز پر اکٹھے ہوچکے ہیں۔  گذشتہ کئی صدیوں سے  یہودوہنود کی  سازشوں کا شکار ہوکر اپنے اختلافات کی وجہ سے کمزوری کے  اس انتہائی درجے تک پہنچ چُکی تھی جہاں اسلام دُشمن طاقتیں مُسلمان ممالک کو چُن چُن کر تباہ کررہی تھیں۔ امید کی جانی چاہیئے کہ یہ مذاکرات آنے والے وقت میں اُمتِ مُسلمہ کو بہت سارے بُحرانوں سے نکالنے اورمضبوط بنانے  میں معاون و مددگار  ثابت ہوں گے۔ 
		زیرِ زمین گیس، آئل اور  معدنیات جیسے  دیگر کئی قدرتی وسائل سے مالا مال اسلامی ممالک اگر مل کر ایک سمت میں چلیں تو مُدتوں  سے ترقی یافتہ قوموں کی غلامی سے نجات پا کر عالمِ اسلام خود انحصاری بھی بن سکتا ہے۔ اسی طرح ایران، پاکستان اور تُرکی دفاعی ٹیکنالوجی میں اس قدر ترقی یافتہ ہو چُکے ہیں کہ وہ اُمتِ مُسلمہ کے دفاع کو مضبوط بنانے میں مددگار ہوسکتے ہیں۔  یہی وہ  روشنی اوراُمید کی کرن ہےجس کی غیر موجودگی میں عالمِ اسلام میں مایوسی اور بددلی پھیلی ہوئی تھی۔ یہ  اُمید، یہ روشنی  کی کرن اور  اُمت مُسلمہ کے شاندار مُستقبل کی آس آخر  پیدا کیسے ہورہی ہے؟  یا کیا یہ کوئی  معمولی چیز ہے جسے اگنور کردیاجائے؟ شاید یہی وہ رول تھا جس کے لیئے  پاکستان معرضِ وجود میں آیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہود و ہنود گٹھ جوڑ کو مضبوط پاکستان  اور اس کا بین الاقوامی سیاست میں کردار ایک نظر نہیں بھاتا۔ یہی وہ وجہ  ہے کہ ایک مُدت سے پاکستان کو کمزور کرنےاور اس میں انتشار پھیلانے میں بھارت اور اسرائیل ایڑی چوٹی کا زور لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ 
		 پاکستان دُنیا کا وہ واحد  مُلک ہے جس میں مُسلمانوں کے تمام مسالک   نہ صرف مِل جُل کر امن سے رہتےہیں، ہر عالمی  سازش کے خلاف یک زبان ہوجاتے ہیں اور اسی طرح افواجِ پاکستان کی قیادت بھی مسالکی اختلافات سے بالاتر ہوکرتمام مُسلمانوں کی بھلائی کے لیئے کوشاں ہے۔   ایران۔ اسرائیل ۔ امریکہ جنگ کے عین  درمیان پاکستانی قیادت نے کس قدر تیزی سے نہ صرف سوچا بلکہ اپنی سوچ کو ایک پالیسی اور عملی اقدامات میں بھی تبدیل کرڈالا۔ ایران کے بار بار سعودی عرب اور ترکیہ پر میزائل اور ڈرون حملوں  کے باوجود ان ممالک کے صبر سے کام لینے سے ہی  یہ سب ممکن  ہوا کیونکہ  پاکستانی قیادت  بیک وقت ترکیہ، ایران اور سعودی عرب سے رابطے میں  بھی تھی اور فریقین کو مسلسل  صبر، برداشت اور  تحمل کی تلقین میں بھی مصروف تھی۔  یہی وہ وجہ ہے کہ آج ان تینوں ممالک کے وفود ایران میں ایک ٹیبل پر اکٹھے بیٹھے ہیں۔  
		ایسی شاندار خارجہ پالیسی اور حکمتِ عملی اسلام اور پاکستان دُشمنوں  اور اُن کے پاکستان میں موجود شتونگڑوں کو ہضم کیسے ہوگی؟ کیا اس نئی صورتحال کو بھارت، اسرائیل اور اُن کے پُشت پناہ  بھی ہضم کرپائیں گے؟ اگر امن مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو اس سے فریقین سمیت تمام اُمتِ مُسلمہ کو کتنا فائدہ ہوگا؟  یہی وہ سوالات ہیں جن کے جوابات ان چاروں ممالک نے اگر ڈھونڈ لیئے تو بعید نہیں کہ اُمتِ مُسلمہ تمام کرائسز سے نکل آئے۔  پاکستان اور پاکستانی قیادت جس طرح آج مشرقی و مغربی طاقتوں میں مقبول ہیں اس کا پاکستان  نہ صرف خود بھرپور فائدہ اُٹھا رہا ہے بلکہ اُمت کو بھی  کرائسز سے نکالنے کی کوشش کررہا ہے۔ پاکستانی عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ اس صدی کے وہ معجزات ہیں جنہیں پاکستانی عسکری و سیاسی قیادت ممکن بنانے کی کوشش کررہی ہے لہذا کسی بھی اندرونی یا بیرونی اشارے پر ناچنے کی بجائے قیادت کا اس وقت ساتھ دینا بہت ضروری ہے۔ اسی طرح پاکستانی میڈیا اور دانشوروں کو بھی نہ صرف قیادت کا ساتھ دینا ہے بلکہ قیادت کی اس کوشش کو کامیاب بنانے میں معاون بننا ہے۔ اندرونی و  بیرونی  قرضے میں ڈوبے، اندرونی سیاسی انتشار میں مُبتلا پاکستان نے اپنے سے پانچ گُنا بڑے دُشمن (بھارت) کےدانت بھی کٹھے کیئے اور اُس کے آلہ کار افغانستان کو چنددنوں میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا یہ سب معجزانہ حقائق ہیں۔ ایران کی  ترکیہ اور سعودی عرب، اور  ترکیہ اور سعودی عرب  کی ایران سے مخاصمت،جس میں ماضی کا بڑا عمل دخل ہے، اُسے بُھلا کر ایک ٹیبل پر اکٹھے بیٹھنا بھی  ایک معجزے سے کم نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب سے فیلڈ مارشل سید عاصم مُنیر نے افواجِ پاکستان کی قیادت سنبھالی ہے انہوں نے نہ صرف عسکری میدان بلکہ پاکستان کو ہر طرح سے مضبوط بنانے میں  پاکستان کے عزت اور وقار میں نمایاں اضافہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان اپنا وہ کردار ادا کرےجس کے لیئے اس کے بانی قائدین نے علیحدہ وطن  بنایا تھا۔پاکستان  بین الاقوامی ساکھ کے میدان  میں تو بہت آگے نکل چُکا ہے تاہم  کے  پاکستان  کی اندرونی صورتحال اور پاکستانی قوم کے لیئے بہت کُچھ کرنے کی ضرورت باقی ہے جس پر توجہ دینا بھی از حد ضروری ہے۔

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *