
*پاکستان میں حلال و حرام کا تصور اور ملک کے غریب عوام*
نہایت ہی تکلیف دہ لمحات تھے جب یہ خبر ملی کہ ڈی آئی جی خان میں ایک سکول کی چھت گرنے سے پیارے سے معصوم بچوں کی چھت کے نیچے گر نے سے دب کر جانیں چلی گی، یہ دل ہلا دینے والا حادثہ ہے بہت تکلیف دہ، کرب و ازیت بھرے لمحات تھے ان والدین کے لیے جن کی اولاد صبح سکول آئی اور واپس گھر ژندہ نہیں پہنچی، ان نھنے پھولوں کی جان چلی گی اللّٰہ پاک ان کے والدین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ، ان والدین کے قرب درد اور دکھ کو ساری قوم محسوس کر رہی ہے ہم سب ان کے دکھ میں شریک ہیں، سوجنے کی بات ہے اس واقعے کا ذمہ دار کون ہے ، یہ کوئی پہلا یا انوکھا واقع بھی نہیں کیونکہ ایسے واقعات ہمارے ملک میں بہت عام ہو چکے ہیں آئے دن کسی نہ کسی شہر کے کسی مقام کی خبر ایک معمول بن چکی ہے کچھ عرصہ پہلے کراچی کے ایک گنجان ابادی کے علاقے میں ایک عمارت گرنے سے متعدد لوگ ہلاک و زخمی ہوئے امدادی کارروائیوں کے ساتھ ہی یہ دعوے منظر عام پہ آئے کہ اس علاقے میں پرانی اور مخدوش بہت سی دیگر عمارتیں ہیں جو کسی بھی وقت کسی نئے حادثے کا سبب بن سکتی ہیں لیکن وہ دعوے بھی کچھ عرصے بعد بھول بھلیوں کی خاک میں مل کر کہیں گم ہی ہو گئے۔
ایسے کسی بھی حادثے میں غریب کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا ابتدا میں اہل علاقہ یا محلے دار کچھ داد رسی ضرور کرتے ہیں لیکن اس کے بعد غریبوں کو صرف اپنی مدد آپ کے تحت ہی جینا ہوتا ہے چاہے وہ گھر کی مرمت ہو روزمرہ کے اخراجات کھانا پینا ہو سب کچھ انہیں خود کرنا ہوتا ہے نہ کوئی حکومتی امداد نہ کسی فلاحی ادارے کا تعاون نہ ہی کوئی اور سہارا، البتہ ان کی مظلومیت کو کیش کرنے کے لیے بارہا میڈیا رپورٹس اور فوٹو سیشنز کی بھرمار کچھ عرصہ ضرور جاری رہتی ہے۔
جو غریب ژندہ ہیں وہ سب بھی اپنی مدد آپ کے تحت زندگی کی گاڑی گھسیٹتے ہی نظر آئیں گے یا پھر مہنگائی طلم اور مشکلات و مصائب سے تنگ آ کر جرم کی راہ اختیار کریں گے، یا اجتماعی قتل و خودکشی کا راستہ چنیں گے یا عزتیں نیلام کریں گے یا کہیں وڈیروں، چوہدریوں کی غلامی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے۔
ارباب اختیار تک اول تو غریب کی رسائی ہی ممکن نہیں ہوتی اگر کسی زریعے یا واسطے سے کوئی وہاں تک پہنچ بھی جائے تو اس سے ایک درخواست لے لی جاتی ہے اور ایک عدد وعدہ کے ساتھ رخصت کر دیا جاتا ہے۔ پیٹرول، گیس، بجلی اور اشیائے ضرورت ہر غریب کی پہنچ سے دن بدن دور سے دور ہوتی جا رہی ہیں، پہلے صرف خون نچوڑا جاتا تھا اب تو ہڈیوں کا گودا بھی ختم ہوتا جا رہا ہے۔
ملک کا غریب، غربت کی لکیر سے کئیں گنا نیچے تو پہلے ہی تھا اب تو ژندہ درگور ہوتا جا رہا ہے بلکہ جینے سے زیادہ مرنا اور مہنگا ہو چکا ہے کیونکہ کفن دفن کے اخراجات بھی غریب کے لیے کسی عزاب سے کم نہیں ہے، کیونکہ مرنے والا تو دنیا سے چلا جاتا ہے اور منوں مٹی تلے دب جاتا ہے جبکہ پیچھے رہ جانے والے اس کے مرنے کے بعد کے قرضوں تلے دب جاتے ہیں۔
ستم بالائے ستم یہ کہ پاکستانی ہونے کی وجہ سے تن پہ کپڑا، پاؤں میں جوتی یا پیٹ کے روٹی ہو یا نہ ہو طرح طرح کے جائز و ناجائز ٹیکسز کی ادائیگی، ملکی قرضوں کی ادائیگی یا مختلف بہانوں کے چالان بہرحال عوام کو ادا کرنے ہی کرنے ہیں بیشک ان قرضوں میں سے ایک روپیہ بھی عوام پہ خرچ نہ ہوا ہو یا انہیں کوئی سہولت یا فائیدہ میسر ہوا ہو، غریب کا کام صرف خاموشی کے ساتھ ادائیگیاں کرنا ہی ہے یا پھر سرکاری تعام و قیام کی سہولت سے فیضیاب ہونا پڑے گا۔ جس سے نجات کے لیے ہزاروں یا لاکھوں کی بھرپائی سے ہی ممکن ہو سکتی ہے۔
ان اسباب کی ایک بڑی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں حلال و حرام کا تصور تقریباً ناپید ہو چکا ہے حرام وہ نہیں کھا رہا جسے موقع نہیں مل رہا ایک وقت تھا جب چند پیسے فی کلو چینی کے اضافے نے حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا، کیونکہ عوام کے پیٹ میں لقمہ حلال موجود تھا لیکن دور حاضر میں ہم اپنے دین سے اس قدر دور ہوتے جا رہے ہیں کہ چور بازاری، ناپ تول میں کمی، زائد منافع خوری، زخیرہ اندوزی، جھوٹی قسمیں کھا کر سامان بیچنا، کنڈوں سے بجلی چوری کرنا، دھوکہ، فریب، بدچلنی، بے راہ روی، جعلی انڈے، مصنوعی چاول، کیمیکل سے بنا دودھ، کتے، گدھے، مینڈک کا گوشت، ہر چیز میں کھلی ملاوٹ، قدم قدم پر رشوت لینا اور دینا، جہیز اور دیگر مطالبات کی وجہ سے بچیوں کی رشتوں کی اس میں عمریں گزر جانا، فحاشی کو عام اور نکاح کو محدود کرنا اللّٰہ تعالیٰ پہ بھروسہ کا کرنے کے بجائے لوگوں پہ انحصار کرنا جیسے عوامل سے نہ صرف ہم اپنی دنا بگاڑ رہے ہیں بلکہ آخرت بھی خراب کرتے جا رہے ہیں۔
اسٹریٹ کرائم میں بے پناہ اضافہ، قتل و غارتگری معمول کا حصہ، یتیموں، بیواؤں، ب،رگوں، لاوارث افراد کی بھرمار کی وجہ سے ملک میں فقیروں، بھیک منگوں، ٹھگوں، آنلائن اور دیگر فراڈیوں، کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کا نہ کسی کو احساس ہے اور نہ کوئی پرسان حال۔
