
سرگودھا کے نواحی علاقے بھاگٹانوالہ، چک نمبر 51 جنوبی کا رہنے والا اُس کا نام تھا شہزادہ جیسے نام ہی اس کے تقدیر کی عظمت بول رہا تھا۔ وہ علاقے کا معروف اور محبوب نوجوان تھا، جسے ہر کوئی اپنی آنکھوں کا تارا کہتا تھا۔ شہزادہ کا تعلق ایک متوسط لیکن باوقار گھرانے سے تھا۔ وہ ہمیشہ اپنی جرأت، محنت اور وطن سے محبت کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا۔ چک 51 جنوبی کی گلیوں، کھیتوں اور لوگوں کی دھڑکنوں میں وہ اس طرح سمایا ہوا تھا جیسے اس خطے کی مٹی کا ایک لازمی حصہ ہو۔
وہ پاکستان کی ہیلی کاپٹر فورس میں ایک اہم ذمہ داری انجام دے رہا تھا، جہاں اس نے اپنی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کی بدولت نہ صرف اعلیٰ افسران بلکہ اپنے ساتھیوں کے دلوں میں بھی جگہ بنا لی تھی۔ لیکن تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ایک دن اُس کے لیے آیا، جس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ ایک آپریشن یا تربیتی مشن کے دوران، جس کی تفصیلات وقت کے ساتھ دھندلاتی جاتی ہیں، مگر وہ گھڑی ہر اس شخص کے ذہن میں نقش ہے جس نے شہزادہ کو جانتا تھا — اس کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا۔حادثہ اتنا شدید تھا کہ کسی کے زندہ بچ نکلنے کی توقع نہیں تھی۔ اور پھر وہ خبر آئی جس نے پورے بھاگٹانوالہ کو چیخ اٹھنے پر مجبور کر دیا: شہزادہ شہید ہو گیا۔ اس کی شہادت کی خبر جیسے پوری وادی میں سنسان پھیلا گئی۔ چک 51 جنوبی کی ہر گلی، ہر گھر، ہر کچا پختہ راستہ سوگ میں ڈوب گیا۔ لوگ اپنی آنکھوں سے اعتبار نہ کر پاتے تھے۔ عورتوں کی چیخیں، بچوں کی آنکھوں میں آنسو، اور بوڑھوں کی دعاؤں میں شدّت آ گئی۔ شہزادہ کو جب آخری بار علاقے میں لایا گیا تو پورا علاقہ اس کی تابوت کے ساتھ چل پڑا۔ نمازِ جنازہ میں اتنا ہجوم تھا کہ گویا پورا ضلع سرگودھا اُس ایک سپوت کو خراجِ عقیدت پیش کرنے نکل پڑا تھا۔ آج بھی جب بھاگٹانوالہ کی بات ہوتی ہے، جب چک 51 جنوبی کا ذکر آتا ہے، تو لوگ نگاہیں آسمان کی طرف اُٹھا کر کہتے ہیں: “شہزادہ آج بھی ہمارے درمیان ہے، بس وہ پرواز میں ہے جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا شہزادہ نے ثابت کر دیا کہ دیہات کا ایک معمولی سا لڑکا بھی قوم کے لیے باعثِ فخر بن سکتا ہے۔ اس کی شہادت اُس عزم اور محبت کی داستان ہے جو اس کی مٹی سے اٹھتا ہے اور آسمان کی بلندیوں کو چھو لیتا ہے۔