شیشے کا محل اور عام انسان

شیشے کا محل اور عام انسان
تحریر طاہر مغل

آج کے اس ترقی یافتہ دور میں جہاں کچھ لوگ شیشے کے جھلملاتے محلات میں رہتے ہیں، وہیں لاکھوں انسان چھت کی ایک بوند، بجلی کی ایک کرن اور روٹی کے ایک لقمے کے لیے تڑپ رہے ہیں۔ شیشے کے ان محلات میں بیٹھے لوگ شاید کبھی سوچ بھی نہیں سکتے کہ ایک غریب گھرانے کی صبح کیسے شروع ہوتی ہے جب وہ سوچتا ہے کہ آج کا کھانا کہاں سے لائے میٹر کی سوئی کہاں رکے گی اور گیس کا بل کس طرح ادا ہوگا۔پاکستان میں روزگار مہنگائی اور ٹیکسوں کا معاملہ ایسے ہے جیسے غریب آدمی کی پہلے سے جلی جھونپڑی پر پٹرول ڈال کر بمب پھینکا جائے۔ ایک نیا ٹیکس، ایک نئی پالیسی، ایک نیا شارٹ ٹرم فیصلہ یہ سب اس غریب کے کندھوں پر ایسے گرتے ہیں جیسے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ وہ والدین جو اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کے لیے ایک ایک پیسہ جوڑتے ہیں، آج وہی والدین سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا تعلیم ضروری ہے یا روٹی؟ وہ عورت جو گھر میں سلائی کر کے گھر کا خرچ چلاتی ہے، اس پر بجلی کا نیا نیا ٹیکس ایسا اثر کرتا ہے جیسے اس کی پوری محنت بیکار ہو جائے۔ جب حکومت پالیسیاں بناتی ہے تو شاید وہ اعداد و شمار دیکھتی ہے چارٹ دیکھتی ہے، عالمی مالیاتی اداروں کی رپورٹس دیکھتی ہے، مگر شاید وہ وہ آنکھیں نہیں دیکھ پاتی جو رات کو بھوکے بچوں کو سلانے کے لیے کہانیاں سناتی ہیں۔ وہ دل نہیں دیکھ پاتی جو مہینے کی بیسویں تاریخ کو سوچتا ہے کہ بچا ہوا پانچ سو روپے کس بل کے لیے رکھے۔یہ وہی معاشرہ ہے جہاں ایک غریب اپنی محنت اپنی عزت اور اپنے خوابوں کے ساتھ جدوجہد کر رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کی آواز سنی جائے، اس کے دکھ کو سمجھا جائے، اور اس پر ایسے ٹیکس نہ ڈالے جائیں جو اسے جینے کا حق چھین لیں۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ شیشے کا محل صرف اس وقت خوبصورت ہے جب وہاں کے باشندے شیشے کے اس پار کھڑے انسان کو دیکھ سکیں اس کی آنکھوں میں اپنا عکس نہیں بلکہ اس کا دکھ دیکھ سکیں۔ ہمیں ایسی پالیسیاں چاہییں جو انسانیت کو مرکز میں رکھیں ایسے ٹیکس جو کمزور کندھوں پر بوجھ نہ بنیں بلکہ مضبوط بازوؤں کا سہارا بنیں۔معاشرے کی حقیقی ترقی اس کی عمارتوں کی بلندی میں نہیں بلکہ اس کے غریب ترین فرد کی مسکراہٹ میں پوشیدہ ہے۔ زندگیاں بسر کر رہے ہیں کب تک ان شیشے کے محلوں کے سائے تلے اپنا وجود گنواتے رہیں گے؟ کب تک ان وڈیروں کی شان و شوکت اسی عوام کے لہو سے سیراب ہوتی رہے گی، جس کے پاس اپنی باتیں کرنے کو زبان بھی نہیں رہی؟
اور جمہوریت جس کا نام لے کر ہر مسئلے کا حل ڈھونڈ لیا جاتا ہے کیا وہ واقعی عوام کے لیے ہے یا صرف ایک پردہ ہے جس کے پیچھے اسی عوام کے ساتھ زیادتیاں رچائی جاتی رہیں گی؟

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *